قومی زبان

فاصلہ

نہ پھر وہ میں تھا نہ پھر وہ تم تھے نہ جانے کتنی مسافتیں درمیاں کھڑی تھیں اس ایک لمحے کے آئینے پر نہ جانے کتنے برس پریشان دھول کی طرح سے جمے تھے جنہیں رفاقت سمجھ کے ہم دونوں مطمئن تھے اس ایک لمحے کے آئینے میں جب اپنے اپنے نقاب الٹ کر خود اپنے چہروں کو ہم نے دیکھا تو ایک لمحہ وہ ایک ...

مزید پڑھیے

ایک خواہش

اب کی بار ملو جب مجھ سے پہلی اور بس آخری بار ہنس کر ملنا پیار بھری نظروں سے تکنا ایسے ملنا جیسے ازل سے میرے لیے تم سرگرداں تھے بحر تھا میں تم موج رواں تھے پہلی اور بس آخری بار ایسے ملنا جیسے تم خود مجھ پہ فدا ہو جیسے مجسم مہر وفا ہو جیسے بت ہو تم نہ خدا ہو

مزید پڑھیے

وصال

جب کسی تمتماتے ہوئے جسم کا سرسراتا ہوا پیرہن رس بھرے سنترے کے چمکدار چھلکے کی مانند اترنے لگے گا دھندلکے میں سوئے ہوئے نرم بسر کی نیندیں کسی سوندھی خوشبو کی جھنکار سے جب اچٹ جائیں گی اور الجھی ہوئی گرم سانسوں کی موجوں پہ میں بے سہارا بھٹکتی ہوئی ناؤ کی طرح بہنے لگوں گا یقیں ہے ...

مزید پڑھیے

شجر ہونے تک

صبر کرنے کی جو تلقین کیا کرتے تھے اب یہ لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہا کرتے تھے رات کو کاٹنا ہوتا ہے سحر ہونے تک بیج کو چاہیے کچھ وقت شجر ہونے تک

مزید پڑھیے

بیٹی کی دسویں سالگرہ پر

مری اچھی وجیہہ میں تجھ سے خوش ہوں اتنا کہ اکثر سوچتا ہوں اگر تجھ کو زمیں پر بھیجنے سے پہلے خالق مجھ سے کہتا کہ چن لے ان ہزاروں لاکھوں بچوں میں سے اک اپنے لیے تو میں تجھے ہی منتخب کرتا میں خوش قسمت ہوں کتنا دعا گو ہوں سدا جیتی رہے اور ایسی ہی اچھی رہے تو

مزید پڑھیے

قلم دوات

شجر سے کٹ کے جو بے جان ہو گئی تھی شاخ قلم بنی تو وہ دوبارہ ہو گئی زندہ شب سیہ سے زیادہ سیہ سیاہی سے تمام عالم تاریک ہو گیا روشن

مزید پڑھیے

پڑھو گے لکھو گے

اس پڑھائی لکھائی سے کیا فائدہ جو سکھائے فقط ایسی تحریر آغاز جس کا جناب و حضور انتہا تابع داری کا اک غیر مشروط پیمان اور پیشگی شکریہ جانے کس بات کا

مزید پڑھیے

بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئے

بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئے قرین مصلحت ہے اس کے ہر غم کو خوشی کہیے جہاں سازوں کو فرزانہ ہم اہل دل کو دیوانہ زمانہ تو بہت کہتا رہا اب آپ بھی کہیے بعنوان دگر پھر ہم سے قائم کر لیا تم نے وہ اک گہرا تعلق جس کو ترک دوستی کہیے سمجھ کر سنگ راہ شوق ٹھکراتا ہوں منزل کو کمال آگہی ...

مزید پڑھیے

چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو

چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو کس درد کو کہتے ہیں وفا تم بھی تو دیکھو مہتاب بکف رات کسے ڈھونڈ رہی ہے کچھ دور چلو آؤ ذرا تم بھی تو دیکھو کس طرح کناروں کو ہے سینے سے لگائے ٹھہرے ہوئے پانی کی ادا تم بھی تو دیکھو یادوں کے سمن زار سے آئی ہوئی خوشبو دامن میں چھپا لائی ہے کیا تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4645 سے 6203