ضبط نالہ دل فگار نہ کر
ضبط نالہ دل فگار نہ کر آگ کو اور شعلہ بار نہ کر شب غم داغ دل کی شمع جلا چاند تاروں کا انتظار نہ کر شوق سے پھول چن چمن میں مگر خار و خس کو ذلیل و خوار نہ کر ماہ و انجم پہ ڈال بڑھ کے کمند پست ذروں پر اپنا وار نا کر گامزن ہو جو شوق منزل ہے راہ کے پیچ و خم شمار نہ کر اور پیدا کر اپنے ...