قومی زبان

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے ملنا تھا اس لئے بھی سنورنا پڑا مجھے آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات ایک اس کی رہ گزر پہ بکھرنا پڑا مجھے کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط جینے کی آرزو لئے مرنا پڑا مجھے ویسے تو میری راہوں میں پڑتے تھے میکدے واعظ تری نگاہ سے ڈرنا پڑا ...

مزید پڑھیے

میری اداس آنکھیں

ہر سو دھند کا پہرہ ہے رات خاموش ہے مٹ میلی چاندنی اتر آئی ہے میرے آنگن میں ہاتھوں میں یادوں کے چراغ لئے کھولتی ہوں کھڑکیوں دروازوں کو آج خوب صورت لگ رہی ہیں میری اداس آنکھیں دکھ کے آئینے میں آج میں نے دیکھا ہے اپنا چہرہ آج میں کوئی گیت گنگنانا چاہتی ہوں

مزید پڑھیے

اکثر ایسا ہوتا ہے

اکثر ایک پیڑ سفر میں بدل جاتا ہے اور تمہارا چہرہ دھند میں کھو جاتا ہے اکثر میری یادیں مجبور سی ہو جاتی ہیں اور ایک پل صدی میں بدل جاتا ہے اکثر تمہاری یادیں ایک راستہ بن جاتی ہیں اور ایک صدی پل میں گزر جاتی ہے

مزید پڑھیے

ایک احساس

تمہاری نرم انگلیوں کا مخملی لمس جیسے بند شیشوں کے باہر گرتی مسلسل برف باری کا سلسلہ جیسے دبے پاؤں بے حد آہستہ پھولوں پر گزرتے ہوئے بچوں کے نازک قدم جیسے پیڑوں پر پر سکھاتی سفید پرندوں کی قطار

مزید پڑھیے

ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی

ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی ہجوم غم نے عدو پر بڑی چڑھائی کی فقیر مست ترے حال وصل کیا جانیں کہ اوڑھے بیٹھے ہیں کملی شب جدائی کی گدائے کوچۂ جاناں ہوں مرتبہ ہے بڑا کہ میرے نام ہے جاگیر بے نوائی کی ہمیں تو عالم ہستی میں اک نکمے ہیں تمہیں میں آ گئیں سب خوبیاں خدائی کی ملے نہ ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا

کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا فکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہوا واہ اس نالہ پہ اور اتنی عدو کو نازش بزم میں اور تو کیا حشر بھی برپا نہ ہوا سیر گلشن سے رہے شاد ولیکن افسوس اب کے معلوم کچھ احوال قفس کا نہ ہوا سو گئے سنتے ہی سنتے وہ دل زار کا حال جب کو ہم سمجھے تھے افسوں وہی ...

مزید پڑھیے

بات بے بات الجھتے ہو بھلا بات ہے کیا

بات بے بات الجھتے ہو بھلا بات ہے کیا میرے اندر کی بلاؤں سے ملاقات ہے کیا ہم تو اس پستئ احساس پہ جیتے ہیں جہاں یہ بھی معلوم نہیں جیت ہے کیا مات ہے کیا دھند میں ڈوب گیا دل کا محدب عدسہ کون بتلائے سر ارض و سموات ہے کیا درد کا غار حرا دل میں کیا ہے تعمیر مجھ کو معلوم نہیں طرز عبادات ...

مزید پڑھیے

سیم تن گل رخوں کی بستی ہے

سیم تن گل رخوں کی بستی ہے یہ بدلتی رتوں کی بستی ہے کون سمجھے سکوت کی باتیں شہر خاموشیوں کی بستی ہے یہ لکیریں غموں کے رستے ہیں یہ ہتھیلی دکھوں کی بستی ہے زندگی تک زکوٰۃ ٹھہرا دی یہ میرے رازقوں کی بستی ہے آسماں کی طرح ہے ساتھ کوئی ہجر بھی قربتوں کی بستی ہے وہ تلاطم شعار کیا ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی کہو سب اپنی اناؤں پہ اڑے ہیں

کچھ بھی کہو سب اپنی اناؤں پہ اڑے ہیں سب لوگ یہاں صورت اصنام کھڑے ہیں جو پار اترتا گیا ہوتا گیا کم تر ہم دورئ منزل کے طفیل آج بڑے ہیں ہم کو نہ کہو قانع حالات کہ ہم لوگ زندانیٔ دہلیز کے منصب پہ کھڑے ہیں اے وصل نصیبو! ہمیں مڑ کر بھی نہ دیکھا ہم قفل کے مانند مصائب پہ پڑے ہیں تاریخ ...

مزید پڑھیے

نہ ہوتا دہر سے جو بے نیاز کیا کرتا

نہ ہوتا دہر سے جو بے نیاز کیا کرتا کھلا تھا مجھ پہ کچھ ایسا ہی راز کیا کرتا مریض کشمکش جبر و اختیار میں تھا علاج جذب و کشش چارہ ساز کیا کرتا ترے کرم نے تو دنیا ہی سونپ دی تھی مجھے بچا کے کچھ نہ رکھا حرص و آز کیا کرتا بگڑ گیا مرا حلیہ تو برہمی کیسی تھے رہ گزر میں نشیب و فراز کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4976 سے 6203