قومی زبان

ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے

ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے کس حسن کا ہے حسن ادا کس ادا کی ہے چشم سیاہ یار سے سازش حیا کی ہے لیلیٰ کے ساتھ میں یہ سہیلی بلا کی ہے تصویر کیوں دکھائیں تمہیں نام کیوں بتائیں لائے ہیں ہم کہیں سے کسی بے وفا کی ہے انداز مجھ سے اور ہیں دشمن سے اور ڈھنگ پہچان مجھ کو اپنی پرائی قضا ...

مزید پڑھیے

عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو

عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو مگر ہم تم کو دیکھے جائیں تم چاہو جدھر دیکھو لڑائی سے یوں ہی تو روکتے رہتے ہیں ہم تم کو کہ دل کا بھید کہہ دیتی ہے تم چاہو جدھر دیکھو ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو سوال وصل پر کچھ سوچ کر ...

مزید پڑھیے

جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیں

جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیں بات سنتے نہیں دشنام دیئے جاتے ہیں ترچھی نظروں سے کئے اس نے بہت دل زخمی تیر ٹیڑھے مگر کام دیئے جاتے ہیں کہہ گیا یہ بھی کوئی روٹھ کے جانے والا ہم تجھے موت کا پیغام دیئے جاتے ہیں پاسبان جاگ اٹھیں وہ تو انہیں دے دینا لکھ کے کاغذ پہ یہ اک نام دیئے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند یہ دل وہی تو ہے جو تمہیں اب ہے نا پسند معشوق کر چکے ہیں جسے بارہا پسند جنس وفا کو کرتے ہیں اہل وفا پسند دشمن کو کیا تمیز ہے دشمن کی کیا پسند جنت کی کوئی حور نظر پر چڑھی نہیں دنیا میں مجھ کو ایک پری زاد ...

مزید پڑھیے

وہ سن کر حور کی تعریف پردے سے نکل آئے (ردیف .. ن)

وہ سن کر حور کی تعریف پردے سے نکل آئے کہا پھر مسکرا کر حسن زیبا اس کو کہتے ہیں اجل کا نام دشمن دوسرے معنی میں لیتا ہے تمہارے چاہنے والے تمنا اس کو کہتے ہیں مرے مدفن پہ کیوں روتے ہو عاشق مر نہیں سکتا یہ مر جانا نہیں ہے صبر آنا اس کو کہتے ہیں نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ...

مزید پڑھیے

ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا

ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا تمہارا بن نہیں سکتا ہمارا ہو نہیں سکتا سنا پہلے تو خواب وصل پھر ارشاد فرمایا ترے رسوا کئے سے کوئی رسوا ہو نہیں سکتا لگاوٹ اس کی نظروں میں بناوٹ اس کی باتوں میں سہارا مٹ نہیں سکتا بھروسا ہو نہیں سکتا تمنا میں تری مٹ جائے دل ہاں یہ تو ممکن ...

مزید پڑھیے

بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہم

بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہم تڑپیں جو تجھے دیکھ کے بسمل تو نہیں ہم ہیں یاد بہت مکر و فریب ایسے ہمیں بھی مٹھی میں جو آ جائیں تری دل تو نہیں ہم اب آپ کوئی کام سکھا دیجئے ہم کو معلوم ہوا عشق کے قابل تو نہیں ہم کہنے کو وفادار تمہیں لاکھ میں کہہ دیں دل سے مگر اس بات کے قائل تو ...

مزید پڑھیے

زمانے کی طرح ہمدم نہ ہونا

زمانے کی طرح ہمدم نہ ہونا خطاؤں پر میری برہم نہ ہونا مسائل دوریاں ہرگز نہیں تھیں مسائل دوریوں کا کم نہ ہونا یہی تو رات ہونے کا سبب ہے زمیں کا شمس کا باہم نہ ہونا چلے آؤ محبت کا ہے موسم دوبارہ یہ حسیں موسم نہ ہونا عجب بستی تمہارے دل کی بستی کسی غم کا جہاں ماتم نہ ہونا مرے دل کی ...

مزید پڑھیے

عجب الجھن میں پڑتے جا رہے ہیں

عجب الجھن میں پڑتے جا رہے ہیں کدھر یہ سارے رستے جا رہے ہیں بڑھی ہے حیثیت پھر بھی مگر کیوں میرے ارمان گھٹتے جا رہے ہیں انہیں کی پیروی کرتا ہے یہ دل جرح جو ہم سے کرتے جا رہے ہیں ادھر محفل تمہیں راس آ گئی ہے ادھر ہم خود سے کٹتے جا رہے ہیں برا لگتا نہیں موسم کوئی ہو نئی رنگت میں ...

مزید پڑھیے

گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے

گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے ہوا ہو جرم گہرا تو سزا سنگین ہوتی ہے کھلے رکھتے ہو دروازے دریچے بارہا تم کیوں سنو دنیا تماشوں کی بڑی شوقین ہوتی ہے سفر میں دھوپ ہے تو کیا اداسی اوڑھ لو گے تم ملے سائے جو تھے ان کی بڑی توہین ہوتی ہے ذرا رو لو کہیں آنسو اگر یہ سوکھ جائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4600 سے 6203