جانے کس عالم احساس میں کھوئے ہوئے ہیں
جانے کس عالم احساس میں کھوئے ہوئے ہیں ہم ہیں وہ لوگ کہ جاگے ہیں نہ سوئے ہوئے ہیں اپنے انجام کا دیکھے گا تماشا کبھی وہ جیتے جی ہم تو ابھی سے اسے روئے ہوئے ہیں داغ مٹتا نہیں کچھ اور نمایاں ہوا ہے اپنے ہاتھ آپ نے کس چیز سے دھوئے ہوئے ہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ مکافات عمل کاٹتے ...