پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی
پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی یہ شوخ نگاہی دم رخصت نہیں اچھی سچ یہ ہے کہ گھر سے ترے جنت نہیں اچھی حوروں کی ترے سامنے صورت نہیں اچھی بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی کیوں کل کی طرح وصل میں تشویش ہے اتنی تم آج بھی کہہ دو کہ طبیعت نہیں ...