قومی زبان

قلب و نظر کا سکوں اور کہاں دوستو

قلب و نظر کا سکوں اور کہاں دوستو کوئے بتاں دوستو کوئے بتاں دوستو میرا ہی دل ہے کہ میں پھرتا ہوں یوں خندہ زن کم نہیں پردیس میں دل کا زیاں دوستو جن میں خلوص وفا اور نہ شعور ستم مجھ کو بٹھایا ہے یہ لا کے کہاں دوستو چار گھڑی رات ہے آؤ کہ ہنس بول لیں جانے سحر تک ہو پھر کون کہاں ...

مزید پڑھیے

ایک بیوہ کی آس لگتی ہے

ایک بیوہ کی آس لگتی ہے زندگی کیوں اداس لگتی ہے ہر طرف چھائی گھور تاریکی روشنی کی اساس لگتی ہے پی رہا ہوں ہنوز اشک غم بحر غم کو بھی پیاس لگتی ہے لاکھ پہناؤ دوستی کی قبا دشمنی بے لباس لگتی ہے موت کے سامنے حیات اسدؔ صورت التماس لگتی ہے

مزید پڑھیے

ہر آہ غم دل کی غماز نہیں ہوتی

ہر آہ غم دل کی غماز نہیں ہوتی اور واہ مسرت کا آغاز نہیں ہوتی جو روک نہیں پاتی اشکوں کی روانی کو وہ آنکھ غم دل کی ہم راز نہیں ہوتی ہر اشک شہنشاہی اک تاج نہیں بنتا ہر ملکہ زمانے میں ممتازؔ نہیں ہوتی ملتی ہے خموشی سے ظالم کو سزا یارو اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی اک ٹھوس حقیقت ...

مزید پڑھیے

کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے

کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے ہمیں تو کرتے ہیں اکثر اداس افسانے نئے زمانے کے ان میں کئی اشارے ہیں بہت پرانے ہیں گو میرے پاس افسانے خوشی کے واسطے جس نے گلے لگایا انہیں اسی کو چھوڑ گئے محو یاس افسانے جنہیں شعور سے عاری قرار دیتے تھے وہی بنے ہیں قیافہ شناس افسانے لباس والے ...

مزید پڑھیے

ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی

ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی کھوکھلی تہذیب کی فرزانگی ڈستی رہی شعلۂ نفرت تو بھڑکا ایک لمحہ کے لیے مدتوں پھر شہر کو اک تیرگی ڈستی رہی موت کی ناگن سے اب ہرگز وہ ڈر سکتا نہیں جس کو ساری عمر خود یہ زندگی ڈستی رہی میں نہ جانے کتنے جنموں کا ہوں پیاسا دوستو رہ کے دریا میں بھی ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ اس کے جنبش انکار بھی نہیں

ہونٹوں پہ اس کے جنبش انکار بھی نہیں آنکھوں میں کوئی شوخیٔ اقرار بھی نہیں بستی میں کوئی مونس و غم خوار بھی نہیں غالبؔ کا ہائے کوئی طرف دار بھی نہیں کشتی بری طرح ہے بھنور میں پھنسی ہوئی لیکن ہمارے ہاتھ میں پتوار بھی نہیں ان کو سزائیں دی ہیں زمانے نے بارہا ملزم بھی جو نہیں ہیں ...

مزید پڑھیے

تمام حسن جہاں کا جواب ہو کے رہا

تمام حسن جہاں کا جواب ہو کے رہا جو درد دل سے اٹھا آفتاب ہو کے رہا وہ بارگاہ جنوں ہے نصیب عشق وفا یہ دل یہ شوق نظر باریاب ہو کے رہا وہی سفر ہے وہی رسم آبلہ پائی یقین راہ مرا کامیاب ہو کے رہا بہت عزیز نہ کیوں ہو کہ درد ہے تیرا یہ درد بڑھ کے رہا اضطراب ہو کے رہا عجیب چیز ہے یہ شوق ...

مزید پڑھیے

نہ صحرا ہے نہ اب دیوار و در ہے

نہ صحرا ہے نہ اب دیوار و در ہے چمن میں نغمہ گر ساز سحر ہے سراغ کاروان رنگ و بو سے صبا آوارۂ گرد سفر ہے اسیرو اب در زنداں کرو باز سر ناخن کوئی عقد گہر ہے ندیمو داد دو اہل جنوں کو نمکداں زخم پا ہے زخم سر ہے

مزید پڑھیے

درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی

درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی زندگی کروٹ بدل کر رہ گئی وقت نظارہ نگاہ باریاب ان کے جلووں میں مچل کر رہ گئی آنکھ میں آنسو مچل کر رہ گئے موج دریا میں اچھل کر رہ گئی کیا کیا اے بلبل آتش نوا آشیاں میں برق جل کر رہ گئی ان کا غم مجھ کو ودیعت ہو گیا ساری دنیا ہاتھ مل کر رہ گئی

مزید پڑھیے

رقص آشفتہ سری کی کوئی تدبیر سہی

رقص آشفتہ سری کی کوئی تدبیر سہی لو مرے پاؤں میں اک اور بھی زنجیر سہی امتحاں اس دل پر شوق کا کرتے رہیے اور اس جرم وفا پر کوئی تعزیر سہی طعن و دشنام سے دیوانے نہ باز آئیں گے کوئی الزام سہی تہمت تقصیر سہی ہم تو آوارۂ صحرا ہیں ہمیں کیا مطلب ان کی محفل میں جنوں کی کوئی توقیر سہی ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5034 سے 6203