بدلے گا رخ ہوا کبھی تو
بدلے گا رخ ہوا کبھی تو کھل جائے گا راستہ کبھی تو غفلت پہ خود اپنی چونک اٹھے گا سن کر وہ مری صدا کبھی تو ہو جائے گا منکشف بھی خود پر دیکھے گا وہ آئنہ کبھی تو کب تک یہ ادائے بے نیازی ٹوٹے گا یہ سلسلہ کبھی تو کھولے گا وہ مجھ پہ باب رحمت سن لے گا مری دعا کبھی تو قائم ہے امید پر ہی ...