غریب شہر
عجیب ہیں مری باتیں عجیب ہے احساس تمہیں خدا نہ کرے یہ گماں گزرتے ہوں کہ بمبئی کا یہ گمبھیر سن رسیدہ شہر عمارتوں کا یہ پھیلا ہوا گھنا جنگل ملامتوں کا بلاؤں کا رقص خانہ ہے ہر ایک شخص ہے آسیب زر میں نزع بہ لب کہ سانس کھل نہیں سکتی ہے مر نہیں سکتا عجیب ہیں مری باتیں عجیب ہے ...