قومی زبان

آخری دن سے پہلے

اور دیکھو یہ وہ شخص ہے جو ازل سے یونہی چل رہا ہے یونہی جاگتے میں بھی چلتا ہے سوتے میں بھی اس کے اک ہاتھ میں قرص مہتاب ہے دوسرے ہاتھ میں کرۂ ارض ہے پاؤں تلوار کی دھار پر ہیں اور دیکھو کہ اسمات میں بھیڑ ہے یہ وہی لوگ ہیں جو نہیں جانتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے اور دیکھو کہ وہ شخص جو ...

مزید پڑھیے

ازل ۔ابد

اپنا تو ابد ہے کنج مرقد جب جسم سپرد خاک ہو جائے مرقد بھی نہیں وہ آخری سانس جب قصۂ زیست پاک ہو جائے وہ سانس نہیں شکست امید جب دامن دل ہی چاک ہو جائے امید نہیں بس ایک لمحہ جو آتش غم سے خاک ہو جائے ہستی کی ابد گہ قضا میں کچھ فرق نہیں فنا بقا میں خاکستر خواب شعلۂ خواب یہ اپنا ازل ہے وہ ...

مزید پڑھیے

میں وفا کا سوداگر

میں وفا کا سوداگر لٹ کے دشت و صحرا سے بستیوں میں آیا ہوں خواب ہائے ارماں ہیں یا کچھ اشک کے قطرے زیب طرف مژگاں ہیں جانے کب ڈھلک جائیں تار تار پیراہن ہے لہو میں تر لیکن جامہ زیبئ الفت لاج تیرے ہاتھوں ہے اک ہجوم آنکھوں کا چیختے سوالوں کا ہر جگہ ہے استادہ میں حیات کا مجرم آرزو کا ...

مزید پڑھیے

مواخذہ

ہمارے ساتھ جو کچھ راہزن بھی ہیں ماخوذ وہ اہل شہر کے کہنے سے چھوٹ جائیں گے گواہ کفر ہمیں میں ہے کون پہچانے ہمیں تو ایک سے لگتے ہیں آج سب چہرے ہمارا جرم تو روپوش بھی نہیں اب کے کسی گواہ کی حاجت نہیں سزا کے لئے دیار غم کی صدائے نہفتہ پہچانو ہوائے‌ جبر چراغ نفس کے در پہ ہے یہ اور بات ...

مزید پڑھیے

میں!

میں جیتا ہوں آئینوں میں آئینے غم خانے ہیں میرا عکس بنا لیتے ہیں اپنی اپنی مرضی سے میں جیتا ہوں کچھ سینوں میں سینے آئینہ خانے ہیں میرا نقش بنا لیتے ہیں اپنی اپنی مرضی سے میں جیتا ہوں مٹی پر مٹی جس سے گھر بنتے ہیں جس سے قبریں بنتی ہیں جس کا ذرہ ذرہ اوروں کا ہے ان کا جن میں میں ہوں جو ...

مزید پڑھیے

انا

اک نگار تنہائی انجمن سے نالاں بھی انجمن طلب بھی ہے ایک وہم یکتائی زندگی کا ساماں بھی موت کا سبب بھی ہے اک جنون دارائی خود رقیب ہے اپنا خود حریف یزداں ہے خواب ہے تو ایقاں ہے وہم ہے تو ایماں ہے اک حصار آئینہ سنگ زن کی زد میں ہے ایک بے کراں قلزم آب جو کی حد میں ہے اک فنا کا ...

مزید پڑھیے

باقیست شب فتنہ

اندھیرے میں چلا ہے کاروان بے جرس کوئی بلند و پست کوئی ہے نہ اس کا پیش و پس کوئی فقط آواز پائے رہرواں ہے ہم سفر اپنی شریک کارواں کتنے ہیں کتنے ہم سفر ہیں کون رہبر کون رہزن ہے کہاں پر کون ہے کس کنج میں کس کا بسیرا ہے خدا جانے یہاں تو بس اندھیرا ہی اندھیرا ہے کچھ آوازیں ہیں آوازوں کے ...

مزید پڑھیے

ایک منظر، ایک عالم

دن ڈھلے مندروں کے کلس مسجدوں کے منارے گھروں کی چھتیں سونے چاندی کے پانی سے دھلنے لگے قلۂ کوہ سے چشم نظارہ لیکن بڑی دور تک پگھلے سونے کی چادر کے نیچے تڑپتا ہوا گہری ظلمت کا ایک بحر ذخار بھی دیکھتی رہ گئی کیسا منظر ہے یہ میں ابھی عمر کے ڈھلتے سورج کی دنیا نہیں پھر بھی میرے سنہرے دو ...

مزید پڑھیے

رفتگاں

تم یہاں سو جاؤ تم کو یہ جگہ بھی گر نہ ملتی تم گلہ ہم سے نہ کرتے ہم تمہارے ساتھ کچھ مٹی دیے جاتے ہیں اسی مٹی سے اب ہم رنگ ہو جاؤ یہ سناٹا تمہارے ساتھ ہے اب اس سے ہم آہنگ ہو جاؤ تمہارے چاند سورج مر چکے ہیں تمہاری روشنی ظلمت امید و ناامیدی ناؤ کاغذ کی گھروندے ریت کے بچپن جوانی، عمر کا ...

مزید پڑھیے

صدائے گنبد‌‌ بے روزن و در

کیسی آواز ہے کوئی کہتا ہے یہ دشت موجود‌‌ و مشہور و موہوم بس حد ادراک و احساس و آواز تک ہی نہیں چشم و دل کا یہ طائر جسے سیر پرواز سمجھے ہو مجبور ہے مشت پر سر بریدہ و پابند ہی اس کا سرمایہ ہے جس پہ مغرور ہے تا بہ حد خرد تا بہ حد جنوں جو بھی ہے ہیچ و بے مایہ ہے کیا غرض اس سے یہ کیا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4728 سے 6203