قومی زبان

پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو

پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو دل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہو کاہے کو یوں بسی کبھی بستی خیال کی دنیا اجڑ بھی جائے تو ہم کو خبر نہ ہو اف اف بنی ہے ایک زمانے کی جان پر اب دل جلوں کی آہ میں یا رب اثر نہ ہو یا اٹھتی موج چلتی ہوا سے تھی برہمی یا اب مجھے ملال کسی بات پر نہ ...

مزید پڑھیے

کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں

کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں میں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیں نشتر کا کام کیا ہے اب اچھا ہے درد دل صدقے ترے نہیں نہیں اے چارہ گر نہیں کہتی ہے اہل ذوق سے بیتابیٔ خیال جس میں یہ اضطراب کی خو ہو بشر نہیں ہستی کا قافلہ سر منزل پہنچ گیا اور ہم کہا کیے ابھی وقت سفر ...

مزید پڑھیے

اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا

اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا مشکل تھا اپنے گھر میں بیگانہ وار رہنا اے موت رحم کر اب یہ کوئی زندگی ہے نظروں سے اپنی گر کر دنیا پہ بار رہنا ہاتھوں پہ سر کو رکھے ہر رند کہہ رہا ہے بے کیف رہنے ہی تک تھا بے خمار رہنا کس طرح میں نے مانا اے اختیار والے میت کے مثل اپنا بے اختیار ...

مزید پڑھیے

وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگا

وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگا جسے دار جزا سمجھے ہیں دار امتحاں ہوگا جدا سب عالموں سے ایک دن تیرا جہاں ہوگا محبت کی زمیں ہوگی وفا کا آسماں ہوگا نہ میں دیر و حرم سمجھوں نہ میں عرش و ارم جانوں جہاں سجدے کو دل جھک جائے تیرا آستاں ہوگا امیدیں دل کی وابستہ ہیں میدان قیامت ...

مزید پڑھیے

پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوں

پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوں میں سیل آبشار ہوں ابر بہار ہوں ابر بہار ہوں نہ فضائے بہار ہوں میں گرد دامن چمن روزگار ہوں اے باغبان گلشن ہستی بتا مجھے اپنی بہار ہوں کہ چمن کی بہار ہوں ہیں یاں کے ذرے ذرے میں بے تابیاں مری میں جان بے قرار و دل بے قرار ہوں کہتا ہے حسن یار سے حسن نگاہ ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گا

کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گا تو ان سے خاک میں بھی ملایا نہ جائے گا رحمت پہ تجھ کو ناز ہے عصیاں پہ مجھ کو ناز سر تیرے سامنے تو جھکایا نہ جائے گا نظروں سے گرنے والے کو کافی ہے اک نظر کچھ نقش پا نہیں کہ اٹھایا نہ جائے گا تکلیف کر تبسم پنہاں سے پوچھ لے زخم نہاں کو مجھ سے دکھایا ...

مزید پڑھیے

تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم

تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم کیا بعد حشر بھی شب ہجراں ہے اور ہم دنیا تو جانتی ہے کہ زنداں ہے اور ہم ہم جانتے ہیں خلوت جاناں ہے اور ہم پیری ہے اور کوشش درماں ہے اور ہم میداں ہے اور عمر گریزاں ہے اور ہم کس کو بھلا نصیب ہوئی ایسی سلطنت حد خیال تک یہ بیاباں ہے اور ہم اک نام ...

مزید پڑھیے

جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا

جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا پھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہا کہتی ہے دل کے حال پہ گھبرا کے بے خودی یہ آپ میں بھی آنے کے قابل نہیں رہا اک جلوہ پیش پیش ہے اور بڑھ رہے ہیں ہم اب کچھ خیال دوریٔ منزل نہیں رہا دنیا یہی ہے شک ہے تو اس کو مٹا کے دیکھ پھر کچھ نہیں جہان میں جب دل نہیں ...

مزید پڑھیے

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی تو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہو جاتی شب وعدہ میں ان کی کمسنی سے ڈر گیا ورنہ ذرا سی بات پر نازل مصیبت اور ہو جاتی یہی اچھا ہوا تو نے جو زلفوں کو منڈا ڈالا نہیں تو تیرے دیوانوں کی حالت اور ہو جاتی اگر تم نیم عریاں حشر کے میداں میں آ ...

مزید پڑھیے

جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا

جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا تو سالے نے کہا ہنس کر کے ہاں ہاں ہو نہیں سکتا بس اب بارہ برس کے ہو گئے ختنہ کرا ڈالو مسلمانی نہ ہو جس کی مسلماں ہو نہیں سکتا نہ ہوگا قیس تو اس کی جگہ ہم جانشیں ہوں گے کہ دیوانوں سے یہ خالی بیاباں ہو نہیں سکتا کہو چارہ گروں سے ایک دم باہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4588 سے 6203