قومی زبان

منا کر جشن اپنی بے بسی کا

منا کر جشن اپنی بے بسی کا اڑاتا ہوں تمسخر زندگی کا لہو کی چھینٹ ہر دیوار پر تھی لگا الزام پھر بھی خودکشی کا خدا سب کو بناتے جا رہے ہو تماشہ کر رہے ہو بندگی کا مری صف سے جو آگے کی صفیں ہیں نمایاں فاصلہ ہے مفلسی کا چلا کر پیٹھ پر خنجر یہ کس نے کیا ہے نام رسوا دشمنی کا نہ جانے راہ ...

مزید پڑھیے

کمال حسن کا جب بھی خیال آیا ہے

کمال حسن کا جب بھی خیال آیا ہے مثال شعر ترا نام دل پہ اترا ہے میں اپنے آپ کو دیکھوں تو کس طرح دیکھوں کہ میرے گرد مری ذات ہی کا پردہ ہے میں فلسفی نہ پیمبر کہ راہ بتلاؤں ہر ایک شخص مجھی سے سوال کرتا ہے یہ سچ ہے میں بھی تغیر کی زد سے بچ نہ سکا سوال یہ ہے کہ تو بھی تو کتنا بدلا ہے ترے ...

مزید پڑھیے

الجھاؤ کا مزہ بھی تری بات ہی میں تھا

الجھاؤ کا مزہ بھی تری بات ہی میں تھا تیرا جواب ترے سوالات ہی میں تھا سایہ کسی مکیں کا بھی جس پر نہ پڑ سکا وہ گھر بھی شہر دل کے مضافات ہی میں تھا الزام کیا ہے یہ بھی نہ جانا تمام عمر ملزم تمام عمر حوالات ہی میں تھا یاروں کو انحراف کا جس پر رہا غرور وہ راستہ بھی دشت روایات ہی میں ...

مزید پڑھیے

انہیں سوال ہی لگتا ہے میرا رونا بھی

انہیں سوال ہی لگتا ہے میرا رونا بھی عجب سزا ہے جہاں میں غریب ہونا بھی یہ رات رات بھی ہے اوڑھنا بچھونا بھی اس ایک رات میں ہے جاگنا بھی سونا بھی وہ حبس دم ہے زمیں آسماں کی وسعت میں کہ ایسا تنگ نہ ہوگا لحد کا کونا بھی عجیب شہر ہے گھر بھی ہیں راستوں کی طرح کسے نصیب ہے راتوں کو چھپ کے ...

مزید پڑھیے

ہر آنکھ لہو ساگر ہے میاں ہر دل پتھر سناٹا ہے

ہر آنکھ لہو ساگر ہے میاں ہر دل پتھر سناٹا ہے یہ گنگا کس نے پاٹی ہے یہ پربت کس نے کاٹا ہے چاہت نفرت دنیا عقبیٰ یہ خیر خرابی درد دوا ہر دھندا جی کا جوکھم ہے ہر سودا جان کا گھاٹا ہے کیا جوگ سمادھی و رسدھی کیا کشف و کرامت جذب و جنوں سب آگ ہوا پانی مٹی سب دال نمک اور آٹا ہے یہ راس رنگ ...

مزید پڑھیے

اپنوں کے کرم سے یا قضا سے

اپنوں کے کرم سے یا قضا سے مر جائیں تو آپ کی بلا سے گرتی رہی روز روز شبنم مرتے رہے روز روز پیاسے اے رہ زدگاں کہیں تو پہنچے منہ موڑ گئے جو رہنما سے پھر نیند اڑا کے جا رہے ہیں تاروں کے یہ قافلے ندا سے مڑ مڑ کے وہ دیکھنا کسی کا نظروں میں وہ دور کے دلاسے پلکوں کی ذرا ذرا سی ...

مزید پڑھیے

آہ بے اثر نکلی نالہ نارسا نکلا

آہ بے اثر نکلی نالہ نارسا نکلا اک خدا پہ تکیہ تھا وہ بھی آپ کا نکلا کاش وہ مریض غم یہ بھی دیکھتا عالم چارہ گر یہ کیا گزری درد جب دوا نکلا اہل خیر ڈوبے تھے نیکیوں کی مستی میں جو خراب صہبا تھا بس وہ پارسا نکلا خضر جان کر ہم نے جس سے راہ پوچھی تھی آ کے بیچ جنگل میں کیا بتائیں کیا ...

مزید پڑھیے

درد دل کیف الم سوز جگر سے پہلے

درد دل کیف الم سوز جگر سے پہلے زندگی کچھ بھی نہ تھی تیری نظر سے پہلے فکر فردا غم امروز روایات کہن کتنی راہیں ہیں تری راہ گزر سے پہلے جن اجالوں کو زمانے کی سحر ہونا ہے وہ گزرتے ہیں مری فکر و نظر سے پہلے تم کہو گے تو زبانی بھی سناؤں لیکن حال دل پوچھ تو لو دیدۂ تر سے پہلے ہائے یہ ...

مزید پڑھیے

بہاروں کا سماں ہے اور میں ہوں

بہاروں کا سماں ہے اور میں ہوں کسی کا داستاں ہے اور میں ہوں کہیں جس کا کنارا ہی نہیں ہے وہ بحر بیکراں ہے اور میں ہوں وہ ہیں اور ایک انداز پشیماں وفا کا امتحاں ہے اور میں ہوں عطائے درد الفت کی بدولت نشاط جاوداں ہے اور میں ہوں ہوئی ہے پرسش حال محبت نگاہ ترجماں ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

آپ سے شکوۂ بیداد کروں یا نہ کروں

آپ سے شکوۂ بیداد کروں یا نہ کروں شوق پابند کو آزاد کروں یا نہ کروں آپ ہیں وقت ہے فرصت ہے ذرا یہ کہہ دو اب بیاں عشق کی روداد کروں یا نہ کروں اے غم ہجر بتا اے دل مایوس بتا ماتم حسرت ناشاد کروں یا نہ کروں یوں تو اب کچھ بھی نہیں دیدۂ ویراں کو مگر چند خوابوں سے بھی آباد کروں یا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4732 سے 6203