وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا
وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا ہم مگر تنکے ہیں ہم تنکوں سے کیا لے جائے گا اک عجب آشوب ہے کیوں بستیوں میں جلوہ گر کیا یہ ہر انسان سے خوف خدا لے جائے گا ہے تو خورشید حقیقت پر بڑا بے مہر ہے دل سے جذبے آنکھ سے آنسو چرا لے جائے گا بوریے پر بیٹھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے شہریار عصر ...