یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے
یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے گھٹا کے بھیس میں مے خانے پر رحمت برستی ہے یہ جو کچھ دیکھتے ہیں ہم فریب خواب ہستی ہے تخیل کے کرشمے ہیں بلندی ہے نہ پستی ہے وہاں ہیں ہم جہاں بیدمؔ نہ ویرانہ نہ بستی ہے نہ پابندی نہ آزادی نہ ہشیاری نہ مستی ہے تری نظروں پہ چڑھنا اور ترے دل سے ...