دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے
دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے ہر ایک شخص یہاں اک فسانہ رکھتا ہے کسی بھی حال میں راضی نہیں ہے دل ہم سے ہر اک طرح کا یہ کافر بہانہ رکھتا ہے ازل سے ڈھنگ ہیں دل کے عجیب سے شاید کسی سے رسم و رہ غائبانہ رکھتا ہے کوئی تو فیض ہے کوئی تو بات ہے اس میں کسی کو دوست یونہی کب زمانہ رکھتا ...