قومی زبان

سنا ہے ایک جہاں اس جہاں سے پہلے تھا

سنا ہے ایک جہاں اس جہاں سے پہلے تھا عجب جہاں تھا اگر آسماں سے پہلے تھا اگرچہ سجدے ہیں ممنون آستاں لیکن مذاق سجدہ مجھے آستاں سے پہلے تھا تمہیں کہو کبھی تم نے سنا تھا خوش ہو کر تمہارا ذکر جو میرے بیاں سے پہلے تھا قبول خاطر عشاق ہو کے رہ نہ گیا ترا فسانہ مری داستاں سے پہلے تھا نہ ...

مزید پڑھیے

وہ بھی کیا دن تھے کہ جب اس کا مرا یارانہ تھا

وہ بھی کیا دن تھے کہ جب اس کا مرا یارانہ تھا آپ سے بیگانہ وہ تھا خود سے میں بیگانہ تھا ربط و ضبط باہمی کے ہائے وہ راز و نیاز عاشقانہ حسن تھا اور عشق معشوقانہ تھا میں اگر گل تھا تو وہ تھا بلبل شیدا مرا اور اگر وہ شمع تھا تو اس کا میں پروانہ تھا وہ کبھی دیوانہ تھا میرے لیے لیلیٰ ...

مزید پڑھیے

پرتو حسن ایک ہے اور آئنہ خانے بہت

پرتو حسن ایک ہے اور آئنہ خانے بہت اک حقیقت نے بنا ڈالے ہیں افسانے بہت رخصت اے چاک گریباں دست وحشت الوداع بڑھ چکے ہیں اب جنوں کی حد سے دیوانے بہت کھو نہ جائیں کثرت اصنام میں وحدت پرست بندگی کے ذہن میں ہوتے ہیں بت خانے بہت شمع تربت پر مری آتے ہوئے جلتے ہیں پر شمع محفل پر تو آ جاتے ...

مزید پڑھیے

نہ اب وہ عشق نہ وہ عشق کی ادائیں رہیں

نہ اب وہ عشق نہ وہ عشق کی ادائیں رہیں نہ اب وہ حسن نہ وہ حسن کی ہوائیں رہیں نہ عشق عشق رہا اب نہ حسن حسن رہا نہ وہ وفائیں رہیں اب نہ وہ جفائیں رہیں وہ حسن و عشق کے راز و نیاز ہی نہ رہے نہ وہ خطائیں رہیں اب نہ وہ سزائیں رہیں مزاج حسن و محبت میں سادگی نہ فریب نہ وہ یقین رہا اب نہ وہ ...

مزید پڑھیے

نہیں معلوم پائیں گے سکوں اہل جہاں کب تک

نہیں معلوم پائیں گے سکوں اہل جہاں کب تک خدا جانے رہے گا اس زمیں پر آسماں کب تک یہ افسانہ ابھی تو زیر عنوان کرم بھی ہے سنائے جاؤں میں ان کے ستم کی داستاں کب تک قفس میں تو مجھے جب تک بھی رہنا ہو مگر یا رب تصور میں مرے جلتا رہے گا آشیاں کب تک ضمیر آلودۂ باطل زباں آزردۂ ناحق تری محفل ...

مزید پڑھیے

میں بھی مشکل سے اٹھا رشک بھی مشکل سے اٹھا

میں بھی مشکل سے اٹھا رشک بھی مشکل سے اٹھا دل وہیں بیٹھ گیا جب تری محفل سے اٹھا تیری محفل کے علاوہ کوئی عالم ہی نہیں وہ کہیں کا نہ رہا جو تری محفل سے اٹھا مشکلیں میری محبت کی الٰہی توبہ ان کے کوچے سے جنازہ بھی تو مشکل سے اٹھا آپ میں آنے کی پھر کوئی جہت ہی نہ رہی میں تری بزم سے جب ...

مزید پڑھیے

فریب حسن ہے دنیا مری نظر کے لئے

فریب حسن ہے دنیا مری نظر کے لئے نگاہ عشق نہیں حسن رہ گزر کے لئے قفس میں رہ کے نہ روتے اگر یہ جانتے ہم چمن میں رہ کے بھی رونا ہے بال و پر کے لئے کسی جبیں میں کسی در کے واسطے بھی نہیں مری جبیں میں جو سجدے ہیں تیرے در کے لئے مری نظر کو جو ترسا رہی تھی اپنے لیے تری رہی ہے وہ صورت مری ...

مزید پڑھیے

زبان کیا ہے محبت کی گفتگو کیا ہے

زبان کیا ہے محبت کی گفتگو کیا ہے بجز نگاہ کے پیغام آرزو کیا ہے یہ جان حسن و محبت ہے آرزو کیا ہے نہ ہو یہ دل میں تو میں کیا ہوں اور تو کیا ہے لہو جو گرم نہ کر دے وہ آرزو کیا ہے جو آرزو سے نہ گرمائے وہ لہو کیا ہے خدا کرے نہ کرے حسن سے تجاوز عشق ابھی تو مجھ سے وہی کہہ رہے ہیں تو کیا ...

مزید پڑھیے

بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر

بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر ٹھہرا ہوا ہوں وقت کی رفتار دیکھ کر ہم مشربی کی شرم گوارا نہ ہو سکی خود چھوڑ دی ہے شیخ کو مے خوار دیکھ کر کیا جانے بحر عشق میں کتنے ہوئے ہیں غرق ساحل سے سطح آب کو ہموار دیکھ کر ہیں آج تک نگاہ میں حالانکہ آج تک دیکھا نہ پھر کبھی انہیں اک بار دیکھ ...

مزید پڑھیے

رہرو راہ محبت کون سی منزل میں ہے

رہرو راہ محبت کون سی منزل میں ہے دل ہے بے زار محبت اور محبت دل میں ہے کیا زباں پر ہے کسی کی کیا کسی کے دل میں ہے جس کی محفل ہے وہی جانے وہ جس مشکل میں ہے کاروان حسن و عشق اب تک کہیں ٹھہرا نہیں قیس ابھی صحرا میں ہے لیلیٰ ابھی محمل میں ہے عشرت رفتہ کا رونا کیا غم امروز میں عیش فردا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4606 سے 6203