قومی زبان

جام خالی جہاں نظر آیا

جام خالی جہاں نظر آیا میری آنکھوں میں خوں اتر آیا وہ بہت کم کسی نے دیکھا ہے مجھ کو جو کچھ یہاں نظر آیا جھک گئے آسمان سجدے میں کون یہ اپنے بام پر آیا کانپ اٹھا چرخ ہل گئی دنیا وہ جہاں اپنی بات پر آیا اس نے پوچھا مزاج کیسا ہے دل جو امڈا ہوا تھا بھر آیا جب کبھی اس نے کی نظر مجھ ...

مزید پڑھیے

اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی

اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی توبہ بتوں کے آگے ذکر خدا پرستی اک خنجر قضا ہے اک نشتر جفا ہے وہ چشم شوخ جو ہے محو حیا پرستی دکھلاؤں گا تماشا اس آئنے میں تم کو صبح ازل سے دل ہے محو صفا پرستی ظالم کی ہے یہ کوشش اس کو کہیں مٹا دوں مظلوم دل کو میرے فکر بقا پرستی کیوں ساز و برگ ہستی ...

مزید پڑھیے

وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں

وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں دل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں تھیں جو کل تک جلوہ افروزی سے شمع انجمن آج وہ شکلیں چراغ زیر داماں ہو گئیں اک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے ہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں دم رکا تھا جس کی الجھن سے مرے سینے میں آہ پھر ...

مزید پڑھیے

کام دنیا میں بہت کرنا ہے

کام دنیا میں بہت کرنا ہے قبل مرنے کے ہمیں مرنا ہے آئیے نزع کا ہنگام ہے اب مشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے دل نے یہ کہہ کے کہیں چھوڑا ساتھ ہم کو کچھ کام یہاں کرنا ہے قتل کرنے میں تکلف نہ کرو آخر اک روز ہمیں مرنا ہے تم سے اک روز کریں گے تقریر اپنی باتوں میں اثر بھرنا ہے تم کو دکھلائیں گے ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا

کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا اس میں جوہر ہے مری آئینہ سیمائی کا طور کشتہ ہے اسی ناز خود آرائی کا برق کی لہر ہے نقشہ تری انگڑائی کا عشق اک تبصرہ ہے حسن کی رعنائی پر حسن اک فلسفہ ہے عشق کی رسوائی کا آج اک خاک کا ذرہ بھی نہیں باقی ہے دل برباد یہ حاصل ہے خود آرائی کا یاد ...

مزید پڑھیے

یورپ کی زندگی

دن بھر ہے چرچا کام کا شب اور شراب جاں فزا دن بھر ہیں ساری سختیاں شب اور حوران جناں ایک ایک سانچے میں ڈھلی ایک ایک پتلی قہر کی غنچہ دہن آفت ادا شوخی غضب غمزہ بلا ظاہر میں سفاکی بھری باطن میں اک جذب خفی تیور سے روکھا پن عیاں انداز میں مستی نہاں پالو کبھی وحشی ہرن خود صید پر ناوک ...

مزید پڑھیے

وقت

ہے سال نو کی آمد ہر شخص کی خوشی ہے کیا رنگ لائے گا یہ اس کی نہیں خبر کچھ میں جانتا ہوں ظالم تیری یہ دل لگی ہے دل میں نہیں کسی کے جو موت کا خطر کچھ اے وقت بے مروت اے وقت بے مروت عالم کا لحظہ لحظہ میں حال کیا سے کیا ہے مفلس ابھی تھا کوئی مسند نشیں ابھی ہے جیتا کوئی ابھی تھا اب دفن ہو ...

مزید پڑھیے

بیکسی عشق

ایک دن اس نے جو مجھ سے پوچھا کیوں مرے ملنے کا ارمان ہوا اس کو دیکھا تو مگر آہوں کا موجزن سینے میں طوفان ہوا ہوئی چہرے سے نمایاں وحشت دونوں ہاتھوں سے لیا دل کو تھام یاس ارمان تمنا حسرت دل سے آنکھوں میں اتر آئے تمام کچھ جواب اس کو جو دینا چاہا لب ملے پر نہ صدا نکلی آہ ایک محشر تھا ...

مزید پڑھیے

کوئل

اے چیت میں آنے والی کوئل مطلق کھلتا نہیں ترا راز طائر تجھ کو کہے مرا دل یا جسم سے خالی کوئی آواز کس کے غم میں ہے تیری کو کو بتلا ہے کون تیرا دلبر پھرتی جو ڈال ڈال ہے تو کس کو تو ڈھونڈھتی ہے آخر جنگل جنگل یہ تیری پرواز آخر کس کی تلاش میں ہے تجھ کو ہے سوز سے مگر ساز کیسی پر درد ہے تری ...

مزید پڑھیے

انسان

انسان اور اطاعت ماحول افترا آیا ہے اپنی آپ یہ دنیا لیے ہوئے ہے دیکھنے میں ذرہ پہ صد مہر در بغل وحدت ہے اس کی کثرت اشیا لیے ہوئے ظاہر میں ایک پھول پہ صد گلستاں یہ جیب بالفعل قطرہ بالقوۃ دریا لیے ہوئے معماریٔ جہان نو اس کی ہے زندگی موت اس کی ہے حیات کا چشمہ لیے ہوئے کس کی مجال ہے کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4794 سے 6203