کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا کان پڑتی نہیں آواز کوئی دل میں وہ شور بپا ہے اپنا اب تو ہر بات پہ ہوتا ہے گماں واقعہ کوئی سنا ہے اپنا ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے دشت تک سایہ گیا ہے اپنا خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے خود ہی در کھول دیا ہے اپنا دل کی اک شاخ بریدہ کے ...