قومی زبان

غلط بیاں یہ فضا مہر و کیں دروغ دروغ

غلط بیاں یہ فضا مہر و کیں دروغ دروغ شراب لاؤ غم کفر و دیں دروغ دروغ ہزار نخل گماں ہیں ابھی نمود آثار ازل کے دن سے ہے کشت یقیں دروغ دروغ حدیث رشک رقیباں ہوئی ہے جس کی نظر میں اور اس کی لگن ہم نشیں دروغ دروغ خود اپنی مستیٔ پنہاں سے ہاتھ آتا ہے شکار نافۂ آہوئے چیں دروغ دروغ میں ...

مزید پڑھیے

جویان تازہ کاریٔ گفتار کچھ کہو

جویان تازہ کاریٔ گفتار کچھ کہو تم بھی ہوئے ہو کاشف اسرار کچھ کہو شیشہ کہیں سے لاؤ شراب فرنگ کا باقی جو تھی حکایت دل دار کچھ کہو جانے بھی دو تغیر عالم کی داستاں کس حال میں ہے نرگس بیمار کچھ کہو بادل اٹھے ہیں چشمک برق و شرار ہے منہ دیکھتے ہو صورت دیوار کچھ کہو مطرب کو تازہ بیت ...

مزید پڑھیے

زنجیر پا سے آہن شمشیر ہے طلب

زنجیر پا سے آہن شمشیر ہے طلب شاید تری گلی میں نہ پہنچے یہ شور اب آخر جھلک اٹھی وہ گریباں کے چاک سے جس انتظار صبح میں گزری تھی میری شب یاد آئی دل کو تیرے در نیم وا کی رات رکنے لگے قدم جو سر راہ بے سبب یہ شان دلبری ہے کہ وہ جب بھی مل گیا پایا مزاج دوست کو آسودۂ طرب اس تازہ دم ہوا ...

مزید پڑھیے

وہ ساعت صورت چقماق جس سے لو نکلتی ہے

وہ ساعت صورت چقماق جس سے لو نکلتی ہے تلاش آدمی کے زاویے کیا کیا بدلتی ہے کبھی اک لو سے ششدر ہے کبھی اک ضو سے حیراں ہے زمیں کس انکشاف‌ نار سے یا رب پگھلتی ہے تغیر کی صدی ہے آتشیں خوابوں کی پیکاریں رصد گاہوں کے آئینوں میں اک تعبیر ڈھلتی ہے نظر کو اک افق تازہ رخی سے تیری ملتا ...

مزید پڑھیے

تلخ تر اور ذرا بادۂ صافی ساقی

تلخ تر اور ذرا بادۂ صافی ساقی میرے سینے میں خس و خار ہیں کافی ساقی ظلمت و نور کو پیالوں میں سمو دیتی ہے شام پڑتے ہی تری چشم غلافی ساقی زہر کا جام ہی دے زہر بھی ہے آب حیات خشک سالی کی تو ہو جائے تلافی ساقی نشۂ مے سے ذرا زخم کے ٹانکے ٹوٹے تا ابد سلسلۂ سینہ شگافی ساقی زندگانی کا ...

مزید پڑھیے

صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے

صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے آگہی کی حد پہ اک خواب جنوں کی جنگ ہے جانے کن چہروں کی لو تھی جانے کس منظر کی آگ نیند کا ریشم دھواں ہے خواب شعلہ رنگ ہے اک جنوں خانے میں خود کو ڈھونڈھتا ہے آدمی خود طوافی میں بھی خود سے سینکڑوں فرسنگ ہے کرم خوردہ کشتیاں بینائی کی ہیں تہہ نشیں نم ...

مزید پڑھیے

جی دارو! دوزخ کی ہوا میں کس کی محبت جلتی ہے

جی دارو! دوزخ کی ہوا میں کس کی محبت جلتی ہے تیز دہکتی آگ زمیں پر خندق خندق چلتی ہے آسیبی سی شمعیں لے کر سیاروں میں گھوم گئی کوئی ہوا ایسی ہے کہ دنیا نیند میں اٹھ کر چلتی ہے کہساروں کی برف پگھل کر دریاؤں میں جا نکلی کچھ تو پاس آب رواں کر نبض جنوں کیا چلتی ہے رات کی رات ٹھہرنے والے ...

مزید پڑھیے

اک خواب آتشیں کا وہ محرم سا رہ گیا

اک خواب آتشیں کا وہ محرم سا رہ گیا دیوار و در میں شعلہ‌ٔ برہم سا رہ گیا شیر‌ وطن کے پیالے پہ تھیں کل ضیافتیں آیا جو تا بہ لب تو فقط سم سا رہ گیا مانا وفا برائے وفا اتفاق تھی تم سا رہا کوئی نہ کوئی ہم سا رہ گیا اک لا تعلقی کی فضا درمیاں رہی جب دو دلوں میں فرق بہت کم سا رہ گیا اس ...

مزید پڑھیے

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں ہر اک پہ سہل کچھ آداب میکشی بھی نہیں ادھر ادھر سے حدیث غم جہاں کہہ کر تری ہی بات کی اور تیری بات کی بھی نہیں وفائے وعدہ پہ دل نکتہ چیں ہے وہ خاموش حدیث مہر و وفا آج گفتنی بھی نہیں بکھر کے حسن جہاں کا نظام کیا ہوگا یہ برہمی تری زلفوں کی برہمی ...

مزید پڑھیے

انشاؔ جی ہے نام انہی کا چاہو تو تم سے ملوائیں

انشاؔ جی ہے نام انہی کا چاہو تو تم سے ملوائیں ان کی روح دہکتا لاوا ہم تو ان کے پاس نہ جائیں یہ جو لوگ بنوں میں پھرتے جوگی بیراگی کہلائیں ان کے ہاتھ ادب سے چومیں ان کے آگے سیس نوائیں نا یہ لال جٹائیں راکھیں نا یہ انگ بھبوت رمائیں نا یہ گیرو رنگ فقیری چولا پہن پہن اترائیں بستی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4753 سے 6203