قومی زبان

ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کوسوں دور رہا

ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کوسوں دور رہا اس غم سے ہم اور بھی ہارے وہ بھی تو مجبور رہا کال تھا اشکوں کا آنکھوں میں لیکن تیری یاد نہ پوچھ کیا کیا موتی میں بھی فراہم کرنے پر مجبور رہا وہ اور اتنا پریشاں خاطر ربط غیر کی بات نہیں لیکن اس کے چپ رہنے سے دل کو وہم ضرور رہا ہم ایسے ...

مزید پڑھیے

نثار یوں تو ہوا تجھ پہ نقد جاں کیا کیا

نثار یوں تو ہوا تجھ پہ نقد جاں کیا کیا مگر رہا بھی ترا حسن سرگراں کیا کیا الگ الگ بھی بہت دل فریب نکلے گی کہیں گے لوگ ابھی تیری داستاں کیا کیا حساب مے ہے حریفان بادہ پیما سے اٹھے گا اب کے رگ تاک سے دھواں کیا کیا نفس کی رو میں کوئی پیچ و تاب دریا تھا گیا ہے وادیٔ جاں سے رواں دواں ...

مزید پڑھیے

مری آنکھیں گواہ طلعت آتش ہوئیں جل کر

مری آنکھیں گواہ طلعت آتش ہوئیں جل کر پہاڑوں پر چمکتی بجلیاں نکلیں ادھر چل کر زباں کا ذائقہ بگڑا ہوا ہے مے پلا ساقی سموم دشت نے سب رکھ دئے کام و دہن تل کر رموز زندگی سیکھے ہیں میرے شوق وحشت نے کئی صاحب نظر زندانیوں کے بیچ میں پل کر یہ کس ذوق نمو کو آج دہرانے بہار آئی لہو ہم ...

مزید پڑھیے

کتاب کا کیڑا

دق تجھ سے کتابیں ہیں بہت کرم کتابی تو دشمن دزدیدہ ہے خاکی ہو کہ آبی الفاظ کی کھیتی ہے فقط تیری چراگاہ معنی کی زمیں تیرے سب سایوں نے دابی ہونے کو تری اصل ہے صیاد مکیں گاہ کہنے کو فقط تیری حقیقت ہے سرابی تو نے تو ہر اک سمت لگائی ہیں سرنگیں پارینہ ہو فرمان کتابیں ہوں نصابی بادامی ہو ...

مزید پڑھیے

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ چاک در چاک گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگس خواب آلودہ شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ خط معزولئ ارباب ستم کھینچ گئے یہ رسن بستہ صلیبوں سے ...

مزید پڑھیے

گل کا وہ رخ بہار کے آغاز سے اٹھا

گل کا وہ رخ بہار کے آغاز سے اٹھا شعلہ سا عندلیب کی آواز سے اٹھا نو دست زخمہ ور نے مٹا دی حد کمال پردے جلے تمام دھواں ساز سے اٹھا جیسے دعائے نیم شبی کا سرود ہو اک شور میکدے میں اس انداز سے اٹھا محضر لیے جنوں میں سوال و جواب کا پردہ سا ایک دیدۂ غماز سے اٹھا باقی ابھی ہے تنگی و ...

مزید پڑھیے

ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں

ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں ہم ایک حلقۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں کبھی کبھی نگۂ آشنا کے افسانے اسی حدیث سر رہ گزر میں ہوتے ہیں وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ...

مزید پڑھیے

حکایت حسن یار لکھنا حدیث مینا و جام کہنا

حکایت حسن یار لکھنا حدیث مینا و جام کہنا ابھی وہی کار عاشقاں ہے سکوت غم کا کلام کہنا افق تغیر کی تیز لو سے پگھل رہا ہے بدل رہا ہے مگر اس احوال واقعی کو لکھیں نہ وہ میرے نام کہنا ہزار ہاتھوں سے میں نے جس کو سنبھال رکھا تھا زندگی میں چراغ بر کف بساط دل پر کھڑی ہوئی ہے وہ شام ...

مزید پڑھیے

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے جس در نیم باز کے پیش تھے مرحلے گئے جو رگ ابر و باد سے تا بہ رگ جنوں رہیں عشق کی وہ حکایتیں حسن کے وہ گلے گئے شکر و سپاس کا مزہ دے ہی گیا سکوت یار وصل و فراق سے الگ درد کے حوصلے گئے اک مرے ہم کنار کی مجھ سے قریب آ کے رات خیمۂ درد ہو گئی قرب کے ولولے ...

مزید پڑھیے

کرم کا اور ہے امکاں کھلے تو بات چلے

کرم کا اور ہے امکاں کھلے تو بات چلے اس التفات کا عنواں کھلے تو بات چلے کس انتظار میں تھی روح خود نمائی گل برس کے ابر بہاراں کھلے تو بات چلے کچھ اب کے ہم بھی کہیں اس کی داستان وصال مگر وہ زلف پریشاں کھلے تو بات چلے جفا یہ سلسلۂ صد ہزار عنواں ہے قمیص یوسف کنعاں کھلے تو بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4754 سے 6203