قومی زبان

تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں

تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں اصول زندگی جاں دادۂ قاتل سمجھتے ہیں نہ سر کو سر سمجھتے ہیں نہ دل کو دل سمجھتے ہیں غریق بحر الفت آشنائے قلزم معنی جہاں پر ڈوب کر ابھریں اسے ساحل سمجھتے ہیں دیار عشق کے ساکن زمیں پر پاؤں کیا رکھیں یہاں ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رات یاد آتی ہے

ہجر کی رات یاد آتی ہے پھر وہی بات یاد آتی ہے تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی بات پر بات یاد آتی ہے تم تھے اور ہم تھے چاند نکلا تھا ہائے وہ رات یاد آتی ہے صبح کے وقت ذرے ذرے کی وہ مناجات یاد آتی ہے ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی اب تو دن رات یاد آتی ہے مے سے توبہ تو کی عزیزؔ مگر اکثر ...

مزید پڑھیے

بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں

بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں کہاں تک جذب ہوں گی بجلیاں صبر آزما دل میں لہو رونے لگیں گے ساز عشرت چھیڑنے والے ارے یہ درد آواز شکست شیشۂ دل میں یہ چھینٹیں خون کی کافی ہیں میرے بخشوانے کو نظر آتی ہے جنت وسعت دامان قاتل میں ابد تک کوکب بخت سعادت بن کے چمکیں گے ہوئے ...

مزید پڑھیے

مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں

مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں فریضہ ہے ادا فرما رہے ہیں دھواں اٹھتا ہے اک اک موئے تن سے سزا اپنے کیے کی پا ہے ہیں طلسم ہستیٔ فانی دکھا کر ابھی کچھ دیر وہ بھلا رہے ہیں جہاں سے کل ہمیں آنا پڑا تھا وہیں مجبور ہو کر جا رہے ہیں دکھا دیں گے عزیزؔ انجام دنیا ابھی تو خیر دھوکا کھا رہے ...

مزید پڑھیے

بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے

بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے سوا تیرے تری محفل میں کیا ہے بتاؤں کیا کہ میرے دل میں کیا ہے تو ہی تو ہے بھری محفل میں کیا ہے کسی کے بجھتے دل کی ہے نشانی چراغ سرحد منزل میں کیا ہے بجز نقش پشیمانیٔ قاتل نگاہ حسرت بسمل میں کیا ہے جفاؤں کی بھی حد ہوتی ہے کوئی خدا معلوم اس کے دل میں ...

مزید پڑھیے

یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں

یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں فقط اس لیے یہ حجاب ہے کہ کسی کو تاب نظر نہیں کہو کچھ حقیقت مشتہر کہ مجھے کہیں کی خبر نہیں یہ مناظر دو جہاں ہیں کیا جو فریب ذوق نظر نہیں کسی آہ میں نہیں سوز جب کسی نالے میں جب اثر نہیں یہ کمال سوزش دل نہیں یہ فروغ داغ جگر نہیں چمک اٹھ ...

مزید پڑھیے

مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں

مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں نہ آنا اور پھر الزام دینا کہ اتنے بے اثر نالے کئے کیوں پس خم پینے میں ہے کیا بزرگی جو پینا ہے تو پھر چھپ کر پئے کیوں جو دی تھی حسن میں یہ دل فریبی مجھے ہوش و حواس اتنے دیے کیوں خیال جنبش مژگاں نہ رکھا ہمارے زخم میں ٹانکے ...

مزید پڑھیے

میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی

میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی اے ستم گر یہ دل لگی کیسی کھل گئی پھر کوئی رگ دل کیا دیدۂ خشک ہیں نمی کیسی ہوش ہے تجھ کو خاک کے پتلے یہ تمرد یہ سرکشی کیسی تھا یہ اک امتحاں طبیعت کا ورنہ ناصح سے دوستی کیسی رو رہا ہوں اسی تصور میں دی تھی یہ مجھ کو زندگی کیسی اب تو اس در تک آ گئے ہو ...

مزید پڑھیے

نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی

نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی کس سے پوچھیں کہ کیوں سحر نہ ہوئی وہ نظر شوخ و فتنہ زا ہی سہی کیوں مرے حال زار پر نہ ہوئی بزم میں یہ ادا ہمیں سمجھے سب کو دیکھا ادھر نظر نہ ہوئی اے مرا حال پوچھنے والے تجھ کو اب تک مری خبر نہ ہوئی ہم اسی زندگی پہ مرتے ہیں جو یہاں چین سے بسر نہ ...

مزید پڑھیے

یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے

یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے کہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتے زبان رک گئی آخر سحر کے ہوتے ہی! تمام رات کٹی دل سے گفتگو کرتے سواد شہر خموشاں کا دیکھیے منظر! سنا نہ ہو جو خموشی کو گفتگو کرتے تمام روح کی لذت اسی پہ تھی موقوف کہ زندگی میں کبھی تم سے گفتگو کرتے جواب حضرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4793 سے 6203