تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں
تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں اصول زندگی جاں دادۂ قاتل سمجھتے ہیں نہ سر کو سر سمجھتے ہیں نہ دل کو دل سمجھتے ہیں غریق بحر الفت آشنائے قلزم معنی جہاں پر ڈوب کر ابھریں اسے ساحل سمجھتے ہیں دیار عشق کے ساکن زمیں پر پاؤں کیا رکھیں یہاں ...