قومی زبان

گرے قطروں میں پتھر پر صدا ایسا بھی ہوتا ہے

گرے قطروں میں پتھر پر صدا ایسا بھی ہوتا ہے بھلا ہو کر بھلا نام خدا ایسا بھی ہوتا ہے دلوں میں تلخیاں پھر بھی نظر میں مسکراہٹ ہو بلا کے حبس میں بھی ہو ہوا ایسا بھی ہوتا ہے میں خود سے اجنبی ہو کر قبائے خوش دلی پہنوں مرے اندر رہے کوئی چھپا ایسا بھی ہوتا ہے کنار آب دجلہ دھوپ تپتی ہو ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں ہوتا شب بھر سوچوں کا سرمایا ہوتا ہے

کچھ نہیں ہوتا شب بھر سوچوں کا سرمایا ہوتا ہے ہم نے صحن کے اک کونے میں دیا جلایا ہوتا ہے شام طرب کے لمحو اس کو مت آوازیں دیا کرو رات نے اپنے سر پر غم کا بوجھ اٹھایا ہوتا ہے جلتے ہیں تو پیڑ ہی جلتے ہیں سورج کی حدت سے پھولوں پر تو پتوں کی ٹھنڈک کا سایا ہوتا ہے میں نے آج تلک نہ دیکھا ...

مزید پڑھیے

اب آنکھ بھی مشاق ہوئی زیر و زبر کی

اب آنکھ بھی مشاق ہوئی زیر و زبر کی خواہش تو تری گھاٹ کی رہ پائی نہ گھر کی رنگ اپنے جو تھے بھر بھی کہاں پائے کبھی ہم ہم نے تو سدا رد عمل میں ہی بسر کی جب صرف ترے گل میں مرا حصہ نظر ہے پھر سوچ ہے کیا درد یہ تاخیر نظر کی یہ کوفے کی گلیاں ہیں کہ یہ میری رگیں بھی ہر سمت سے چبھتی ہے انی ...

مزید پڑھیے

آسماں ساحل سمندر اور میں

آسماں ساحل سمندر اور میں کھلتا پھر یادوں کا دفتر اور میں چار سمتیں آئینہ سی ہر طرف تم کو کھو دینے کا منظر اور میں میرا اجلا پن نئے انداز میں تیری بخشش میلی چادر اور میں ایک مورت میں تجربے نت نئے کتنے بے کل میرا آذر اور میں کھلتے ہیں اسرار عجب آلام میں بند ہوتا وہ ہر اک در اور ...

مزید پڑھیے

تلازم

تعلق مجھ میں تم میں کیا ہے تم مانو نہ مانو تم اسے ٹھکراؤ یا جھٹلاؤ لیکن یہ حقیقت ہے تمہیں میری ضرورت ہے بہت خوش دید ہیں آنکھیں تمہاری خوش نظر بھی ہیں مگر کیا اپنی آنکھوں سے کبھی تم اپنی آنکھیں دیکھ سکتی ہو

مزید پڑھیے

چور بازار

کاٹھ کے بیل مرد، شیشے کی پتلیاں عورتیں، پسینے کی بوندیاں، گل مہک شمیم بدن چاک دل زخم جیب و پیراہن کار، لاری، کواڑ آنکھیں، فن، لعل و الماس آہن و فولاد قہقہے، چہچہے، فغاں، فریاد سوئی، ہاتھی، اناتھ، بچے، دل تشنگی، تلخیاں، تجلی، دید کون سی آس، کون سی امید کون سی جنس چاہئے تجھ ...

مزید پڑھیے

دل بیتاب کو بہلا چکی ہوں

دل بیتاب کو بہلا چکی ہوں ستارے آسماں سے لا چکی ہوں نگاہ کہکشاں سے پوچھ لینا شعاع زندگانی پا چکی ہوں خرد کی تنگ وادی سے نکل کر جنوں کی منزلت اپنا چکی ہوں اندھیروں میں چراغاں کرنے والو اجالوں میں اندھیرا پا چکی ہوں زمیں کی پستیوں کو کیوں گلہ ہے جنہیں میں آسماں بتلا چکی ...

مزید پڑھیے

سوز دل و جاں اور ہے ساز دل و جاں اور

سوز دل و جاں اور ہے ساز دل و جاں اور احساس بیاں اور ہے ادراک نہاں اور دنیائے محبت میں زمیں اور زماں اور اک شعلہ بجاں نغمہ کناں راز نہاں اور شاعر کا جہاں اور ہے شاطر کا جہاں اور مفہوم محبت کا یہاں اور وہاں اور اے چاند کی مفلوج فضاؤں کے مسافر ہے منتظر دید ابھی بزم جہاں اور خود ...

مزید پڑھیے

ہیں کشمکش میں آج تری داستاں سے ہم

ہیں کشمکش میں آج تری داستاں سے ہم اے دل شروع کریں یہ حکایت کہاں سے ہم تیرا خلوص تیری محبت تری نظر کس طرح چھین لائیں مہ و کہکشاں سے ہم نازاں ہے کوئی اپنے تغافل پہ مرحبا مجبور ہو رہے دل ناز داں سے ہم جوش جنوں نے تھام لیا ہے خلوص ہے گزرے قدم قدم پہ نئے امتحاں سے ہم قحط وفا میں ...

مزید پڑھیے

سنو گے تم بھی مری داستاں کبھی نہ کبھی

سنو گے تم بھی مری داستاں کبھی نہ کبھی اثر دکھائے گا درد نہاں کبھی نہ کبھی کبھی تو آتش نمرود سرد بھی ہوگی قرار پائے گا قلب تپاں کبھی نہ کبھی یہ آج گردش شام و سحر بتاتی ہے نظر بچائے گا خود آسماں کبھی نہ کبھی کبھی تو گوہر نایاب ہاتھ آئے گا ملے گا روح خودی کا نشاں کبھی نہ کبھی جمود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4726 سے 6203