قومی زبان

قصہ وصل دلا لب پہ تو لانا نہ کہیں

قصہ وصل دلا لب پہ تو لانا نہ کہیں مجھ کو ڈر ہے کوئی سن لے یہ فسانہ نہ کہیں چھوڑے جاتا ہوں نشانی میں ترے پاس یہ دل جس طرح چاہے تو رکھیو پہ گنوانا نہ کہیں میں لگاوٹ جو لگا کرنے تو بولا وہ شوخ باتوں باتوں میں مجھے ہاتھ لگانا نہ کہیں میری وحشت سے منادی ہے یہ ناکوں پر آج دیکھیو شہر ...

مزید پڑھیے

میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتا

میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتا جو پہلے سے خبر ہوتی کہ کیا ہوتا تو کیا ہوتا مری ہستی کا نقطہ گر نہ نقش ماسوا ہوتا ازل کی ابتدا ہوتا ابد کی انتہا ہوتا سمجھ لے راہ الفت میں کچھ ایسی ہی پڑی ورنہ نہ دل مجھ سے جدا ہوتا نہ میں دل سے جدا ہوتا بنی جو کچھ بنی ہم پر مگر پھر بھی یہ ...

مزید پڑھیے

جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاس

جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاس اٹھے آخر تک بگولے آہ اس محمل کے پاس ہیں جگر میں تیرے ناوک کی قسم گنتی کے زخم نام کو رستے ہوئے ناسور ہیں کچھ دل کے پاس ایک منزل روح کو تا مرگ ہے ہر ایک سانس یہ مسافر دور منزل سے ہے اور منزل کے پاس موج خون کشتگاں ہے وحشت آموز خیال دل لرزتا ہے ...

مزید پڑھیے

جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں مرے عزیز مرے چارہ گر کو دیکھتے ہیں پڑی ہے سامنے جیسے کسی عزیز کی لاش ہم اس نظر سے دل بے خبر کو دیکھتے ہیں کٹیں گی موت کے ہاتھوں یہ بیڑیاں اک دن اس ایک آس کو اور عمر بھر کو دیکھتے ہیں گزر رہی ہے اسیران بدنصیب کی یوں کبھی قفس کو کبھی بال و پر کو ...

مزید پڑھیے

اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں

اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں یعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیں کب ہم سے بے دلوں پہ نگاہ جفا نہیں ہم خوب جانتے ہیں کہ تو بے وفا نہیں اے رشک پردہ سوز شکایت کی جا نہیں وہ بزم ناز ہے دل بے مدعا نہیں دکھلائے پھر خدا نہ وہ مایوسیوں کے دن ہوتا تھا یہ خیال کہ ہے یا خدا نہیں اللہ رے بے ...

مزید پڑھیے

ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھا

ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھا قفس کو بھی مری آنکھوں نے آشیاں دیکھا قفس کو دیکھ کے جب سوئے آشیاں دیکھا زمیں سے چرخ تک اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جو کہہ کے لفظ وفا چپ رہا تو وہ بولے کہاں سے چھوڑ دی ظالم نے داستاں دیکھا تڑپ کے آپ ہی باہر تھا آپ پردے کے نگاہ یاس سے یوں سوئے پاسباں ...

مزید پڑھیے

اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں

اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں کہ ہستی کا فسانہ ہوں عدم کی داستاں ہوں میں زمیں والے جو کہتے ہیں کہ اب کیا پیس ڈالے گا تو ملتا ہے جواب اس کا کہ دور آسماں ہوں میں میں سمجھاتا ہوں جب دل کو تو کہتا ہے متانت سے زمانے کی زباں تو ہے حقیقت کی زباں ہوں میں مری تصویر میرا بت مرا ...

مزید پڑھیے

اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی

اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی کہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئی بیداد حسن یہ ہے تو پھر کیا کرے کوئی رسوائیوں کے بعد بھی پردہ کرے کوئی تم بھی کہو تو دل کو بتا دیں اب اس کا حال اب وقت وہ نہیں ہے کہ پردہ کرے کوئی کھل جائیں حسن و عشق کی نیرنگیوں کے راز دیکھوں جو پھر کسی کی تمنا ...

مزید پڑھیے

اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے

اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے درد کے پتلے تھے آخر عمر بھر رویا کیے حال اہل درد نے ان کو رلایا عمر بھر جن کو حیرت تھی یہ کیونکر رات بھر رویا کیے دل کی مجبوری پہ رونے سے جو میں روکا گیا بے بسی سے دل کے چھالے پھوٹ کر رویا کیے پاس ناموس محبت نے کچھ ایسا کہہ دیا سر جھکا کر ہم تو وہ ...

مزید پڑھیے

کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا

کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا ازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنا ہے کچھ تو بات کہ دعویٰ ہے اک جہاں کا یہی کہ تو ہے اپنا زمیں اپنی آسماں اپنا ہر ایک گام پہ ہر سمت ہے سجود نیاز دیار یار کو جاتا ہے کارواں اپنا نظر بھی دفتر اعمال پر وہ کر نہ سکے تھا اپنا حال زباں اپنی اور بیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4589 سے 6203