قومی زبان

بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کو

بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کو کہوں کیا سرمہ کو وسمہ کو پاں کو دیا ہے دین و دل تاب و تواں کو نگہ کو زلف کو تل کو دہاں کو کیا پھیکا مرے رشک چمن نے سمن کو یاسمن کو ارغواں کو مرے خوں کے نشاں ہیں دھو چکے شرم جبیں کو آستیں کو آسماں کو خرام مہوشاں چکر میں لائے زمانہ کو زمیں کو آسماں ...

مزید پڑھیے

یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کر

یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کر جو اے مسیحا تو ہے مسیحا تو کچھ مرے درد کی دوا کر تمہارے جلوے غضب کے دیکھے تمہارے چھینٹے بلا کے پائے لگا لگا دی بجھا بجھا کر بجھا بجھا دی لگا لگا کر ضدیں محبت سے ایسی آئیں خیال رکھا نہ اپنے گھر کا بتوں نے کعبہ کو مفت ڈھایا کسی کے ...

مزید پڑھیے

غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ

غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ صورت ابرو ہمارے سر چڑھی جاتی ہے تیغ ہوتے ہیں قرباں شہادت میں گلے مل کر شہید دوش قاتل پر ہلال عید بن جاتی ہے تیغ پست خم کھائے ہوئے لب خشک دم ڈوبا ہوا چلتے چلتے اب تو او ظالم تھکی جاتی ہے تیغ بے گناہی کا برا ہو زخم بے لذت ہوئے دست قاتل میں برنگ ...

مزید پڑھیے

خوں بہانے کے ہیں ہزار طریق

خوں بہانے کے ہیں ہزار طریق رنگ لانے کے ہیں ہزار طریق کعبہ و دیر پر نہیں موقوف اس یگانے کے ہیں ہزار طریق کوئی مذہب نہیں زمانے کا اس پرانے کے ہیں ہزار طریق عذر مستی و مے پرستی کیا بھول جانے کے ہیں ہزار طریق دل ستانی کے سیکڑوں انداز دل ستانے کے ہیں ہزار طریق یاد میں خواب میں ...

مزید پڑھیے

پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلب

پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلب اب نکل جائے گا مرا مطلب اس پہ ظاہر ہوا مرا مطلب کاش پورا کرے خدا مطلب کہہ دیا ان سے برملا مطلب اب خدا چاہے تو ہوا مطلب بات پوری ابھی نہیں نکلی منہ سے تم لے اڑے مرا مطلب کہتے ہیں عرض وصل پر وہ کہو دوسری بات دوسرا مطلب ہے یہ مطلب نہ کچھ زباں سے کہوں میں ...

مزید پڑھیے

وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میری

وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میری ہے چت بھی ان کی ہے پٹ بھی ان کی ہے جیت ان کی ہے مات میری کبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کر جو دن ہے میرا تو رات ان کی جو دن ہے ان کا تو رات میری کبھی ہے تولہ کبھی ہے ماشہ کبھی ہیں ناخوش کبھی ہیں وہ خوش قرار ان کو ...

مزید پڑھیے

لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھ

لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھ کاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھ کچھ محبت ہے کچھ مروت ہے آج پڑتی ہے مجھ پہ پیار سے آنکھ چلتے رہتے ہیں خوب تیر نگاہ باز آتی نہیں شکار سے آنکھ ٹکٹکی سے کہاں ملی فرصت آ گئی عاجز انتظار سے آنکھ کیا پڑی ہے بلا کو اس کی عرض کیوں ملائے امیدوار سے آنکھ کوئی ...

مزید پڑھیے

جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپ

جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپ نہیں معلوم کب ملیں گے آپ جائیے جائیے خدا حافظ دیکھیے بچھڑے کب ملیں گے آپ حشر میں آپ ہی ملیں گے کیا ایک سے ایک سب ملیں گے آپ ہوگا میرے لیے وہ عید کا دن آپ سے آ کے جب ملیں گے آپ عہد کے ساتھ یہ بھی ہو ارشاد کس طرح اور کب ملیں گے آپ زندگی میں تو مل نہیں ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہے

کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہے نکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہے شوق سے ظلم کرو شوق سے دو تم آزار یہ سمجھ لو مجھے بھی نوحہ گری آتی ہے کوئی کہتا ہے کہ آتا ہے دکھانا دل کا کوئی کہتا ہے تمہیں چارہ گری آتی ہے درد الفت کو بڑھا کر وہ گھٹا دیتے ہیں چاک دل کیوں نہ کریں بخیہ گری آتی ہے جھوٹ سے ...

مزید پڑھیے

ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہے

ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہے دل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہے کب سنبھالے سے سنبھلتا ہے دل پر اضطراب آہ سوزاں لب پر اب بھی سینہ بریاں اب بھی ہے سعی کوشش کے لیے میدان ہے اب بھی فراخ عزم راسخ کی ضرورت ہم کو ہاں ہاں اب بھی ہے تخم میں روئیدگی ہر نخل میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4639 سے 6203