قومی زبان

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے جاتا ہوں میں بھی سر کے تئیں روبرو لیے گلزار یک بہ یک جو مہکنے لگا ہے یوں سچ کہہ صبا تو پھرتی ہے یاں کس کی بو لیے سوئے کبھی نہ ساتھ ہمارے خوشی سے تم جاویں گے گور میں یہی ہم آرزو لیے دیتا نہیں ہے چین الٰہی میں کیا کروں پھرتا ہوں رات دن دل بے تاب کو ...

مزید پڑھیے

کس قدر درد کے شب کرتا تھا مذکور ترا

کس قدر درد کے شب کرتا تھا مذکور ترا وہ ہی بیمار ترا خستۂ و رنجور ترا بے خبر اب بھی شتابی سے پہنچ ڈرتا ہوں کشتۂ ہجر نہ ہو یہ کہیں مہجور ترا یہ نہ آنے کے بہانے ہیں سبھی ورنہ میاں اتنا تو گھر سے مرے کچھ نہیں گھر دور ترا نیچی نظروں سے تری ڈرتا ہوں کیا کچھ نہ کریں دیکھ لینا تو یہاں ...

مزید پڑھیے

صبا کہیو زبانی میری ٹک اس سرو قامت کو

صبا کہیو زبانی میری ٹک اس سرو قامت کو کہ جب سے دل لیا آئے نہ پھر صاحب سلامت کو مرے رونے کو سن کر یوں لگا جھنجھلا کے وہ کہنے میاں یہ جان کھانا ہے اٹھا دو اس ملامت کو جو ملنا ہے تو آ جاؤ گلے سے لگ کے سو رہئے نہیں تو کام کیا آؤ گے اے صاحب قیامت کو اٹھائے سو طرح کے ظلم اور جور و جفا ...

مزید پڑھیے

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر ...

مزید پڑھیے

مقصود علی دیوانہؔ

''رشتے، چاہت، شہرت، دولت تیرے لیے سب بے مایہ تارا ہے کسی کی آنکھوں کا تو اور نہ کسی کا ماں جایا ہے دوست نہ کوئی ہم سایہ میدانوں سے آنکھوں کی گزرتا اک سایہ مقصود علی! مقصود علی! دیوانہ ہے تو ہم کو بتا یا کوئی ولی؟ ''وہ روز ازل کا دہرایا ہے اک سایہ جس کی اک دنیا ہے اپنی دہشت کے محور پر ...

مزید پڑھیے

تہ

ہم ڈوب کے گہرائی میں طرب کی پھیلتے دیکھتے ہیں قبل ازیں فہمیدہ ان رنگوں کو جن میں خود کو ہم پہ ہمارے غم ظاہر کرتے ہیں گمبھیر خموشی کی تہ میں آغوش کشادہ میں لیتی ہم کو ایک درخشاں تاریکی ہوتی ہے

مزید پڑھیے

دور کی شہزادی

میں تو پیدائش ہی سے اک شہزادی تھی حسن مرے پیکر میں یوں در آیا تھا سنگھار کے آئینے میں جب میں جھانکتی تو خود پر شیدا ہونے لگتی خواہش میرے دل میں پیدا ہونے لگتی کہ میری پوجا لوگ کریں سر لا کے مرے قدموں پر دھریں لیکن جب میں نے انگڑائی سے حسن پہ اپنے ناز کیا محسوس کیا کہ دنیا کو ناراض ...

مزید پڑھیے

مقاومت

ملبوس پہنے رات اپنا زر نگار زیر جامہ تاز میں لٹکا ہوا اس کا سیاہ شعلے اگلتے نالیوں کے دائرے، فولاد کے جنت سے دھتکاری ہوئی اولاد کے راتوں کو چلتے کارواں مسمار شہروں کا دھواں احمریں سیال سے چھلکے ہوئے باغوں کے حوض ''نفت'' کے شعلے زمیں پر پھینکتے ہیں ''راس چکر'' کے بروج گھاس کے ...

مزید پڑھیے

یا ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

یا ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا یا حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ہم راہ رقیبوں کے تجھے باغ میں سن کر دل دینے کا ثمرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کہتا ہے بہت کچھ وہ مجھے چپکے ہی چپکے ظاہر میں یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کہتا ہے تو کچھ یا نہیں آصفؔ سے یہ تو جان یاں کس کو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا

آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا یہ خو بری ہے ان کا افشائے راز کرنا جاتے تو ہو پیارے اکتا کے مجھ کنے سے پر واسطے خدا کے پھر سرفراز کرنا دو چار دن میں ظالم ہووے گی خط کی شدت یہ حسن عارضی ہے اس پر نہ ناز کرنا پھرتے ہو تم ہر اک جا ہم بھی تو آشنا ہیں یاں بھی کرم کبھی اے بندہ نواز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4911 سے 6203