فاصلہ
نہ پھر وہ میں تھا نہ پھر وہ تم تھے نہ جانے کتنی مسافتیں درمیاں کھڑی تھیں اس ایک لمحے کے آئینے پر نہ جانے کتنے برس پریشان دھول کی طرح سے جمے تھے جنہیں رفاقت سمجھ کے ہم دونوں مطمئن تھے اس ایک لمحے کے آئینے میں جب اپنے اپنے نقاب الٹ کر خود اپنے چہروں کو ہم نے دیکھا تو ایک لمحہ وہ ایک ...