قومی زبان

جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا

جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھلائے بیٹھے تھے کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جدا جب ہو نہ سکے جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا ...

مزید پڑھیے

کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو

کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو اس دشت بے کسی میں کوئی آسرا تو ہو کچھ دھندلے دھندلے خواب ہیں کچھ کانپتے چراغ زاد سفر یہی ہے کچھ اس کے سوا تو ہو سورج ہی جب نہ چمکے تو پگھلے گی برف کیا بن جائیں وہ بھی موم مگر دل دکھا تو ہو ہر چہرہ مصلحت کی نقابوں میں کھو گیا مل بیٹھیں کس کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوا

ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوا رنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سوا ایسے پہلو میں سما جاؤ کہ جیسے دل ہو چین ملتا ہے کہاں موج کو ساحل کے سوا چیخ ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آتی ہے کون سہتا ہے بھلا وار مقابل کے سوا خشک پتوں سے چھڑا لیتی ہیں شاخیں دامن کس نے یادوں سے نبھائی ہے یہاں دل ...

مزید پڑھیے

گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں میں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیں جانے کن رشتوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے کہ میں مدتوں سے آندھیوں کی زد میں ہوں بکھرا نہیں زندگی بپھرے ہوئے دریا کی کوئی موج ہے اک دفعہ دیکھا جو منظر پھر کبھی دیکھا نہیں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں آئینے کی ...

مزید پڑھیے

ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا

ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا ایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میرا میں کہاں جاؤں کہ پہچان سکے کوئی مجھے اجنبی مان کے چلتا ہے مجھے گھر میرا جیسے دشمن ہی نہیں کوئی مرا اپنے سوا لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر ...

مزید پڑھیے

چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے

چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے غنچے بھی مہ جمالوں کے رخسار ہو گئے وہ لوگ جن کی دشت نوردی کی دھوم تھی مدت ہوئی کہ سنگ در یار ہو گئے صدیوں کا غم سمٹ کے دلوں میں اتر گیا ہم لوگ زندگی کے گنہ گار ہو گئے زلفوں کی طرح پہلے بھی بادل حسین تھے ڈولی پون تو اور طرحدار ہو گئے

مزید پڑھیے

سارے منظر فسوں تماشا ہیں

سارے منظر فسوں تماشا ہیں کل گھٹائیں تھیں آج دریا ہیں کوئی یادوں سے جوڑ لے ہم کو ہم بھی اک ٹوٹتا سا رشتہ ہیں ناؤ جیسے بھنور میں چکرائے اب بھی آنکھوں میں خواب زندہ ہیں بے تحاشہ ہواؤں سے پوچھیں راستے کس سفر کا نوحہ ہیں دھند اوڑھے نگاہیں کیسی ہیں سانس لیتے ہوئے کھنڈر کیا ہیں

مزید پڑھیے

عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے

عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے دل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہے بہتے پانی کی طرح درد کی بھی شکل نہیں جب بھی ملتا ہے نیا روپ ہوا کرتا ہے میں تو بہروپ ہوں اس کا جو ہے میرے اندر وہ کوئی اور ہے جو مجھ میں جیا کرتا ہے رنگ سا روز بکھر جاتا ہے دیواروں پر کچھ دیئے جیسا دریچے میں جلا ...

مزید پڑھیے

رہتا ہے اتنا پاؤں کے تل کا اثر سوار

رہتا ہے اتنا پاؤں کے تل کا اثر سوار سر پر ہے گھر پہنچتے ہی اگلا سفر سوار میں چیختا رہا کہ نہیں خط یہ میرے نام لیکن ہوا کے گھوڑے پہ تھا نامہ بر سوار ملتا نہیں ہے دشت نوردی میں اب وہ لطف رہنے لگا ہے ذہن پہ گھر اس قدر سوار کس چیز کی نہ جانے ضرورت کہاں پڑے کر لوں نہ اپنے ساتھ سواری ...

مزید پڑھیے

ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے

ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے اظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے آزاد ہو کے جوں ہی کھلے میرے بال و پر مجھ پر کھلا کہ پاؤں تہ دام رہ گئے میں دے سکا نہ ان کو کسی تجربے کی آنچ افسوس کچھ خیال مرے خام رہ گئے کرتی رہی زباں مری بے دست و پا مجھے باتوں میں عمر بیت گئی کام رہ گئے میں راہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4646 سے 6203