وہی دلوں کو شکست کرنا وہی سوال و جواب کرنا
وہی دلوں کو شکست کرنا وہی سوال و جواب کرنا کہاں سے سیکھا ہے تو نے ناصح قدم قدم احتساب کرنا وہ اپنے موتی برس برس کر نہ اس طرح رائیگاں کرے گی کبھی نہ اس چشم نیل گوں سے امید مثل سحاب کرنا جہاں بھی مل جائے دیکھ لینا وہی ہے جان وفا کی صورت وہی نگاہیں جھکائے رکھنا حیا سے چہرہ گلاب ...