قومی زبان

چلو سرنگ سے پہلے گزر کے دیکھا جائے

چلو سرنگ سے پہلے گزر کے دیکھا جائے پھر اس پہاڑ کو کاندھوں پہ دھر کے دیکھا جائے ادھر کے سارے تماشوں کے رنگ دیکھ چکے اب اس طرف بھی کسی روز مر کے دیکھا جائے وہ چاہتا ہے کیا جائے اعتبار اس پر تو اعتبار بھی کچھ روز کر کے دیکھا جائے کہاں پہنچ کے حدیں سب تمام ہوتی ہیں اس آسمان سے نیچے ...

مزید پڑھیے

آنے والا تو ہر اک لمحہ گزر جاتا ہے

آنے والا تو ہر اک لمحہ گزر جاتا ہے وہ غبار اڑتا ہے انبار سا دھر جاتا ہے کون سے غار میں گر جاتا ہے منظر سارا کن خلیجوں میں بھرا شہر اتر جاتا ہے پتیاں سوکھ کے جھڑ جاتی ہیں چھٹ جاتے ہیں پھل جس کو موسم کہا کرتے ہیں وہ مر جاتا ہے لمس کی شدتیں محفوظ کہاں رہتی ہیں جب وہ آتا ہے کئی فاصلے ...

مزید پڑھیے

میں جو ٹھہرا ٹھہرتا چلا جاؤں گا

میں جو ٹھہرا ٹھہرتا چلا جاؤں گا یا زمیں میں اترتا چلا جاؤں گا جس جگہ نور کی بارشیں تھم گئیں وہ جگہ تجھ سے بھرتا چلا جاؤں گا درمیاں میں اگر موت آ بھی گئی اس کے سر سے گزرتا چلا جاؤں گا تیرے قدموں کے آثار جس جا ملے اس ہتھیلی پہ دھرتا چلا جاؤں گا دور ہوتا چلا جاؤں گا دور تک پاس ہی ...

مزید پڑھیے

قلب گہہ میں ذرا ذرا سا کچھ

قلب گہہ میں ذرا ذرا سا کچھ زخم جیسا چمک رہا تھا کچھ یوں تو وہ لوگ مجھ ہی جیسے تھے ان کی آنکھوں میں اور ہی تھا کچھ تھا سر جسم اک چراغاں سا روشنی میں نظر نہ آیا کچھ ہم زمیں کی طرف جب آئے تھے آسمانوں میں رہ گیا تھا کچھ دوسروں کی نظر سے دیکھیں گے دیکھنا کچھ تھا ہم نے دیکھا کچھ کچھ ...

مزید پڑھیے

تو بھی تو ایک لفظ ہے اک دن مرے بیاں میں آ

تو بھی تو ایک لفظ ہے اک دن مرے بیاں میں آ میرے یقیں میں گشت کر میری حد گماں میں آ نیندوں میں دوڑتا ہوا تیری طرف نکل گیا تو بھی تو ایک دن کبھی میرے حصار جاں میں آ اک شب ہمارے ساتھ بھی خنجر کی نوک پر کبھی لرزیدہ چشم نم میں چل جلتے ہوئے مکاں میں آ نرغے میں دوستوں کے تو کب تک رہے گا ...

مزید پڑھیے

آسماں کا ستارہ نہ مہتاب ہے

آسماں کا ستارہ نہ مہتاب ہے قلب گہہ میں جو اک جنس نایاب ہے آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس اور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے اور ہے شمع کے بطن میں روشنی تیرے آئینے میں اور ہی آب ہے یہ چراغ اور ہے وہ ستارہ ہے اور اور آگے جو اک ہجر کا باب ہے اور پھیلی ہوئی ہے جو اک دھند سی اور عقب میں جو اک ...

مزید پڑھیے

کر کے خواب آنکھ میں پہلے تو وہ لائے خود کو

کر کے خواب آنکھ میں پہلے تو وہ لائے خود کو اور پھر مجھ کو جگانے کو ستائے خود کو ہے یہ لازم کہ ملائک بھی بشر ہو جائیں اب جو انسان فرشتہ نظر آئے خود کو آخری مرحلہ آیا ہے محبت کا اب اب دیا خود ہی بجھا کر بھی دکھائے خود کو وہ پذیرائی کہیں عشق میں ملتی ہی نہیں جو بھی روٹھا ہے وہ اب ...

مزید پڑھیے

درمیان گناہ و ثواب آدمی

درمیان گناہ و ثواب آدمی ہے خود اپنے لئے ہی عذاب آدمی یہ زمیں جس خطا کی بنی تھی سزا میں وہی تو ہوں خانہ خراب آدمی حل معمے کا جیسے معما کوئی بس کہ ہے آدمی کا جواب آدمی دیکھ بے ساختہ عکس گھبرا گیا شیشے کے سامنے بے حجاب آدمی فلسفہ بھی خودی فلسفی بھی خودی آپ طالب ہے آپ ہی کتاب ...

مزید پڑھیے

دے کے خود خون کا منظر مجھ کو

دے کے خود خون کا منظر مجھ کو آج کہتا ہے وہ خنجر مجھ کو کب رہا کوئی ٹھکانہ اپنا اب کہ ڈھونڈھو مرے اندر مجھ کو دیکھ کر میرا شکستہ ہونا کہتا ہے پیر سکندر مجھ کو زخم جاں اور تبسم شیوہ کر گیا وقت قلندر مجھ کو مجھ کو صحرا سا ملا تھا جو کبھی کر گیا وہ ہی سمندر مجھ کو

مزید پڑھیے

پہلے تو نیزے خواب میں بویا کریں گے رات دن

پہلے تو نیزے خواب میں بویا کریں گے رات دن آنکھوں سے اپنی خون پھر دھویا کریں گے رات دن ہم تتلیوں کے پنکھ پہ دھاریں لگا کے نیند کی اک شہر نو کے خواب میں چھوڑا کریں گے رات دن بے دار رہ کر بھی ہمیں خواری ملی سو طے کیا موت آ نہ جائے جب تلک سویا کریں گے رات دن تم اک جواب مختصر کا ہم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4837 سے 6203