قومی زبان

یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے

یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے گھٹا کے بھیس میں مے خانے پر رحمت برستی ہے یہ جو کچھ دیکھتے ہیں ہم فریب خواب ہستی ہے تخیل کے کرشمے ہیں بلندی ہے نہ پستی ہے وہاں ہیں ہم جہاں بیدمؔ نہ ویرانہ نہ بستی ہے نہ پابندی نہ آزادی نہ ہشیاری نہ مستی ہے تری نظروں پہ چڑھنا اور ترے دل سے ...

مزید پڑھیے

میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوش

میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوش تصور ہے ترا یا تو ہم آغوش جو نالوں کی کبھی وحشت نے ٹھانی پکارا ضبط بس خاموش خاموش کسے ہو امتیاز جلوۂ یار ہمیں تو آپ ہی اپنا نہیں ہوش اٹھا رکھا ہے اک طوفان تو نے ارے قطرے ترا اللہ رے جوش میں ایسی یاد کے قربان جاؤں کیا جس نے دوعالم کو فراموش ہے ...

مزید پڑھیے

گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے

گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے دست جنوں لگے مرے کپڑے اتارنے چھوڑا کہیں نہ مجھ کو نسیم بہار نے کنج قفس میں بھی مجھے آئی ابھارنے اب دل کی لاج مشق تصور کے ہاتھ ہے شیشہ میں اس پری کو چلا ہے اتارنے ساقی تو ساقی بادہ پرستوں کے پاؤں پر سجدے کرائے لغزش مستانہ وار نے اب تو نظر میں دولت ...

مزید پڑھیے

قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہے

قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہے مری دنیا یہاں سے ہے مری دنیا وہاں تک ہے زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے خدا جانے ہمارے عشق کی دنیا کہاں تک ہے خدا جانے کہاں سے جلوۂ جاناں کہاں تک ہے وہیں تک دیکھ سکتا ہے نظر جس کی جہاں تک ہے کوئی مر کر تو دیکھے امتحاں گاہ محبت میں کہ ...

مزید پڑھیے

کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشی

کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشی اب ہوش نہ آنے دے مجھ کو مری بے ہوشی پا جانا ہے کھو جانا کھو جانا ہے پا جانا بے ہوشی ہے ہشیاری ہشیاری ہے بے ہوشی میں ساز حقیقت ہوں دم ساز حقیقت ہوں خاموشی ہے گویائی گویائی ہے خاموشی اسرار محبت کا اظہار ہے نا ممکن ٹوٹا ہے نہ ٹوٹے گا قفل در ...

مزید پڑھیے

نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرے

نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرے تمہیں کیا جو کوئی مرتا ہے مرے اے دشمن جاں بیداد گرے تری سرمگیں آنکھوں کے صدقے انہیں چھیڑ نہ پنجۂ مژگاں سے ابھی زخم جگر ہیں تمام ہرے اے محو تغافل بے خبرے لیا عشق میں جوگ بھکاری بنے ترے نقش قدم کے پجاری بنے کبھی سجدے کئے کبھی گرد ...

مزید پڑھیے

ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے

ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے میکش ہماری خاک کے ساغر بنائیں گے وہ اک کہیں گے ہم سے تو ہم سو سنائیں گے منہ آئیں گے ہمارے تو اب منہ کی کھائیں گے کچھ چارہ سازی نالوں نے کی ہجر میں مری کچھ اشک میرے دل کی لگی کو بجھائیں گے وہ مثل اشک اٹھ نہیں سکتا زمین سے جس کو حضور اپنی نظر ...

مزید پڑھیے

داروئے درد نہاں راحت جانی صنما

داروئے درد نہاں راحت جانی صنما عیسیٰٔ مردہ دلاں یوسف ثانی صنما تیرے صدقے مری جاں تجھ پہ مرا دل قرباں وارث کون و مکاں فخر زمانی صنما تیرا ہر جلوہ ہے آئینۂ اسرار ازل تیری صورت میں ہیں انوار معانی صنما دل کے داغوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہے کہ یہی داغ تو ہیں تیری نشانی صنما تو ہی ...

مزید پڑھیے

اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے

اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے ہر مست میرے پیر مغاں کا مرید ہے واعظ عبث یہ ذکر عذاب شدید ہے اک توبہ قفل رحمت حق کی کلید ہے وحشت نے ہم کو جامۂ خاکی پہنا دیا اے عقل اب یہ کاہے کی قطع و برید ہے اے رہروان جادۂ الفت بڑھے چلو یہ کس نے کہہ دیا ہے کہ منزل بعید ہے کیونکر نہ قرب حق کی طرف ...

مزید پڑھیے

ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرے

ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرے ترا کرم ہے جسے جیسے سرفراز کرے ہر ایک ذرہ ہے عالم کا گوش بر آواز تو پھر کہاں پہ کوئی گفتگوئے راز کرے تجلیاں جسے گھیرے ہوں تیرے جلوہ کی وہ دیر و کعبہ میں کیا خاک امتیاز کرے محال ترک خیال نجات ہے لیکن وہ بے نیاز جسے چاہے بے نیاز کرے مرے کریم جو بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4665 سے 6203