قومی زبان

زمین ایک نظم ہے

آسماں ٹھہرا ہوا نیلا سمندر اور زمیں سوکھا ہوا دریا پہاڑوں پر دسمبر آ چکا ہے نیلگوں گہرا دسمبر ندیاں برفوں کی چاندی میں چھپی ہیں منصفوں جیسے معزز یہ پہاڑ اور ان کے ہمسایہ شجر مرعوب کرتے ہیں دیہاتی راستوں کے پھول کہتے ہیں ہمیں گاؤ نشیبی بستیوں کی گھاس کہتی ہے ہمیں لکھو پھٹے کپڑوں ...

مزید پڑھیے

انقلابی سوچ شاعر کا قلم اپنی جگہ

انقلابی سوچ شاعر کا قلم اپنی جگہ آپ کی انگڑائیاں زلفوں کا خم اپنی جگہ جانتا ہوں میں تمہارے باطنی کردار کو جبہ و دستار عالی محترم اپنی جگہ ہم رہے اپنی انا میں کھو نہ بدلی آپ نے آپ بھی اپنی جگہ ہیں اور ہم اپنی جگہ آپ کی ہر بات کو تسلیم فرمایا گیا آپ کے فرمان کے سب بیش و کم اپنی ...

مزید پڑھیے

ہم بھی کچھ کچھ خراب ہو جائیں

ہم بھی کچھ کچھ خراب ہو جائیں دور سارے حجاب ہو جائیں چاند بادل کی اوٹ سے نکلے غم یہ سارے نقاب ہو جائیں کچھ تو اپنی نظر بھی آوارہ کچھ اب وہ ماہتاب ہو جائیں کون پھر ان سے دل کی بات کہے جب وہ عالی جناب ہو جائیں چھو کے نکلیں جو تیرے ہونٹوں کو لفظ سارے گلاب ہو جائیں دھاندلی کر کے ہی ...

مزید پڑھیے

ہے آئینے کے مقابل جو ہو بہ ہو کیا ہے

ہے آئینے کے مقابل جو ہو بہ ہو کیا ہے یہ میرا روپ نہیں ہے تو جلوہ رو کیا ہے مرے بدن کی رگوں میں شراب کی صورت جو سر پٹکتا گزرتا ہے جو بہ جو کیا ہے منافرت کے خسارے میں خوش خرام رہے سرشت آدم خاکی میں خو بہ خو کیا ہے مگن ہے اور کسی سوچ میں مرا وجدان میں اپنے آپ سے مخفی ہوا ہوں تو کیا ...

مزید پڑھیے

ایمان

اپنے کمزور ایمان کی پختگی کے لیے اپنے اندھے خیالات کی روشنی کے لیے اپنے بوسیدہ افکار کی تازگی کے لیے دھونس سے زور سے اور بندوق سے بے گناہوں کے مقتل سجائے گئے نوجوانوں کے شفاف چہروں پہ جنگل اگائے گئے مدرسے لڑکیوں کے جلائے گئے اب انہیں زندہ درگور کرنے کا اک مرحلہ اور ہے امن ...

مزید پڑھیے

مشکل کام

ہمیشہ کی طرح تم آج بھی اچھی ہو لیکن کل بہت اچھی تھیں اور وہ کل مری یادوں کا حصہ ہے وہی جو کل تھا وہ ہے آج لیکن فرق اتنا ہے تمہاری جھیل سی آنکھوں میں میرے نام کا کوئی کنول کھلتا نہیں تمہارے ہونٹ میرا نام دہراتے نہیں ہیں رفاقت اور چاہت کا کوئی بھی گیت اب گاتے نہیں ہیں میں کل اور آج ...

مزید پڑھیے

محبت

محبت عہد و پیمان وفا ہے محبت حد امکان وفا ہے محبت اک کتاب ایسی ہے جس کا ہر اک عنوان عنوان وفا ہے محبت پھولنے پھلنے کی شے ہے اسے پامال سبزہ مت بناؤ دلوں کے قافلے چلتے ہیں اس پر سو نا ہموار رستہ مت بناؤ اسے کھلنے دو اپنے موسموں میں بہار عہد رفتہ مت بناؤ یہ ہے معصوم اور ننھا ...

مزید پڑھیے

ایسے نہیں ہوتا

بس اک اپنے تحفظ کے لیے دنیا کو کتنا بے تحفظ کر دیا تم نے یہ دنیا وہ نہیں جو آج سے پہلے تھی یہ فرمان جاری کر دیا تم نے مگر تم کون سی دنیا میں رہتے ہو یہ دنیا تو وہی ہے جس میں جب چاہو تم اپنے حکم منواتے ہو طاقت کی زباں میں بات کرتے ہو تمہارے حکم کو جو ماننے میں دیر کرتے ہیں تم ان کو اپنی ...

مزید پڑھیے

نیند نہیں آتی ہے

تم نے لکھا ہے نیند نہیں آتی ہے تم کو تم سے بہت ہی دور ہوں نا میں اس دھرتی سے اس دھرتی تک بیچ میں کتنے دریا اور سمندر ہوں گے یہ تو سچ ہے لیکن ان ماؤں کا سوچو جن کے بیٹے چاند تلک اک دن جائیں گے جا کے وہاں پر بس جائیں گے ایسے میں جب رات آئے گی چاند زمیں پر نکلا ہوگا چاند میں ان کا چہرہ ...

مزید پڑھیے

شناسائی

لوٹ بھی آئیں اگر اب وہ شناسا لمحے اور میں تجھ سے ملوں بھی تو دبے لفظوں میں پوچھیں گے سبھی کن ستاروں کی گزر گاہ پہ تم پہلے پہل نکلے تھے کون سی جھیل تھی وہ جس میں تم پہلے پہل ڈوبے تھے کون سے پیڑ تھے وہ جن کے سایوں میں محبت کے شگوفے پھوٹے اتنے بدلے ہوئے حالات کے دوراہے پر ان سوالوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4955 سے 6203