قومی زبان

سب کے ہونٹوں پر ہمیشہ اس کا افسانہ رہے

سب کے ہونٹوں پر ہمیشہ اس کا افسانہ رہے سارا عالم میرے دیوانے کا دیوانہ رہے ساقیا یوں ہی ہمیشہ حال مے خانہ رہے رقص میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے دل کا عالم دیکھ میری یاد میں یوں غرق ہے شمع پر جیسے تصدق کوئی پروانہ رہے گھر میں بچے بھوک سے بیتاب ہیں بے حال ہیں باپ لیکن سوچتا ہے ...

مزید پڑھیے

یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی

یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی اب وہ دشمن ہے تو پھر اس سے مروت کیسی سوچتے سوچتے یہ عمر گزر جائے گی آنے والی ہے خدا جانے مصیبت کیسی جب چراغوں کی حفاظت نہیں ہوتی تم سے پھر اندھیرا ہے گھروں میں تو شکایت کیسی چھین لے اپنی سبھی نعمتیں پہلے مجھ سے پھر یہ احساس دلا ہوتی ہے غربت ...

مزید پڑھیے

بے قراری ہو مگر پھر بھی قرار آ جائے

بے قراری ہو مگر پھر بھی قرار آ جائے وہ پلٹ کر بھی جو دیکھے تو بہار آ جائے گفتگو ایسی کرو دل کو قرار آ جائے جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے کیوں نظر آئے بھلا عکس محبت اس میں دل کے شیشے پہ اگر گرد و غبار آ جائے تیری آنکھوں میں ہے بنگال کا جادو اب بھی تو جہاں دیکھے وہاں تیرا ...

مزید پڑھیے

گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا

گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا اتنی گہری نیند تو پہلے کبھی سویا نہ تھا نشۂ آوارگی جب کم ہوا تو یہ کھلا کوئی بھی رستہ مرے گھر کی طرف جاتا نہ تھا کیا گلہ اک دوسرے سے بے وفائی کا کریں ہم نے ہی اک دوسرے کو ٹھیک سے سمجھا نہ تھا گل نہ تھے جس میں وہ گلشن بھی تھا جنگل کی ...

مزید پڑھیے

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب ان وسوسوں میں میری عبادت بھی ہے فریب دریا و دشت اور سمندر بھی ہیں سراب دن کا اجالا رات کی ظلمت بھی ہے فریب تیرا ہر اک خیال بھی اک خوشنما گمان دنیا ہی کیا خود اپنی حقیقت بھی ہے فریب پرچھائیں کے سوا تو نہیں ہیں ہم اور کچھ یہ رنگ و نور اور یہ ...

مزید پڑھیے

بادباں کو گلہ ہواؤں سے

بادباں کو گلہ ہواؤں سے اور مجھ کو ہے ناخداؤں سے دشمنوں سے بھی اب نہیں لڑتا پہلے لڑتا تھا میں ہواؤں سے گاؤں میں لگ رہا ہے پھر میلا بچے بچھڑیں گے کتنے ماؤں سے لوگ محنت کے بیچ بوئیں گے جب بھی فرصت ملی دعاؤں سے حبس سے بجھ گیا دیا گھر کا میں بچاتا رہا ہواؤں سے میرے کھیتوں کو اس ...

مزید پڑھیے

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا میں کسی قبر کے نشاں جیسا میں نے ہر حال میں کیا ہے شکر اس نے رکھا مجھے جہاں جیسا ہو گئی وہ بہن بھی اب رخصت پیار جس نے دیا تھا ماں جیسا فاصلہ کیوں دلوں میں آیا ہے گھر کے آنگن کے درمیاں جیسا میرے دل کو ملا نہ لفظ کوئی میرے اشکوں کے ترجماں جیسا میرے اک شعر ...

مزید پڑھیے

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل یہ زندگی بھی خواب ہے تو خواب سے نکل سورج سے اپنے بچھڑی ہوئی اک کرن ہے تو تیرا نصیب جسم کے برفاب سے نکل تو مٹی پانی آگ ہوا میں ہے قید کیوں ہونے کا دے جواز تب و تاب سے نکل پھولوں میں چاند تاروں میں سورج میں اس کو دیکھ ان پتھروں کے منبر و محراب سے ...

مزید پڑھیے

چشم مشتاق تماشائے کرم چاہے ہے

چشم مشتاق تماشائے کرم چاہے ہے دل وہ برباد کرم ہے کہ ستم چاہے ہے دیر چاہے ہے نہ ظالم نہ حرم چاہے ہے تیرا دیوانہ ترا نقش قدم چاہے ہے مجھ سے قائم ہے وقار مے و مینا ساقی میں وہ میکش ہوں جسے شیخ حرم چاہے ہے

مزید پڑھیے

طپش دل نہ رہی سوزش جاں باقی ہے

طپش دل نہ رہی سوزش جاں باقی ہے شعلۂ عشق کہاں صرف دھواں باقی ہے بے حسی میں بھی یہ احساس رہا ہے اکثر ایک نشتر سا قریب رگ جاں باقی ہے مے کشو گردش دوراں سے ہراساں کیوں ہو سر مے خانہ ابھی ابر رواں باقی ہے ذکر آتا ہے جفاؤں کا ترے نام کے ساتھ دل برباد کا اتنا تو نشاں باقی ہے مدتیں ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5068 سے 6203