قومی زبان

کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا

کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا کان پڑتی نہیں آواز کوئی دل میں وہ شور بپا ہے اپنا اب تو ہر بات پہ ہوتا ہے گماں واقعہ کوئی سنا ہے اپنا ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے دشت تک سایہ گیا ہے اپنا خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے خود ہی در کھول دیا ہے اپنا دل کی اک شاخ بریدہ کے ...

مزید پڑھیے

بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے

بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے نگاہ شوق کسی کی نگاہ سے مل کے نکالے حوصلے مقتل میں اپنے بسمل کے نثار تیغ کے قربان ایسے قاتل کے میں اس پہ صدقے جو جائے کسی کی یاد میں جاں کسی کو چاہے میں قربان جاؤں اس دل کے بڑی اداؤں سے لی جان اپنے کشتے کی ہزار بار میں قربان اپنے قاتل کے غبار ...

مزید پڑھیے

قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے

قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے طائر جاں کے لیے پر مانگ لوں میں تیر سے ان کو کیا دھوکا ہوا مجھ ناتواں کو دیکھ میری صورت کیوں ملاتے ہیں مری تصویر سے گالیاں دے کر بجائے قم کے اے رشک مسیح آپ نے مردے جلائے ہیں نئی تدبیر سے صدقے اے قاتل ترے مجھ تشنۂ دیدار کی تشنگی جاتی رہی آب دم ...

مزید پڑھیے

بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا

بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا ایک طرف کعبے کے جلوے ایک طرف بت خانہ تھا دلبر ہیں اب دل کے مالک یہ بھی ایک زمانہ ہے دل والے کہلاتے تھے ہم وہ بھی ایک زمانہ تھا پھول نہ تھے آرائش تھی اس مست ادا کی آمد پر ہاتھ میں ڈالی ڈالی کے ایک ہلکا سا پیمانہ تھا ہوش نہ تھا بے ہوشی ...

مزید پڑھیے

تم خفا ہو تو اچھا خفا ہو

تم خفا ہو تو اچھا خفا ہو اے بتو کیا کسی کے خدا ہو اپنے مستوں کی خیرات ساقی ایک ساغر مجھے بھی عطا ہو کچھ رہا بھی ہے بیمار غم میں اب دوا ہو تو کس کی دوا ہو آؤ مل لو شب وعدہ آ کر صبح تک پھر خدا جانے کیا ہو تو نے مجھ کو کہیں کا نہ رکھا اے دل زار تیرا برا ہو غصے میں بھی رہا پاس دشمن کہہ ...

مزید پڑھیے

نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض

نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض کہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرض جو تو مہر ہے تو ذرہ ہم ہیں تو بحر ہے تو قطرہ ہم ہیں تو صورت ہے ہم آئینہ ہمیں تجھ سے غرض تجھے ہم سے غرض نہ نشاط وصال نہ ہجر کا غم نہ خیال بہار نہ خوف خزاں نہ سقر کا خطر ہے نہ شوق ...

مزید پڑھیے

کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترا

کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترا میکدہ تیرا ہے کعبہ ترا بت خانہ ترا سب ہے جانانہ ترا تو کسی شکل میں ہو میں ترا شیدائی ہوں تیرا سودائی ہوں تو اگر شمع ہے اے دوست میں پروانہ ترا یعنی دیوانہ ترا مجھ کو بھی جام کوئی پیر خرابات ملے تیری خیرات ملے تا قیامت یوں ...

مزید پڑھیے

مبارک ساقیٔ ستاں مبارک

مبارک ساقیٔ ستاں مبارک فروغ مجلس رنداں مبارک جبین شوق کے سجدوں پہ سجدے تجھے سنگ در جاناں مبارک تجلیٔ جمال روئے جاناں تجھے اے دیدۂ حیراں مبارک ادائے دلبری و دل نوازی تجھے اے خسرو خوباں مبارک ردائے خواجگی تاج ولایت تمہیں اے مرشد دوراں مبارک کسی کے زخم ہائے دل کو یارب کسی کی ...

مزید پڑھیے

عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو

عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو پھر کوئی روزن دیوار سے جھانکا دیکھو ان کے ملنے کی تمنا میں مٹا جاتا ہوں نئی دنیا ہے مرے شوق کی دنیا دیکھو طور پر ہی نہیں نظارۂ جاناں موقوف دیکھنا ہو تو وہ موجود ہے ہر جا دیکھو اثر نالۂ عاشق نہیں دیکھا تم نے تھام لو دل کو سنبھل بیٹھو اب ...

مزید پڑھیے

شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشی

شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشی سو ہوش مرے صدقے تجھ پر مری بے ہوشی گم ہونے کو پا جانا کہتے ہیں محبت میں اور یاد کا رکھا ہے یاں نام فراموشی کل غیر کے دھوکے میں وہ عید ملے ہم سے کھولی بھی تو دشمن نے تقدیر ہم آغوشی وہ قلقل مینا میں چرچے مری توبہ کے اور شیشہ و ساغر کی مے خانے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4663 سے 6203