حسن کی بے وفائیاں توبہ
حسن کی بے وفائیاں توبہ عشق کی سر گرانیاں توبہ مضمحل قلب منتشر ایماں مضطرب نوجوانیاں توبہ ہے رعونت کا آئینہ ششدر اف تری خود نمائیاں توبہ ایک بے نام سی خلش شاید اور خرد کی گواہیاں توبہ راستے ہیں جنوں کے ملتی ہیں اونچی نیچی سی کھائیاں توبہ لب کشمیر پر مچلتی ہیں کچھ سلگتی ...