قومی زبان

وہ آرزو وہ تمنا وہ اضطراب نہیں

وہ آرزو وہ تمنا وہ اضطراب نہیں میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی باریاب نہیں تری نظر ہے جسے انقلاب کہتے ہیں تری نظر کے سوا کوئی انقلاب نہیں تری نگاہ کی شوق آفرینیاں توبہ جو کامیاب ہے وہ بھی تو کامیاب نہیں غم فراق کی بے کیفیاں خدا کی پناہ شراب میں بھی تو کیفیت شراب نہیں مجھے پکار رہے ...

مزید پڑھیے

عشق جو ناگہاں نہیں ہوتا

عشق جو ناگہاں نہیں ہوتا وہ کبھی جاوداں نہیں ہوتا عشق رکھتا ہے جس جگہ دل کو میں بھی اکثر وہاں نہیں ہوتا مجھ پہ ہوتے ہیں مہرباں جب وہ خود پر اپنا گماں نہیں ہوتا عشق ہوتا ہے دل کا اک عالم اور دل کا بیاں نہیں ہوتا میں نے دیکھا ہے ان کی محفل میں کچھ زمان و مکاں نہیں ہوتا عشق ہوتا ...

مزید پڑھیے

وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لئے

وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لئے اپنے سر لیں میں نے کیا کیا آفتیں تیرے لئے کر لیا نظارۂ حسن اپنی آنکھوں پر حرام میں نے رد کر دیں نظر کی دعوتیں تیرے لئے تیرے ملنے کے لئے ممکن تھیں جتنی صورتیں میں نے کر ڈالیں وہ ساری صورتیں تیرے لئے دشمنوں کی پھبتیاں اور دوستوں کی لعن طعن اوڑھ ...

مزید پڑھیے

عشق ہوں تو شمع حسن یار کا پروانہ ہوں

عشق ہوں تو شمع حسن یار کا پروانہ ہوں حسن ہوں تو میں چراغ کعبہ و بت خانہ ہوں میری ہستی کار فرما ہے جہاں تک دیکھیے رند ہوں میں جام ہوں میں ساقئ مے خانہ ہوں کوئی دیوانہ مجھے کہتا ہے سودائی کوئی واقعہ یہ ہے کہ محو جلوۂ جانانہ ہوں میں ہوں ان کی ابتدا اور وہ ہیں میری انتہا ختم ہو جو ...

مزید پڑھیے

تم ہو جب میرے لیے ہیں دو جہاں میرے لئے

تم ہو جب میرے لیے ہیں دو جہاں میرے لئے یہ زمیں میرے لیے یہ آسماں میرے لئے اس طرح جذبات آزادی بہل جائیں گے کیا بن رہا ہے کیوں قفس میں آشیاں میرے لئے میں چلا جاؤں نہ گلشن چھوڑ کر قبل از بہار کیوں گریں سارے چمن پر بجلیاں میرے لئے رو رہا ہوں آج میں سارے جہاں کے واسطے روئے گا کل ...

مزید پڑھیے

یہ میں ہوں تجھ میں اب یا مجھ میں تو ہے

یہ میں ہوں تجھ میں اب یا مجھ میں تو ہے یہ کون اب آئنے میں رو بہ رو ہے یہ دل ہے اور ہے تیرا تصور زباں ہے اور تیری گفتگو ہے انہیں کا ہے یہ دل بھی آرزو بھی نہ دل میرا نہ میری آرزو ہے رہا کرتا ہوں کچھ کھویا ہوا سا خدا جانے مجھے کیا جستجو ہے ہوا ہوں میں فنا فی العشق بسملؔ نہ اب دل ہے نہ ...

مزید پڑھیے

فراہم جس قدر عشرت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں

فراہم جس قدر عشرت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں سکون روح سے محروم انساں ہوتے جاتے ہیں کبھی طرز تغافل تھے یہی انداز محبوبی جو اب صرف نوازش ہائے پنہاں ہوتے جاتے ہیں شباب و حسن روز افزوں کا ان کے کچھ یہ عالم ہے کہ ہم شرمندۂ شوق فراواں ہوتے جاتے ہیں ابھی جامے مئے رنگیں لب لعلیں تک آیا ...

مزید پڑھیے

نگاہ ناز تری جب سے کارساز نہیں

نگاہ ناز تری جب سے کارساز نہیں جگر میں درد نہیں قلب میں گداز نہیں نفس نہیں کوئی ایسا کہ جاں گداز نہیں یہ میرا عشق ہے زاہد تری نماز نہیں جسے فرشتوں سے قدرت چھپا کے رکھتی ہے شراب خانے میں وہ راز کوئی راز نہیں ہوس کی زندگیٔ جاوداں پہ لعنت ہے بلا سے عمر محبت اگر دراز نہیں تعلقات ...

مزید پڑھیے

رہنے کو ہم قفس میں رہے آشیاں سے دور

رہنے کو ہم قفس میں رہے آشیاں سے دور لیکن چمن میں تھی یہ جگہ آسماں سے دور اس قرب سے جو سجدوں میں تجھ سے ہوا مجھے سجدے بھی ہیں مقابلتاً آستاں سے دور جتنا میں آشیاں میں قفس سے قریب تھا اتنا ہی اب قفس میں ہوں میں آشیاں سے دور حاصل نہ جس کی روح کو ہو قرب میکدہ وہ نا مراد رحمت پیر مغاں ...

مزید پڑھیے

شراب عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے

شراب عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے کہیں یہ زہر ہوتی ہے کہیں اکسیر ہوتی ہے نہ مفہوم اس کا فرقت ہے نہ منشا وصل ہے اس کا محبت اصل میں اک خواب خود تعبیر ہوتی ہے جدا ہو کر اسی میں جذب ہو جاتی ہے پھر اک دن محبت آفتاب حسن کی تنویر ہوتی ہے مرا ذوق نظر ہو یا ترا فیض تصور ہو مرے آئینے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4607 سے 6203