قومی زبان

غبار سا ہے سر شاخسار کہتے ہیں

غبار سا ہے سر شاخسار کہتے ہیں چلا ہے قافلۂ نوبہار کہتے ہیں بدل گئی ہیں جہاں پر وفا کی سب رسمیں اجڑ گئے ہیں دلوں کے دیار کہتے ہیں اس ایک بات سے گلچیں کا دل دھڑکتا ہے کہ ہم صبا سے حدیث بہار کہتے ہیں یہ ہجو مے تو کسی مصلحت سے ہے ورنہ فقیہ شہر بھی ہے بادہ خوار کہتے ہیں جسے کبھی سر ...

مزید پڑھیے

باہر کا ماحول تو ہم کو اکثر اچھا لگتا ہے

باہر کا ماحول تو ہم کو اکثر اچھا لگتا ہے شام سے اک دن گھر میں رہ کر دیکھیں کیسا لگتا ہے کس کی یادیں کس کے چہرے اگتے ہیں تنہائی میں آنگن کی دیواروں پر کچھ سایہ سایہ لگتا ہے جسموں کے اس جنگل میں بس ایک ہی رام کہانی ہے غور سے دیکھو تو ہر چہرہ اپنا چہرا لگتا ہے موسم کی عیاش ہوا نے ...

مزید پڑھیے

میرا بچپن ہی مجھے یاد دلانے آئے

میرا بچپن ہی مجھے یاد دلانے آئے پھر ہتھیلی پہ کوئی نام لکھانے آئے آ کے چپکے سے کوئی چیخ پڑے کانوں میں گدگدانے نہ سہی آئے ڈرانے آئے لوٹ لے آ کے مری صبح کی میٹھی نیندیں میں کہاں کہتا ہوں وہ مجھ کو جگانے آئے میرے آنگن میں نہ جگنو ہیں نہ تتلی نہ گلاب کوئی آئے بھی تو اب کس کے بہانے ...

مزید پڑھیے

یہ تو سچ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے ہیں

یہ تو سچ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے ہیں میرے بچپن کے یہ کھلونے ہیں تپتے صحرا میں تیز بارش کے میں نے کتنے ہی خواب دیکھے ہیں کون کس کی برہنگی پہ ہنسے سب ہی زیر لباس ننگے ہیں وہ کبوتر تھے کتنے گرم و گداز اب بھی ہاتھوں میں لمس چپکے ہیں ان کے پانی سے کیا بجھے گی پیاس یہ گھڑے تو بہت ہی کچے ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ تنگ رہا مجھ پہ زندگی کا لباس

ہمیشہ تنگ رہا مجھ پہ زندگی کا لباس کبھی کھلا نہ مرے جسم پر خوشی کا لباس حسین پھولوں کی صحبت میں اور کیا ہوتا الجھ کے رہ گیا کانٹوں میں زندگی کا لباس جو جل گیا ہے وہی جانتا ہے اپنی جلن کسی کے جسم پہ اٹتا نہیں کسی کا لباس یہ کیا ستم کیا تم نے تو چاک کر ڈالا ذرا ذرا سا مسکنا تھا ...

مزید پڑھیے

جو سزا چاہو محبت سے دو یارو مجھ کو

جو سزا چاہو محبت سے دو یارو مجھ کو لیکن اخلاق کے پتھر سے نہ مارو مجھ کو آبشاروں کی طرح میں نہیں گرنے والا دھوپ کی طرح پہاڑوں سے اتارو مجھ کو میں تو ہر حال میں ڈوبوں گا مگر اخلاقاً یہ ضروری ہے کہ ساحل سے پکارو مجھ کو عظمت تشنہ لبی بھول نہ جاؤ لوگو پھر کسی دشت سے اک بار گزارو مجھ ...

مزید پڑھیے

اتنا احساس تو دے پالنے والے مجھ کو

اتنا احساس تو دے پالنے والے مجھ کو میں سنبھل جاؤں اگر کوئی سنبھالے مجھ کو بے سہارا ہوں کسی وقت بھی گر جاؤں گا اپنی دیوار میں جو چاہے ملا لے مجھ کو ڈوبنے سے جو بچائے گا وہ کیا پائے گا میں ابھی لاش نہیں کون نکالے مجھ کو میں پیمبر تو نہیں تھا کہ اماں پا جاتا کیا چھپاتے بھی کہیں ...

مزید پڑھیے

پیاسا رہا میں بالا قدی کے فریب میں

پیاسا رہا میں بالا قدی کے فریب میں دریا بہت قریب تھا مجھ سے نشیب میں موقعہ ملا تھا پھر بھی نہ میں آزما سکا اس کی پسند کے کئی سکے تھے جیب میں پردیس جانے والا پلٹ بھی تو سکتا ہے اتنا کہاں شکیب تھا اس نا شکیب میں سنتا تو ہے بدن کی عبادت پہ آیتیں آتا نہیں ہے پھر بھی کسی کے فریب ...

مزید پڑھیے

بستی ملی مکان ملے بام و در ملے

بستی ملی مکان ملے بام و در ملے میں ڈھونڈھتا رہا کہ کہیں کوئی گھر ملے بے سمت کائنات میں کیا سمت کی تلاش بس چل پڑے ہیں راہ جہاں اور جدھر ملے آوارگی میں تم بھی کہاں تک چلو گے ساتھ پہلے بھی راستے میں کئی ہم سفر ملے لگتا ہے اب کے جان ہی لے لے گی فصل گل اشکوں میں آج بھی کئی لخت جگر ...

مزید پڑھیے

چہروں کو بے نقاب سمجھنے لگا تھا میں

چہروں کو بے نقاب سمجھنے لگا تھا میں سب کو کھلی کتاب سمجھنے لگا تھا میں جلنا ہی چاہئے تھا مجھے اور جل گیا انگاروں کو گلاب سمجھنے لگا تھا میں یہ کیا ہوا کہ نیند ہی آنکھوں سے اڑ گئی کچھ کچھ زبان خواب سمجھنے لگا تھا میں اپنی ہی روشنی سے نظر کھا گئی فریب ذروں کو آفتاب سمجھنے لگا تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4965 سے 6203