پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو
پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو دل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہو کاہے کو یوں بسی کبھی بستی خیال کی دنیا اجڑ بھی جائے تو ہم کو خبر نہ ہو اف اف بنی ہے ایک زمانے کی جان پر اب دل جلوں کی آہ میں یا رب اثر نہ ہو یا اٹھتی موج چلتی ہوا سے تھی برہمی یا اب مجھے ملال کسی بات پر نہ ...