قومی زبان

ضبط نالہ دل فگار نہ کر

ضبط نالہ دل فگار نہ کر آگ کو اور شعلہ بار نہ کر شب غم داغ دل کی شمع جلا چاند تاروں کا انتظار نہ کر شوق سے پھول چن چمن میں مگر خار و خس کو ذلیل و خوار نہ کر ماہ و انجم پہ ڈال بڑھ کے کمند پست ذروں پر اپنا وار نا کر گامزن ہو جو شوق منزل ہے راہ کے پیچ و خم شمار نہ کر اور پیدا کر اپنے ...

مزید پڑھیے

کب سے الجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم

کب سے الجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم دو اشک پونچھنے کو تری آستیں سے ہم ہوگا تمہارا نام ہی عنوان ہر ورق اوراق زندگی کو الٹ دیں کہیں سے ہم سنگ در عدو پہ ہماری جبیں نہیں یہ سجدے کر رہے ہیں تمہاری جبیں سے ہم دہرائی جا سکے گی نہ اب داستان عشق کچھ وہ کہیں سے بھول گئے ہیں کہیں سے ...

مزید پڑھیے

نیا سماں ہے نیا اک جہاں ہے اور ہم ہیں

نیا سماں ہے نیا اک جہاں ہے اور ہم ہیں نئی زمین نیا آسماں ہے اور ہم ہیں نئے مقام نئے مرحلے نئی راہیں نئے ارادے نیا کارواں ہے اور ہم ہیں ہمارے نقش قدم ہیں یہ مہر و ماہ و نجوم ہماری راہ سر کہکشاں ہے اور ہم ہیں وہ جس حیات پہ تھی مرگ ناگہاں طاری وہی حیات ہے اور جاوداں ہے اور ہم ...

مزید پڑھیے

مری طرح کوئی نا کامیاب ہو نہ سکا

مری طرح کوئی نا کامیاب ہو نہ سکا کسی نگاہ میں بھی انتخاب ہو نہ سکا خیال و خواب میں بھی کامیاب ہو نہ سکا مرا خیال کبھی ان کا خواب ہو نہ سکا چمن ہزار بہ رعنائی بہار رہا تمہارا حسن تمہارا شباب ہو نہ سکا مری نگاہ کے انداز شوق جب دیکھے حجاب کر نہ سکے وہ حجاب ہو نہ سکا جہان عشق میں وہ ...

مزید پڑھیے

التجائیں کرنے والے کو دعا سے کیا غرض

التجائیں کرنے والے کو دعا سے کیا غرض جس کو ہو تجھ سے غرض اس کو خدا سے کیا غرض پی رہا ہے مسکرا کر جام صحت موت کا تیرے بیمار محبت کو شفا سے کیا غرض عشق کشتی اپنی خود کھیتا ہے اپنے زور پر نا خدا سے واسطہ کیا اور خدا سے کیا غرض میں ہوں اور اب آستان عشق کی ہیں عظمتیں اب مرے سجدوں کو ...

مزید پڑھیے

فریب عقل میں مجنون عشق آ نہ سکا

فریب عقل میں مجنون عشق آ نہ سکا بھلا دیا اسے آنکھوں نے دل بھلا نہ سکا فروغ حسن سے راتیں وہ جگمگا نہ سکا حریم عشق میں جو شمع دل جلا نہ سکا بھلا دیا ہو کبھی یاد کر کے ممکن ہے مگر میں بھول کے تجھ کو کبھی بھلا نہ سکا نہ دل ملا نہ ملیں دل کی لذتیں اس کو جو تیرے درد محبت کو دل بنا نہ ...

مزید پڑھیے

غم نہیں ناز حسن ہے حسن کے ناز اٹھائے جا

غم نہیں ناز حسن ہے حسن کے ناز اٹھائے جا اے دل مبتلائے‌ غم غم میں بھی مسکرائے جا حسن ہے عشق‌ آفریں حسن پہ دل لٹائے جا عشق کو درد دل بنا درد کو دل بنائے جا جلوہ بہ جلوہ گر نہیں پردہ بہ پردہ آئے جا دل میں مرے سمائے جا روح میں جگمگائے جا شورش کائنات میں غم کو خوشی بنائے جا ہنس مرے ...

مزید پڑھیے

ہوس کی دنیا میں رہنے والوں کو میں محبت سکھا رہا ہوں

ہوس کی دنیا میں رہنے والوں کو میں محبت سکھا رہا ہوں جہاں پہ دامن بچھے ہوئے ہیں وہاں پر آنکھیں بچھا رہا ہوں سرود غم پر بھی زندگی میں طرب کے دھارے بہا رہا ہوں میں ان کے ساز جفا پر اپنی وفا کے نغمے سنا رہا ہوں الٰہی دنیا میں اور کچھ دن ابھی قیامت نہ آنے پائے ترے بنائے ہوئے بشر کو ...

مزید پڑھیے

کون سمجھے عشق کی دشواریاں

کون سمجھے عشق کی دشواریاں اک جنوں اور لاکھ ذمہ داریاں اہتمام زندگی عشق دیکھ روز مر جانے کی ہیں تیاریاں عشق کا غم وہ بھی تیرے عشق کا کون کر سکتا مری غم خواریاں بے خودی عشق جیسے غم کی نیند غم کی نیندیں روح کی بیداریاں عشق بھی ہے کس قدر بر خود غلط ان کی بزم ناز اور خودداریاں اس ...

مزید پڑھیے

عشق پر زور چل نہیں سکتا

عشق پر زور چل نہیں سکتا دل سنبھالے سنبھل نہیں سکتا آ کے دنیا میں انقلاب کوئی دل کی دنیا بدل نہیں سکتا ان کی نظریں بدل گئیں ورنہ یوں زمانہ بدل نہیں سکتا رنگ ہستی ہے انقلاب اگر رنگ ہستی بدل نہیں سکتا آ گیا ہوں وہاں سے گھبرا کر اب کہیں دل بہل نہیں سکتا عشق کی آگ میں جو جلتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4605 سے 6203