قومی زبان

پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی

پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی یہ شوخ نگاہی دم رخصت نہیں اچھی سچ یہ ہے کہ گھر سے ترے جنت نہیں اچھی حوروں کی ترے سامنے صورت نہیں اچھی بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی کیوں کل کی طرح وصل میں تشویش ہے اتنی تم آج بھی کہہ دو کہ طبیعت نہیں ...

مزید پڑھیے

منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے

منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے بھولے نہیں ہیں ہم وہ مدارات رات کی جی چاہتا ہے پھر کہیں مہمان جائیے بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے آگے ہے گھر رقیب کا بس ساتھ ہو چکا اب آپ کا خدا ہے نگہبان جائیے الفت جتا کے ...

مزید پڑھیے

لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیں

لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیں لڑکپن ہے ابھی نام خدا تلوار رہنے دیں کہیں کس منہ سے اپنا آئینہ بردار رہنے دیں تمنا ہے غلامی میں ہمیں سرکار رہنے دیں وہ کیوں بیخودؔ کو محو لذت دیدار رہنے دیں وہ دیوانے نہیں غافل کو جو ہشیار رہنے دیں مرے دم تک وفا و عشق بھی دنیا میں باقی ...

مزید پڑھیے

عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ

عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ واقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپ دل بھی کبھی ملا کے ملے ہیں کسی سے آپ ملنے کو روز ملتے ہیں یوں تو سبھی سے آپ سب کو جواب دے گی نظر حسب مدعا سن لیجے سب کی بات نہ کیجے کسی سے آپ مرنا مرا علاج تو بے شک ہے سوچ لوں یہ دوستی سے کہتے ہیں یا دشمنی سے ...

مزید پڑھیے

کب تک کریں گے جبر دل ناصبور پر

کب تک کریں گے جبر دل ناصبور پر موسیٰ تو جا کے بیٹھ رہے کوہ طور پر کوئی مجھے بتائے کہ اب کیا جواب دوں وہ مجھ سے عذر کرتے ہیں میرے قصور پر طالب ہیں جو ترے انہیں جنت سے کیا غرض پڑتی نہیں ہے آنکھ شہیدوں کی حور پر جلوہ دکھائیے ہمیں بس عذر ہو چکا جلنے کے واسطے نہیں آئے ہیں طور پر زاہد ...

مزید پڑھیے

وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے

وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے جاتے ہوئے فرما تو گئے صبر خدا دے ہر بات کا اللہ نے بخشا ہے سلیقہ لڑنا بھی مزا دے ترا ملنا بھی مزا دے اس طرح بھی غش سے کہیں ہوتا ہے افاقہ یا زلف سنگھا یا مجھے دامن کی ہوا دے دم چڑھنے لگا غصے کے تیور جو بنائے نازک ہو جو اتنا وہ مجھے خاک سزا ...

مزید پڑھیے

بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو

بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو تم کو الفت نہیں مجھ سے یہ کہا تھا میں نے ہنس کے فرماتے ہیں تم اپنی محبت دے دو ہم ہی چوکے سحر وصل منانا ہی نہ تھا اب ہے یہ حکم کہ جانے کی اجازت دے دو مفت لیتے بھی نہیں پھیر کے دیتے بھی نہیں یوں سہی خیر کہ دل کی ...

مزید پڑھیے

شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا

شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا تم جس پہ رو رہے تھے یہ کس کا مزار تھا تڑپوں گا عمر بھر دل مرحوم کے لئے کمبخت نا مراد لڑکپن کا یار تھا سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا کیا کیا ...

مزید پڑھیے

ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہے

ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہے پلٹنا بات کو دم بھر میں بات کتنی ہے ابھی تو شام ہوئی ہے ابھی تو آئے ہو ابھی سے پوچھ رہے ہو کہ رات کتنی ہے وہ سنتے سنتے جو گھبرائے حال دل بولے بیان کتنی ہوئی واردات کتنی ہے ترے شہید کو دولہا بنا ہوا دیکھا رواں جنازے کے پیچھے برات کتنی ہے کسی طرح ...

مزید پڑھیے

بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گا

بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گا تیرے ہوتے اس صفت کا دوسرا ہو جائے گا شرط کر لو پھر مجھے برباد ہونا بھی قبول خاک میں مل کر تو حاصل مدعا ہو جائے گا سر نہ ہوگا دوش پر تو کیا نہ ہوگی گفتگو ہچکیوں سے شکر قاتل کا ادا ہو جائے گا سینہ توڑا دل میں چٹکی لی جگر زخمی کیا کیا خبر تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4599 سے 6203