ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کوسوں دور رہا
ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کوسوں دور رہا اس غم سے ہم اور بھی ہارے وہ بھی تو مجبور رہا کال تھا اشکوں کا آنکھوں میں لیکن تیری یاد نہ پوچھ کیا کیا موتی میں بھی فراہم کرنے پر مجبور رہا وہ اور اتنا پریشاں خاطر ربط غیر کی بات نہیں لیکن اس کے چپ رہنے سے دل کو وہم ضرور رہا ہم ایسے ...