وہ آرزو وہ تمنا وہ اضطراب نہیں
وہ آرزو وہ تمنا وہ اضطراب نہیں میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی باریاب نہیں تری نظر ہے جسے انقلاب کہتے ہیں تری نظر کے سوا کوئی انقلاب نہیں تری نگاہ کی شوق آفرینیاں توبہ جو کامیاب ہے وہ بھی تو کامیاب نہیں غم فراق کی بے کیفیاں خدا کی پناہ شراب میں بھی تو کیفیت شراب نہیں مجھے پکار رہے ...