دیدۂ بے رنگ میں خوں رنگ منظر رکھ دیے
دیدۂ بے رنگ میں خوں رنگ منظر رکھ دیے ہم نے اس دشت تپاں میں بھی سمندر رکھ دیے وہ جگہ جو لعل و گوہر کے لیے مقصود تھی کس نے یہ سنگ ملامت اس جگہ پر رکھ دیے اب کسی کی چیخ کیا ابھرے کہ میر شہر نے ساکنان شہر کے سینوں پہ پتھر رکھ دیے شاخساروں پر نہ جب اذن نشیمن مل سکا ہم نے اپنے آشیاں دوش ...