قومی زبان

برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا

برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا میرے ساقی مجھے مست مے عرفاں کرنا داغ دل سینے میں آہوں سے نمایاں کرنا ہم سے سیکھے شب غم کوئی چراغاں کرنا حرم و دیر میں جا جا کے چراغاں کرنا جستجو تیری ہمیں تا حد امکاں کرنا دل کے بہلانے کا وحشت میں یہ ساماں کرنا چشم خوں بار سے دامن کو گلستاں ...

مزید پڑھیے

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر داد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کر دیکھ مٹ جائے گا ہستی سے گزر جائے گا دل نا عاقبت اندیش انہیں یاد نہ کر آ گیا اب تو مجھے لطف اسیری صیاد ذبح کر ڈال مگر قید سے آزاد نہ کر جس پہ مرتا ہوں اسے دیکھ تو لوں جی بھر کے اتنی جلدی تو مرے قتل میں ...

مزید پڑھیے

پہلے شرما کے مار ڈالا

پہلے شرما کے مار ڈالا پھر سامنے آ کے مار ڈالا ساقی نہ پلائی تونے آخر ترسا ترسا کے مار ڈالا عیسیٰ تھے تو مرنے ہی نہ دیتے تم نے تو جلا کے مار ڈالا بیمار الم کو تو نے ناصح سمجھا سمجھا کے مار ڈالا خنجر کیسا فقط ادا سے تڑپا تڑپا کے مار ڈالا یاد گیسو نے ہجر کی شب الجھا الجھا کے مار ...

مزید پڑھیے

کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے

کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے پھری ہے جستجو تری کہاں کہاں لیے ہوئے زمین دل کی خاک ہے صد آسماں لیے ہوئے تنزلات عشق میں ترقیاں لیے ہوئے دل و جگر لیے ہوئے متاع جاں لیے ہوئے کسی کا ناوک نظر تلاشیاں لیے ہوئے اسی گلی سے آئی ہے شمیم زلف لائی ہے نسیم صبح آئی ہے تسلیاں لیے ...

مزید پڑھیے

اک حسن بے مثال کے جو روبرو ہوں میں

اک حسن بے مثال کے جو روبرو ہوں میں محسوس ہو رہا ہے خود اپنا عدو ہوں میں اپنی گرفت شوق سے نکلوں تو کس طرح پھیلا ہوا جہاں میں ہر ایک سو ہوں میں مجھ پہ تری حیات کا دار و مدار ہے جذبوں سے جھانکتا ہوا زندہ لہو ہوں میں گونجوں گا تیرے ذہن کے گنبد میں رات دن جس کو نہ تو بھلا سکے وہ گفتگو ...

مزید پڑھیے

اس بحر بے صدا میں کچھ اور نیچے جائیں

اس بحر بے صدا میں کچھ اور نیچے جائیں آواز کا خزینہ شاید تہوں میں پائیں گلیوں میں سڑ رہی ہیں بیتے دنوں کی لاشیں کمرے میں گونجتی ہیں بے نام سی صدائیں ماضی کی یہ عمارت مہماں ہے کوئی دم کی دیوار و در شکستہ اور تیز تر ہوائیں لیتے ہی ہاتھ میں کیوں اخبار پھاڑ ڈالا کیسی خبر چھپی تھی ہم ...

مزید پڑھیے

پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے

پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے بڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہے جل گئی شاخ آشیاں مٹ گیا تیرا گلستاں بلبل خانماں خراب اب کہیں تیرا گھر بھی ہے اب نہ وہ شام شام ہے اپنی نہ وہ سحر سحر ہونے کو یوں تو روز ہی شام بھی ہے سحر بھی ہے چاہے جسے بنائیے اپنا نشانۂ نظر زد ...

مزید پڑھیے

طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیں

طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیں ہم تجھی کو بت بے پیر لیے بیٹھے ہیں جگر و دل کی نہ پوچھو جگر و دل میرے نگہ ناز کے دو تیر لیے بیٹھے ہیں ان کے گیسو دل عشاق پھنسانے کے لئے جا بجا حلقۂ زنجیر لیے بیٹھے ہیں اے تری شان کہ قطروں میں ہے دریا جاری ذرے خورشید کی تنویر لیے بیٹھے ہیں پھر وہ ...

مزید پڑھیے

چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستی

چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستی تو ہر پردے نے دی آواز ہستی خیال یار تیرے صدقے جاؤں ترے دم سے ہے سوز و ساز ہستی میں مرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں مرا انجام ہے آغاز ہستی سکون کائنات دل بقا ہے اجل اک جنبش پرواز ہستی مری خاک سحر کا ذرہ ذرہ ہے بیدمؔ مخزن صد راز ہستی

مزید پڑھیے

تیری الفت شعبدہ پرواز ہے

تیری الفت شعبدہ پرواز ہے آرزو گر ہے تمنا ساز ہے پھر حدیث عشق کا آغاز ہے آج پھر گویا زبان راز ہے گنج اسرار ازل ہے باغ دہر پتا پتا دفتر صد راز ہے جان دے دی ان پہ اور زندہ رہے اپنے مرنے کا نیا انداز ہے ہوشیار اے ناوک افگن ہوشیار طائر جاں مائل پرواز ہے رخصت اے عقل و خرد ہوش و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4664 سے 6203