قومی زبان

وہ غنچہ ہوں جو بن کھلے مرجھائے چمن میں (ردیف .. ا)

وہ غنچہ ہوں جو بن کھلے مرجھائے چمن میں وہ اشک ہوں جو زینت داماں نہیں ہوتا زنداں میں بھی ٹکرائے ہیں زنجیر کے حلقے کب جوش جنوں دست و گریباں نہیں ہوتا کیوں خال سیہ عارض گلگوں پہ ہے مائل ہندو تو کوئی مائل قرآں نہیں ہوتا جوہر نہ ہوں تو تیغ ہے فولاد کا ٹکڑا انسان فقط کہنے سے انساں ...

مزید پڑھیے

بہائے شبنم نے اشک پیہم نسیم بھرتی ہے سرد آہیں (ردیف .. ا)

بہائے شبنم نے اشک پیہم نسیم بھرتی ہے سرد آہیں نہ صوت بلبل میں ہے ترنم ہر ایک نغمے کا تار بدلا نہ رند کو لطف مے کشی ہے نہ زاہدوں کو نماز کی دھن عذاب بدلا ثواب بدلا شراب بدلی خمار بدلا چمن کی دلچسپیاں کہاں ہیں نہ چہچہے ہیں نہ قہقہے ہیں قدم جمائے ہیں کیا خزاں نے کہ آج رنگ بہار ...

مزید پڑھیے

پروردگار دے مجھے غیرت شعار آنکھ

پروردگار دے مجھے غیرت شعار آنکھ پاس‌ و لحاظ مہر کی سرمایہ دار آنکھ کیا شان ہے فراست مومن کی دیکھنا انوار کبریا کی ہے منت گزار آنکھ گر آنکھ دے خدا تو بصیرت عطا کرے خاکستر جہاں سے نہ ہو پر غبار آنکھ

مزید پڑھیے

مسلماں غور کر کیوں آج تیری (ردیف .. ے)

مسلماں غور کر کیوں آج تیری وہ پہلی آبرو باقی نہیں ہے مصائب غیر کے پیش نظر ہیں رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے غضب ہے بھائی کا دشمن ہے بھائی اخوت کی وہ خو باقی نہیں ہے مصائب غیر کے پیش نظر ہیں خود اپنی جستجو باقی نہیں ہے کیا پیرہن دیں اس طرح چاک کہ اب جائے رفو باقی نہیں ہے عنادل ...

مزید پڑھیے

تیری نگاہ ناز بڑی کارگر گئی

تیری نگاہ ناز بڑی کارگر گئی میرے مذاق دید کو بیکار کر گئی ہوگا ضرور پاس وفا ان کو ایک دن بس اس خیال میں ہی جوانی گزر گئی اپنے شکستہ حال کا ممکن نہ تھا علاج تم نے نظر ملائی تو دنیا سنور گئی یوں کٹ گئی خیال میں ان کے شب فراق یہ بھی خبر بنیں کدھر آئی کدھر گئی دیکھے تو کوئی جذب محبت ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر کا جو فتنہ رہا تھا

زمانے بھر کا جو فتنہ رہا تھا وہی تو گاؤں کا مکھیا بنا تھا مری شہرت کے پرچم اڑ رہ تھے مگر میں دھوپ میں تنہا کھڑا تھا ہزاروں راز تھے پوشیدہ مجھ میں میں اپنے آپ سے چھپ کر کھڑا تھا بہت سے لوگ اس کو دیکھتے تھے وہ اونچے پیڑ پر بیٹھا ہوا تھا پرانا تھا مداری کا تماشا مگر وہ بھیڑ تھی ...

مزید پڑھیے

نگری نگری گھوم رہے ہیں الفت کے دیوانے چند

نگری نگری گھوم رہے ہیں الفت کے دیوانے چند پاؤں شکستہ تن زخمی ہیں ہاتھوں میں پیمانے چند جیتی دھوپ سسکتی آہیں جہد مسلسل زخم دل ہائے رے اس مزدور کی حالت جس کی قسمت دانے چند ایسا کال نہ دیکھا ہم نے ویسے دیکھے کال بہت میخانے میں سب ہی پیاسے لیکن ہیں پیمانے چند ہم سے روٹھ کے جانے ...

مزید پڑھیے

نہیں نام و نشاں سائے کا لیکن یار بیٹھے ہیں

نہیں نام و نشاں سائے کا لیکن یار بیٹھے ہیں اگے شاید زمیں سے خود بہ خود دیوار بیٹھے ہیں سوار کشتی امواج دل ہیں اور غافل ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم دریائے غم کے پار بیٹھے ہیں اجاڑ ایسی نہ تھی دنیا ابھی کل تک یہ عالم تھا یہاں دو چار بیٹھے ہیں وہاں دو چار بیٹھے ہیں پھر آتی ہے اسی صحرا سے ...

مزید پڑھیے

جب بھی کوئی بات کی آنسو ڈھلکے ساتھ

جب بھی کوئی بات کی آنسو ڈھلکے ساتھ ہم بھی پاگل ہو گئے من پاگل کے ساتھ رات کو کالی چاندنی دن کو کالی دھوپ ڈھونڈیں آنکھیں روشنی رہیں دھندلکے ساتھ ماریں ٹامک ٹوئیے اندھیارے میں لوگ تارے سارے بجھ گئے دل کے کنول کے ساتھ آج ہے من میں رن پڑا آج کی رکھو لاج جھوٹی کل کی دوستی جھوٹے کل ...

مزید پڑھیے

ہے جو تاثیر سی فغاں میں ابھی

ہے جو تاثیر سی فغاں میں ابھی لوگ باقی ہیں کچھ جہاں میں ابھی دل سے اٹھتا ہے صبح و شام دھواں کوئی رہتا ہے اس مکاں میں ابھی ساتھ ہے ایک عمر کا لیکن کشمکش سی ہے جسم و جاں میں ابھی مر نہ رہیے تو اور کیا کیجے جان ہے جسم ناتواں میں ابھی اور کچھ دن خراب ہو لیجے سود اپنا ہے اس زیاں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5134 سے 6203