جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا
جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھلائے بیٹھے تھے کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جدا جب ہو نہ سکے جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا ...