جشن جمہوریت
جوانیاں ہیں زور پر شباب کا ظہور ہے بہ فیض قلب مطمئن نظر نظر غیور ہے امنگ ہے ترنگ ہے نشاط ہے سرور ہے نشان ظلمت الم قریب ہے نہ دور ہے ہر ایک قمقمہ یہاں چراغ کوہ طور ہے ہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے دھری ہوئی ہیں باغ میں ادھر ادھر صراحیاں چھلک رہے ہیں جام مے بہ فیض ساقئ ...