قومی زبان

جانے کس عالم احساس میں کھوئے ہوئے ہیں

جانے کس عالم احساس میں کھوئے ہوئے ہیں ہم ہیں وہ لوگ کہ جاگے ہیں نہ سوئے ہوئے ہیں اپنے انجام کا دیکھے گا تماشا کبھی وہ جیتے جی ہم تو ابھی سے اسے روئے ہوئے ہیں داغ مٹتا نہیں کچھ اور نمایاں ہوا ہے اپنے ہاتھ آپ نے کس چیز سے دھوئے ہوئے ہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ مکافات عمل کاٹتے ...

مزید پڑھیے

بہ ظاہر یہ وہی ملنے بچھڑنے کی حکایت ہے

بہ ظاہر یہ وہی ملنے بچھڑنے کی حکایت ہے یہاں لیکن گھروں کے بھی اجڑنے کی حکایت ہے سپہ سالار کچھ لکھتا ہے تصویر ہزیمت میں مگر یہ تو عدو کے پاؤں پڑنے کی حکایت ہے کنیز بے نوا نے ایک شہزادے کو چاہا کیوں محبت زندہ دیواروں میں گڑنے کی حکایت ہے کھلی آنکھیں تو کاندھوں پر کتابوں سے بھرا ...

مزید پڑھیے

کبھی تو آ کے ملو میرا حال تو پوچھو

کبھی تو آ کے ملو میرا حال تو پوچھو کہ مجھ سے چھوٹ کے بھی آج کیسے زندہ ہو جوانیوں کی یہ رت کس طرح گزرتی ہے بس ایک بار تم اپنی نظر سے دیکھ تو لو وہ آرزوؤں کا موسم تو کب کا بیت چکا میں کب سے جھیل رہا ہوں دکھوں کے صحرا کو مسرتوں کی رتیں تو تمہارے ساتھ گئیں میں کیسے دور کروں روح کی ...

مزید پڑھیے

گرتے ابھرتے ڈوبتے دھارے سے کٹ گیا

گرتے ابھرتے ڈوبتے دھارے سے کٹ گیا دریا سمٹ کے اپنے کنارے سے کٹ گیا موسم کے سرد و گرم اشارے سے کٹ گیا زخمی وجود وقت کے دھارے سے کٹ گیا کیا فرق اس کو جڑ سے اکھاڑا گیا جسے ٹکڑے کیا تبر نے کہ آرے سے کٹ گیا تنہائی ہم کنار ہے صحرا کی رات بھر کیسے میں اپنے چاند ستارے سے کٹ گیا چلتا ہے ...

مزید پڑھیے

میں لکھ کر ہو سکوں گا سرخ رو کیا

میں لکھ کر ہو سکوں گا سرخ رو کیا قلم کیا اور قلم کی آبرو کیا نہ سوچا کاٹنے والے نے اتنا ہری ڈالی کی تھی کچھ آرزو کیا ذرا جاگے تو ہم سینہ سپر ہوں انا کو جو سلا دے وہ لہو کیا زمیں کو آب و دانہ دے کے دیکھو کھلا دیتی ہے گلزار نمو کیا عدو کو زیر کر لو فاصلوں سے لڑائی اب ہے لازم دو بہ ...

مزید پڑھیے

گھنی آبادیوں کی بے امانی کا تماشا کر

گھنی آبادیوں کی بے امانی کا تماشا کر نکل کر گھر سے مرگ ناگہانی کا تماشا کر جو زندہ آگ میں ڈالے گئے لاشیں نہ گن ان کی جو بچ نکلے ہیں ان کی سخت جانی کا تماشا کر جو تخت و تاج کے مالک ہیں کیا وہ معتبر بھی ہیں شر انگیزی میں ڈوبی حکمرانی کا تماشا کر بچا کیا رہ گیا کالک بھرے جھلسے ...

مزید پڑھیے

اک بے نشان حرف صدا کی طرف نہ دیکھ

اک بے نشان حرف صدا کی طرف نہ دیکھ وہ دور جا چکا ہے ہوا کی طرف نہ دیکھ آباد کر لے دیدہ و دل میں صنم کدے کہتا ہے وہ کہ ایک خدا کی طرف نہ دیکھ اپنی ہی عافیت کی تگ و دو میں محو رہ اس سر زمین آہ و بکا کی طرف نہ دیکھ اپنے افق کی تنگ فضا سے ہی کام رکھ میدان حشر دشت بلا کی طرف نہ دیکھ کر لے ...

مزید پڑھیے

اپنی سچائی کا آزار جو پالے ہوئے ہیں

اپنی سچائی کا آزار جو پالے ہوئے ہیں خود کو ہم گردش آفات میں ڈالے ہوئے ہیں بند مٹھی میں جو خوشبو کو سنبھالے ہوئے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں ہیں تو آباد مگر در بدری کی زد پر وہ بھی میری ہی طرح گھر سے نکالے ہوئے ہیں اپنی رفتار سے آگے بھی نکل سکتا ہوں مجھ پہ کب حاوی ...

مزید پڑھیے

تاج زریں نہ کوئی مسند شاہی مانگوں

تاج زریں نہ کوئی مسند شاہی مانگوں میں تو بس اپنے ہی ہونے کی گواہی مانگوں مجھ کو سقراط کا منصب نہیں حاصل کرنا کیا میں سچ بول کے اپنی ہی تباہی مانگوں ہار جاؤں گا تو مٹی کے قدم چوموں گا گرتی دیوار سے کیا پشت پناہی مانگوں زیب دیتا ہے مرے تن پہ فقیری کا لباس کسی دربار سے کیا خلعت ...

مزید پڑھیے

بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے

بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے زباں پہ کانٹوں کا احساس بھی غنیمت ہے رواں ہے سانس کی کشتی اسی کے دھارے پر یہ ایک ٹوٹی ہوئی آس بھی غنیمت ہے نشاں نمو کے ہیں کچھ تو بساط صحرا پر جھلستی جلتی ہوئی گھاس بھی غنیمت ہے پھر اس کے بعد تمہاری شناخت کیا ہوگی روایتوں کی یہ بو باس بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5058 سے 6203