قومی زبان

عجیب لگتا ہے یوں ہی بچھا ہوا بستر

عجیب لگتا ہے یوں ہی بچھا ہوا بستر یہ ایک عمر سے خالی پڑا ہوا بستر سنا رہا ہے کہانی ہمیں مکینوں کی مکاں کے ساتھ یہ آدھا جلا ہوا بستر نہ جانے کون سا لمحہ بناۓ ہجرت ہو میں کھولتا ہی نہیں ہوں بندھا ہوا بستر اداسیاں نہ شکن در شکن نظر آتیں ترے وجود سے ہوتا بھرا ہوا بستر اڑا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

ہوائے تیز کے آگے کہاں رہے گا کوئی

ہوائے تیز کے آگے کہاں رہے گا کوئی دیے پہ وقت سدا مہرباں رہے گا کوئی اے دوست ہم بھی زمیں پر دھوئیں کی صورت ہیں فضا میں کتنا دھواں ہے دھواں رہے گا کوئی عجیب نقش بنائے ہیں وحشت دل نے مگر یہ ریت ہے اس پر نشاں رہے گا کوئی مکان دل کی سبھی رونقیں مکینوں سے مکین ہی نہ رہے تو مکاں رہے گا ...

مزید پڑھیے

قدم قدم نشان ڈھونڈھتا رہا

قدم قدم نشان ڈھونڈھتا رہا میں اک نیا جہان ڈھونڈھتا رہا بہت سے قافلے ملے تھے راہ میں میں اپنا کاروان ڈھونڈھتا رہا نکل گیا جو میں حدود وقت سے تو مجھ کو آسمان ڈھونڈھتا رہا ادھر میں در بدر مکان کے لئے ادھر مجھے مکان ڈھونڈھتا رہا عجیب شخص ہوں خوشی کا ایک پل غموں کے درمیان ...

مزید پڑھیے

دیکھ قندیل رخ یار کی جانب مت دیکھ

دیکھ قندیل رخ یار کی جانب مت دیکھ تیز تلوار ہے تلوار کی جانب مت دیکھ بول کتنی ہے ترے سامنے قیمت میری چھوڑ بازار کو بازار کی جانب مت دیکھ دیکھنا ہے تو مجھے دیکھ کہ میں کیسا ہوں میرے اجڑے ہوئے گھر بار کی جانب مت دیکھ اور بڑھ جائے گی تنہائی تجھے کیا معلوم ایسی تنہائی میں دیوار کی ...

مزید پڑھیے

ایسے پامال کہ پہچان میں آتے ہی نہیں

ایسے پامال کہ پہچان میں آتے ہی نہیں پھول سے چہرے مرے دھیان میں آتے ہی نہیں روک لیتی ہے کہیں راہ میں نوحوں کی صدا خوش نوا گیت مرے کان میں آتے ہی نہیں یوں تو کیا کیا نہ لیا زاد سفر چلتے ہوئے چند سپنے ہیں جو سامان میں آتے ہی نہیں اس طرف لڑنے پہ آمادہ ہے لشکر اپنا اور سالار کہ میدان ...

مزید پڑھیے

دیکھیے چلتا ہے پیمانہ کدھر سے پہلے

دیکھیے چلتا ہے پیمانہ کدھر سے پہلے بزم میں شور ہے ہر سمت ادھر سے پہلے غم کی تاریک گھٹاؤں سے پریشان نہ ہو تیرگی ہوتی ہے آثار سحر سے پہلے آپ جس راہ گزر سے ہیں گزرنے والے ہم گزر آئے ہیں اس راہ گزر سے پہلے مجھ سے دیکھے نہیں جاتے ہیں کسی کے آنسو پونچھ لو اشک ذرا دیدۂ تر سے پہلے حسن ...

مزید پڑھیے

جلوے ہوا کے دوش یہ کوئی گھٹا کے دیکھ

جلوے ہوا کے دوش یہ کوئی گھٹا کے دیکھ میخانے اڑتے پھرتے ہیں منظر فضا کے دیکھ کیوں شان حسن آئنہ خانے میں جا کے دیکھ اظہرؔ کو اپنے حسن کا مظہر بنا کے دیکھ محصور ہو گئی ہے تجلی نگاہ میں اب تو مری نگاہ سے دامن بچا کے دیکھ کیا جانے کس مقام یہ قسمت چمک اٹھے مایوس کیوں ہے دست طلب تو ...

مزید پڑھیے

یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا

یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا آج کل میں کوئی طوفان ہے اٹھنے والا ہم غریبوں کا ٹھکانہ بھی بدل جائے گا مجھ سے للہ نہ سرکار چھڑائیں دامن آپ بدلے تو زمانہ بھی بدل جائے گا پھر بہار آئی ہے گلشن کا نظارہ کر لو ورنہ یہ وقت سہانہ بھی بدل جائے ...

مزید پڑھیے

امید

مجھے یقیں ہے کہ تم کون مہندی سے جب میرے عدو کا نام اپنی خوب صورت کلائی پر لکھو گی تو میرا خیال آتے ہی آخر ایک دن اس منحوس کے نام پر خود ہی بڑا سا کانٹا لگا دو گی اور دوسری کلائی پر میرا نام لکھ کر اسے دیر تک چومتی رہو گی میں اس لمحے کے انتظار میں متبادل کلائیوں کی جانب سے ...

مزید پڑھیے

وہ نان سینس ہے اتنا مجھے پتہ نہیں تھا

وہ نان سینس ہے اتنا مجھے پتہ نہیں تھا کہ قل پہ اس سے لطیفہ کبھی سنا نہیں تھا جو بند کرنا تھا دریا کو تم نے کوزے میں تو ایک عام سا لوٹا خریدنا نہیں تھا نکال بیٹھا تھا دندان ساز بھولے سے وہ داڑھ جس میں ذرا سا بھی مسئلہ نہیں تھا کھلا یہ بعد میں مجھ پر وہ کھیر تھی دراصل جسے پلاؤ پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4769 سے 6203