قومی زبان

وہی دلوں کو شکست کرنا وہی سوال و جواب کرنا

وہی دلوں کو شکست کرنا وہی سوال و جواب کرنا کہاں سے سیکھا ہے تو نے ناصح قدم قدم احتساب کرنا وہ اپنے موتی برس برس کر نہ اس طرح رائیگاں کرے گی کبھی نہ اس چشم نیل گوں سے امید مثل سحاب کرنا جہاں بھی مل جائے دیکھ لینا وہی ہے جان وفا کی صورت وہی نگاہیں جھکائے رکھنا حیا سے چہرہ گلاب ...

مزید پڑھیے

جو اب بھی ان کی یادیں آئیاں ہیں

جو اب بھی ان کی یادیں آئیاں ہیں تو آنکھیں اشک خوں برسائیاں ہیں پرانے زخم کر دیتی ہیں تازہ ستم گر کس قدر پروائیاں ہیں یہ روز و شب یہ صبح و شام کیا ہیں نگار وقت کی انگڑائیاں ہیں اگر دل ہی ہوا شائستہ غم کہاں دنیا میں پھر رعنائیاں ہیں یہ کیا قصہ نکالا تو نے ناصح دل بیتاب پر بن ...

مزید پڑھیے

فضائے نیل گوں کا دھیان چھوڑ دے

فضائے نیل گوں کا دھیان چھوڑ دے پرند کس طرح اڑان چھوڑ دے نئے جہان کی کیمسٹری سمجھ گئے ہوئے دنوں کا دھیان چھوڑ دے شروع ہو چکی ہے جنگ شہر میں محبتوں کو درمیان چھوڑ دے زمین چھوڑ کر کہاں رہے گا تو یہ خواہشوں کا آسمان چھوڑ دے قدم سے جو قدم نہیں ملا رہا اسے کہو وہ کاروان چھوڑ دے نئے ...

مزید پڑھیے

اپنے ویرانے کا نقصان نہیں چاہتا میں

اپنے ویرانے کا نقصان نہیں چاہتا میں یعنی اب دوسرا انسان نہیں چاہتا میں کٹ گئی جیسی بھی کٹنی تھی یہاں دھوپ کے ساتھ اب کسی سائے کا احسان نہیں چاہتا میں مر رہا ہوں میں یہاں اور وہ کہتا ہے مجھے نا مکمل ترا ایمان نہیں چاہتا میں پاس آ کر نہ بڑھا اور پریشانئ دل پھر کسی عشق کا سامان ...

مزید پڑھیے

یہ رات آخری لوری سنانے والی ہے

یہ رات آخری لوری سنانے والی ہے میں تھک چکا ہوں مجھے نیند آنے والی ہے ہنسی مذاق کی باتیں یہیں پہ ختم ہوئیں اب اس کے بعد کہانی رلانے والی ہے اکیلا میں ہی نہیں جا رہا ہوں بستی سے یہ روشنی بھی مرے ساتھ جانے والی ہے جو نقش ہم نے بنائے تھے صرف وہ ہی نہیں ہوائے دشت ہمیں بھی مٹانے والی ...

مزید پڑھیے

زندگی کیسے لگی دیوار سے

زندگی کیسے لگی دیوار سے پوچھنا بھی کیا کسی دیوار سے بس مجھے سر پھوڑنے کا شوق تھا بات تھی دیوار کی دیوار سے ٹوٹتے دل کی کہانی بھی کہی یعنی پھر ٹوٹی ہوئی دیوار سے آؤ ہم دیوار گریہ کا پتہ پوچھ لیتے ہیں کسی دیوار سے جو رکاوٹ تھی ہماری راہ کی راستہ نکلا اسی دیوار سے دستکوں سے در ...

مزید پڑھیے

مری کہانی تری کہانی سے مختلف ہے

مری کہانی تری کہانی سے مختلف ہے کہ جیسے آنکھوں کا پانی، پانی سے مختلف ہے وہ ایک لمحہ جو دسترس میں نہیں رہا ہے وہ زندگی بھر کی رائیگانی سے مختلف ہے یہ جھیل آنکھیں ہمیں جو پیغام دے رہی ہیں وہ تیرے ہونٹوں کی ترجمانی سے مختلف ہے تری جدائی کا حادثہ ایسا حادثہ ہے جو ہر حقیقت سے ہر ...

مزید پڑھیے

کس نے کہا کہ چپ ہوں میاں بولتا نہیں

کس نے کہا کہ چپ ہوں میاں بولتا نہیں جب آگ بولتی ہو دھواں بولتا نہیں رستے کی بات غور سے سنتا ہوں اس لیے رہ میں کسی سے ہم سفراں بولتا نہیں یوں تو ہر ایک شخص کا اپنا ہی شور ہے لیکن کسی سے کوئی یہاں بولتا نہیں بس یوں ہی پوچھتا ہوں مکینوں کا حال چال برسوں سے بند ہے یہ مکاں بولتا ...

مزید پڑھیے

جب ترے خواب سے بیدار ہوا کرتے تھے

جب ترے خواب سے بیدار ہوا کرتے تھے ہم کسی رنج سے دو چار ہوا کرتے تھے آئنے چشم تحیر سے ہمیں دیکھتے تھے ہم کہ جب تیرے گرفتار ہوا کرتے تھے آج معلوم ہوا تیری ضرورت ہی نہ تھی ہم یونہی تیرے طلب گار ہوا کرتے تھے اب تو ہم روز انہیں پاؤں تلے روندتے ہیں یہ ہی رستے تھے جو دشوار ہوا کرتے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو اتنا تو یقیں ہے میں ہوں

مجھ کو اتنا تو یقیں ہے میں ہوں اور جب تک یہ زمیں ہے میں ہوں اس سے آگے میں کہاں تک سوچوں آدمی جتنا ذہیں ہے میں ہوں یہ جسے ساتھ لیے پھرتا ہوں یہ کوئی اور نہیں ہے میں ہوں ایک چھوٹا سا محل سپنوں کا جس میں اک ماہ جبیں ہے میں ہوں گھر کے باہر ہے کوئی مجھ جیسا اور جو گھر میں مکیں ہے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4768 سے 6203