قومی زبان

بشر کے فیض صحبت سے لیاقت آ ہی جاتی ہے

بشر کے فیض صحبت سے لیاقت آ ہی جاتی ہے پری زادوں کو آخر آدمیت آ ہی جاتی ہے جوانی سے دیا وہ ہوتے ہیں غافل ضعیفی میں نسیم صبح چلتی ہے تو غفلت آ ہی جاتی ہے کلید قفل مشکل ہوتی ہے داد و دہش آخر سخی کے ایک دن آڑے سخاوت آ ہی جاتی ہے رقیب اس شوخ سے جب گرمیاں کرتے ہیں محفل میں نہیں قابو میں ...

مزید پڑھیے

روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم

روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم پرورش یافتۂ خانۂ صیاد ہیں ہم کس طرح سے نہ پسے دل رخ گندم گوں پر عاقبت حضرت آدم ہی کی اولاد ہیں ہم جو لڑکپن سے ہے گہوارۂ بیتابی کی ناز پروردۂ عشق ستم ایجاد ہیں ہم کیوں نہ ہو رنج‌ اسیری قفس سے راحت خانہ‌ زاد چمن گلشن بیداد ہیں ہم خسرو شہر ادا ...

مزید پڑھیے

واعظ کی ضد سے رندوں نے رسم جدید کی

واعظ کی ضد سے رندوں نے رسم جدید کی یعنی مہ صیام کی پہلی کو عید کی مرنے کے بعد بھی یہ تمنا تھی دید کی آنکھیں ہوئیں نہ بند تمہارے شہید کی پھر جنس دل نہ اپنی کسی نے خرید کی سچ ہے کہ قدر کچھ نہیں مال مزید کی یہ وقت چشم پوشیٔ اہل وفا نہیں جان آنکھوں میں ہے یار ترے محو دید کی مسی دہان ...

مزید پڑھیے

عشق میں تیرے جان زار حیف ہے مفت میں چلی

عشق میں تیرے جان زار حیف ہے مفت میں چلی تو نے پر او ستم شعار اب بھی مری خبر نہ لی کوئی بلا پھر آئے گی مفت میں جان جائے گی پیچ میں ہم کو لائے گی زلف سیاہ بڑھ چلی آتے ہی فصل دل پذیر بولے قفس میں ہم صفیر جس میں ہوئے تھے ہم اسیر لو وہی پھر ہوا چلی اے گل گلشن وفا بے ترے نیند آئے کیا بستر ...

مزید پڑھیے

تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا

تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا جلاد مہربان ہوا کیا سبب ہوا افسوس کچھ نہ میری رہائی کا ڈھب ہوا چھوٹا ادھر قفس سے ادھر میں طلب ہوا تشریف لائے آپ جو میں جاں بہ لب ہوا اس وقت کے بھی آنے کا مجھ کو عجب ہوا نکلے گی اب نہ حسرت قتل اے نگاہ یاس قاتل کو رحم آ گیا مجھ پر غضب ہوا ہو جائے گا ...

مزید پڑھیے

لطف بہار مشفق من دیکھتے چلو

لطف بہار مشفق من دیکھتے چلو بلبل کا ڈھنگ رنگ چمن دیکھتے چلو بانکوں کو بانکپن کو ملاؤ نہ خاک میں تن تن کے یوں نہ اپنا بدن دیکھتے چلو جاتے اگر ہو کوچۂ قاتل کی سیر کو کپڑا بھی تھوڑا بہر کفن دیکھتے چلو چشم بتان دہر کی آفت ہیں شوخیاں صحرائے حسن کے بھی ہرن دیکھتے چلو کیا کر رہی ہے ...

مزید پڑھیے

ڈورا نہیں ہے سرمے کا چشم سیاہ میں

ڈورا نہیں ہے سرمے کا چشم سیاہ میں بانا پڑا ہے یار کے پائے نگاہ میں ہر دم جو میں کھٹکتا ہوں ان کی نگاہ میں مانند خار اٹھتے ہیں اغیار راہ میں گھر اس کے دل میں کر کے گئی مفت اپنی جان کشتی ہماری ڈوب گئی آ کے تھاہ میں ہر دم وہ سلک گوہر ویران ہوں گھورتا موتی پرو رہا ہوں میں تار نگاہ ...

مزید پڑھیے

صاف باتوں سے ہو گیا معلوم

صاف باتوں سے ہو گیا معلوم ہوتے ہو مطلب آشنا معلوم کشتہ تیغ نگہ سے کیجئے گا چشم و ابرو سے ہو گیا معلوم ابتدا نے محبت دل کی یہ نہ تھی ہم کو انتہا معلوم کچھ دہن ہی نہیں ہے وہ ناپید کمر یار بھی ہے نا معلوم در تک اس کے مری رسائی ہو تجھ سے اے بخت نارسا معلوم جب کہا روکے تجھ پہ مرتے ...

مزید پڑھیے

چشمک زنی میں کرتی نہیں یار کا لحاظ

چشمک زنی میں کرتی نہیں یار کا لحاظ نرگس کی آنکھ میں بھی نہیں ہے ذرا لحاظ بے گالی اب تو بات بھی کرتے نہیں کبھی وہ ابتدا میں کرتے تھے بے انتہا لحاظ تنہا میں اور اتنے وہاں ہیں مرے رقیب ناز و ادا غمزہ و شرم و حیا لحاظ ساقی کی بے رخی کی کہاں تاب تھی مگر پیر مغاں کی روح کا کرنا پڑا ...

مزید پڑھیے

سوتے ہیں پھیل پھیل کے سارے پلنگ پر

سوتے ہیں پھیل پھیل کے سارے پلنگ پر ہم چپ الگ پڑے ہیں کنارے پلنگ پر افشاں کے ذرے دیکھ کے سارے پلنگ پر سمجھا میں لوٹتے ہیں ستارے پلنگ پر پوچھو نہ مجھ سے شدت درد شب فراق تڑپا کیا میں رات کو سارے پلنگ پر لپٹے ہوئے پڑے رہے پٹی سے ہم الگ سویا کیے وہ چین سے سارے پلنگ پر بے چین ہو کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5001 سے 6203