قومی زبان

ہر اک فسانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے

ہر اک فسانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے غم زمانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے کسی کو علم نہیں کون کتنا پاگل ہے جنوں دوانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے ذرا سی بات پہ وہ ہم سے روٹھ جاتا ہے اسے منانا ضرورت سے کچھ زیادہ ہے جو ہم نے سیکھا جو مانا وہ کتنا کم نکلا جو ہم نے جانا ضرورت سے کچھ زیادہ ہے ہم ...

مزید پڑھیے

کوئی نہیں ہے انتظار صبح وصال کے سوا

کوئی نہیں ہے انتظار صبح وصال کے سوا کوئی طلب نہیں مجھے تیرے جمال کے سوا کس کے سوال پر یہ دل روتا ہے ساری ساری رات کون حبیب ہے مرا تیرے خیال کے سوا کوئی نہیں جو روح پر ایسا بھلا اثر کرے نشے تمام ہیں وجود تیری مثال کے سوا چشمۂ خواب سے مجھے دونوں جہاں عطا ہوئے کچھ بھی نہیں ہے میرے ...

مزید پڑھیے

ترے خیال سے پھر آنکھ میری پر نم ہے

ترے خیال سے پھر آنکھ میری پر نم ہے کہ غم زیادہ ہے اور حوصلہ مرا کم ہے بقا کے واسطے صدیوں سے جنگ جاری ہے فنا کے شور شرابے سے ناک میں دم ہے نہیں تو کب کا مکمل میں ہو چکا ہوتا جسے میں اپنا سمجھتا ہوں اس میں کچھ کم ہے عجیب دور ہے یہ دور میری مشکل کا سوال میں ہے نہ کوئی جواب میں دم ...

مزید پڑھیے

ہم وہ پنچھی جن کے گھر سے دور بسیرے ہوتے ہیں

ہم وہ پنچھی جن کے گھر سے دور بسیرے ہوتے ہیں رات کو خواب خیال کے لشکر دل کو گھیرے ہوتے ہیں سوچ سوچ کر مر جاتی ہیں خوابوں کی تعبیریں بھی خواب جو تیرے ہوتے ہیں اور خواب جو میرے ہوتے ہیں عشق کا حاصل کچھ بھی ہو اک نسبت بھی کیا کم شے ہے کچھ ناں کچھ تو ہوتے ہیں جو بال بکھیرے ہوتے ہیں دل ...

مزید پڑھیے

جب میں اس آدمی سے دور ہوا

جب میں اس آدمی سے دور ہوا غم مری زندگی سے دور ہوا میں بھی اس کے مکان سے نکلا وہ بھی میری گلی سے دور ہوا دل سے کانٹا نکالنے کے بعد درد اپنی کمی سے دور ہوا وہ سمجھتا رہا کہ روئے گا میں بڑی خامشی سے دور ہوا راستے میں جو اک سمندر تھا میری تشنہ لبی سے دور ہوا وہ جسے مجھ سے دور ہونا ...

مزید پڑھیے

محبت صرف اک جذبہ نہیں ہے

محبت صرف اک جذبہ نہیں ہے نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہے سبھی تعبیر اس کی لکھ رہے ہیں کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے کسی کھائی میں وہ بھی جا گرا ہے جو تیری راہ سے گزرا نہیں ہے نہ کر سینے کے آتش دان ٹھنڈے بجھا دل پھر کبھی جلتا نہیں ہے چلو باہر سے ہو کر لوٹ آئیں کئی دن سے کوئی آیا نہیں ...

مزید پڑھیے

کسی صورت اگر اظہار کی صورت نکل آئے

کسی صورت اگر اظہار کی صورت نکل آئے تو ممکن ہے کسی سے پیار کی صورت نکل آئے مسیحائی پہ وہ کافر اگر ایمان لے آئے شفا کی شکل میں بیمار کی صورت نکل آئے اگر وہ بے وفا ضد چھوڑ دے اور ٹھیک ہو جائے تو شاید پھر مرے گھر بار کی صورت نکل آئے کوئی تو معجزہ ایسا بھی ہو اپنی محبت میں ترے انکار ...

مزید پڑھیے

سرور عشق نے الفت سے باندھ رکھا ہے

سرور عشق نے الفت سے باندھ رکھا ہے تری غرض نے محبت سے باندھ رکھا ہے عجب کشش ہے ترے ہونے یا نہ ہونے میں گماں نے مجھ کو حقیقت سے باندھ رکھا ہے کبھی کبھی تو مجھے ٹوٹتا دکھائی دے جو ایک عہد قیامت سے باندھ رکھا ہے شہ جمال ترے شہر کے فقیروں کو کمال ہجر نے وحشت سے باندھ رکھا ہے بھٹک ...

مزید پڑھیے

کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے

کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے شاعری محرومیوں کا خوب صورت نام ہے بے غرض ملنے کی ساری منطقیں جھوٹی ہیں یار تو جو آیا ہے تو اب بتلا بھی دے کیا کام ہے اب کے میخانے کی مٹی پر کوئی دھبہ نہیں رند ہیں ٹوٹے ہوئے ہاتھوں میں ثابت جام ہے نے شکوۂ سروری ہے نے جمال دلبری دل کسی ...

مزید پڑھیے

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے کہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیں سو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے کماں داروں کو اس سے کیا غرض پہنچے کہ رہ جائے انہیں تو بس اشارے پر روانہ تیر کرنا ہے ابھی امکان کے صفحے بہت خالی ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5006 سے 6203