قومی زبان

دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے

دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے ہر ایک شخص یہاں اک فسانہ رکھتا ہے کسی بھی حال میں راضی نہیں ہے دل ہم سے ہر اک طرح کا یہ کافر بہانہ رکھتا ہے ازل سے ڈھنگ ہیں دل کے عجیب سے شاید کسی سے رسم و رہ غائبانہ رکھتا ہے کوئی تو فیض ہے کوئی تو بات ہے اس میں کسی کو دوست یونہی کب زمانہ رکھتا ...

مزید پڑھیے

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہئے

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہئے ہو کا مقام ہے کوئی دیوانہ چاہئے ہے اس میں قید شہر نہ ویرانہ چاہئے بہر فراغ طبع فقیرانہ چاہئے گنجائش تصور یک لفظ بھی نہیں یاں ہر کسی کے واسطے افسانہ چاہئے یاں ہر قدم ہے محشر امکان نو بہ نو یاں ہر قدم پہ سجدۂ شکرانہ چاہئے جب تک کہ ہیں زمانے میں ...

مزید پڑھیے

دن ہو کہ رات، کنج قفس ہو کہ صحن باغ

دن ہو کہ رات، کنج قفس ہو کہ صحن باغ آلام روزگار سے حاصل نہیں فراغ رغبت کسے کہ لیجئے عیش و طرب کا نام فرصت کہاں کہ کیجیے صہبا سے پر ایاغ ویرانۂ حیات میں آسودہ خاطری کس کو ملا اس آہوئے رم خوردہ کا سراغ آثار کوئے دوست ہیں اور پا شکستگی خوشبوئے زلف یار ہے اور ہم سے بے دماغ کس کی ...

مزید پڑھیے

شاعر

نہ جانے کتنے ہی ماضی کے خواب بکھرے ہیں فسردہ بھیگی ہوئی سوگوار پلکوں پر جنوں ہے یا کہ خرد اس نگاہ کا مفہوم خلا میں ڈھونڈ رہا ہے کوئی نہ جانے کیا نگاہ دیکھ رہی ہیں پرے زمانے سے ہے کھویا کھویا ہوا رمز زندگی گویا فسانۂ غم جاناں ہے یا غم دنیا مچل رہے ہیں ان آنکھوں میں آرزو کے ...

مزید پڑھیے

اردو

زندگی بھیس بدل کر جہاں فن بنتی ہے میرؔ و غالبؔ کا وہ انداز بیاں ہے اردو کبھی کرتی ہے ستاروں سے بھی آگے منزل چشم اقبال سے گویا نگراں ہے اردو ساتھ انشا کے کبھی ہنستی ہے دل کھول کے وہ بہر‌‌ فانی کبھی مصروف فغاں ہے اردو حاصل بزم ہے اور بزم کو تڑپاتی ہے جان مے خانہ ہے میخانۂ جاں ہے ...

مزید پڑھیے

ناامیدی کفر ہے

تم جو مغرب کی جگالی سے کبھی تھکتے نہیں تم کو کیا معلوم ہے تخلیق کا جوہر کہاں فلسفی بنتے ہو اپنے آپ سے پوچھو کبھی کھو گیا ہے روح کا گوہر کہاں تم دل و جاں سے مشرق کی پرستاری کرو کیا برہمن کے سوا کچھ اور ہو کیا کسی کی مشرق و مغرب میں دل داری ہوئی بھوک سے بے حال ہیں جو ان کی غم خواری ...

مزید پڑھیے

پھول کھلا بے حجاب

درد کی سوغات تھی راہ کے ملبوس تھے کانٹوں کے ہار موڑ بہت آئے ہیں نام رکھا دشت و در اور اسی دشت میں تو بھی تھی خانہ خراب میں بھی خانہ خراب ٹل ہی گئی ساعت قحط دمشق ہوش سوا ہے مگر ہوش نہیں آئے گا جیسے بہم شبنم و گل ہوں یوں ہی خواب عشق شبنم تعبیر سے موج جنوں خیز ہے چشم فسوں ساز نے ایک ...

مزید پڑھیے

خواب فراموش

دل کی دھڑکن سے عیاں ذہن کے پردوں میں نہاں دھندلا دھندلا سا وہ اک عکس ترے چہرے کا ایک مدت ہوئی دیکھا تھا تجھے خال و خط یاد نہ آئے مجھ کو صبح دم جیسے کوئی سوچ رہا ہو بیٹھا رات کیا خواب نظر آیا تھا اور اک عمر گزر جانے پر دفعتاً میری تمنا کی طرح آئینہ خانۂ تصویر میں آج جل اٹھیں تیرے خط ...

مزید پڑھیے

خوش آمدید

آج اس بزم میں آئے ہو بڑی دھوم کے ساتھ بے خودی محو نظارہ ہے تمہاری خاطر یاد آتے ہیں وہ ایام جدائی ہم کو جنہیں ہنس ہنس کے گزارہ ہے تمہاری خاطر گو مع لطف سے خالی نہیں پندار جنوں یاں غم عشق کا یارا ہے تمہاری خاطر رنج اٹھانا تو کوئی بات نہیں ہے لیکن زہر پینا بھی گوارا ہے تمہاری ...

مزید پڑھیے

جاگتی آنکھوں میں آنا چھوڑ دو

جاگتی آنکھوں میں آنا چھوڑ دو جاگنا خود اور جگانا چھوڑ دو اس کی یادیں اس کی باتیں اس کا پیار آپ یہ قصہ پرانا چھوڑ دو پورے من سے میں سمرپت ہوں تمہیں تم مری قیمت لگانا چھوڑ دو جب تمہارے دل میں نفرت ہے تو پھر اس طرح ملنا ملانا چھوڑ دو لوگ کمزوری بنا لیں گے اسے اس طرح آنسو بہانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5138 سے 6203