قومی زبان

ہر اک فن کار نے جو کچھ بھی لکھا خوب تر لکھا

ہر اک فن کار نے جو کچھ بھی لکھا خوب تر لکھا ہوا نے پانیوں پر پانیوں نے ریت پر لکھا درخشاں کتنے لمحے کر گیا اک برگ جاں رفتہ شجر سے گر کے اس نے دائروں میں کس قدر لکھا سبک سے رنگ ہلکے دائرے ابھرے ہوئے شوشے کسی نے کتنی فن کاری سے اس کے جسم پر لکھا میں ہوں ظلمت گزیں یہ کھیل ہے تقدیر کا ...

مزید پڑھیے

یہی نہیں کہ نظر کو جھکانا پڑتا ہے

یہی نہیں کہ نظر کو جھکانا پڑتا ہے پلک اٹھاؤں تو اک تازیانہ پڑتا ہے وہ ساتھ میں ہے مگر سب امانتیں دے کر تمام بوجھ ہمیں کو اٹھانا پڑتا ہے میں اس دیار میں بھیجا گیا ہوں سر دے کر قدم قدم پہ جہاں آستانہ پڑتا ہے اندھیرا اتنا ہے اب شہر کے محافظ کو ہر ایک رات کوئی گھر جلانا پڑتا ...

مزید پڑھیے

خاک و خلا کا حصار اور میں

خاک و خلا کا حصار اور میں حد نظر تک غبار اور میں شام و سحر انتظار اور میں سلسلۂ اعتبار اور میں بکھرے ہوئے شاہکار اور میں دور تک انتشار اور میں دل میں اترتی ہوئی اس کی یاد عالم بے اختیار اور میں سر پہ گھنی دھوپ کا ہے سائبان پاؤں تلے ریگ زار اور میں

مزید پڑھیے

ذوق عمل کے سامنے دوری سمٹ گئی

ذوق عمل کے سامنے دوری سمٹ گئی دروازہ ہم نے کھولا تو دیوار ہٹ گئی بیٹے کو اپنے دیکھ کے اک باپ نے کہا تم ہو گئے جوان مگر عمر گھٹ گئی پہلے تو خود کو دیکھ کے حیرت زدہ ہوئی چڑیا پھر آئینے سے لپک کر چمٹ گئی پتوار بھی اٹھانے کی مہلت نہ مل سکی ایسی چلی ہوائیں کہ کشتی الٹ گئی ناراض ہو ...

مزید پڑھیے

جنوں نواز سفر کا خیال کیوں آیا

جنوں نواز سفر کا خیال کیوں آیا کسی کی راہ گزر کا خیال کیوں آیا نہ جانے کون اپاہج بنا رہا ہے ہمیں سفر میں ترک سفر کا خیال کیوں آیا جنوں کو تیری ضرورت کا کیوں ہوا احساس سفر گزار کو گھر کا خیال کیوں آیا بہت دنوں سے ادھر اس کو یاد بھی نہ کیا بہت دنوں سے ادھر کا خیال کیوں آیا یہاں تو ...

مزید پڑھیے

سکوت شب

فضائے زیست پہ چھائی ہے کیسی خاموشی نہ کوئی شور نہ شیون نہ گریہ و زاری نہ کوئی شکوہ بہ لب ہے نہ کوئی فریادی نہ کوئی درد کا قصہ نہ کوئی ذکر الم نہ سسکیوں کا کوئی ارتعاش ژولیدہ نہ دود آہ و فغاں کی کوئی گرانباری نہ کوئی حرف الم ہے نہ استعارۂ غم نہ کوئی قطرۂ خوں ہے سیاہیٔ قرطاس ستم ...

مزید پڑھیے

سب باتیں لا حاصل ٹھہریں سارے ذکر فضول گئے

سب باتیں لا حاصل ٹھہریں سارے ذکر فضول گئے یاد رہا اک نام تمہارا باقی سب کچھ بھول گئے میں نے تیرا نام مٹا کر تیرا چہرہ کیا بھولا بیچ سمندر کشتی ٹوٹی ہاتھوں سے مستول گئے تیرے ساتھ ترے رستے میں ہنستے بولتے ساتھی تھے میرے ساتھ مرے رستے میں کانٹے اور ببول گئے شام پرندے لوٹ آئے تو ...

مزید پڑھیے

میز پر رکھے ہاتھ

میز پر رکھے ہیں ہاتھ ہاتھوں کو میز پر سے اٹھاتی ہوں پھر بھی پڑے رہتے ہیں میز پر اور ہنستے ہیں میز پر رکھے اپنے ہی دو ہاتھوں کو ہاتھوں سے اٹھانا مشکل لگتا ہے میں ہاتھوں کو دانتوں سے اٹھاتی ہوں پر ہاتھ نہیں اٹھتے میز پر رہ جاتے ہیں دانتوں کے نشانوں سے بھرے ہوئے ساکت اور گھورتے ...

مزید پڑھیے

یادیں

بہت سنبھال کے رکھیں ہیں ہم نے ان وقتوں کی یادیں جو ہمیں مغموم رکھتے تھے جو اپنے اپنے وقتوں میں ہم پر مسلط رہے ان دنوں میں مصروفیت کے باوجود ہم زندگی کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے خود سے کہہ رہے ہوں ہم نہیں لڑنا چاہتے ان کے ان ارادوں سے جو ہمیں ملیامیٹ کرنا چاہتے ہیں ہم جانتے تھے ان کے ...

مزید پڑھیے

تم مجھے ڈھونڈتے رہے

اور میں تمہیں اس چھپن چھپائی میں ہم یہ ہی بھول گئے ہم کسے ڈھونڈھ رہے تھے ایک بار ہم راستے میں ملے تھے لیکن تم نے مجھے نہیں پہچانا میں بھی بھول گئی کہ میں تم کو ہی تو تلاش کر رہی تھی ہم تلاش کے ایک ہی دائرے میں گھومتے رہے ساری زندگی گزر گئی تم کو یاد ہو شاید نہیں ہم ایک کیفے میں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4746 سے 6203