قومی زبان

ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا

ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا لب ہم نوائے خاطر مغرور ہو گیا بزم خیال یار میں ہے محو آرزو مجھ سے مرا خیال بہت دور ہو گیا مٹنا تھا کب تراوش زخم جگر کا رنگ ہاں رستے رستے زخم سے ناسور ہو گیا تھا جلوہ گاہ یار مرا دامن نگاہ جس ذرہ پر نگاہ پڑی طور ہو گیا بس اے سکون یاس زیادہ ستم نہ ...

مزید پڑھیے

امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں

امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں جو نہ لکھوائے کوئی لکھ دے مری تقدیر میں خواب ہستی دیکھنے والے تھے کیسے بد نصیب خواب کا عالم بھی گزرا دہشت تعبیر میں حشر میں ہلچل ہوئی قاتل کو غش آنے لگے آئے وہ کچھ بے گنہ جکڑے ہوئے زنجیر میں ان نصیبوں پر تھی قدرت سے الجھنے کی امنگ عمر بھر ...

مزید پڑھیے

یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہونا

یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہونا ہائے وہ نشتر مژگاں کا رگ جاں ہونا وہ تمناؤں کا رہ رہ کے پریشاں ہونا وہ تری یاد کا دل میں ترے مہماں ہونا پردے پردے میں ترے وصل کا ساماں ہونا درد پنہاں کا ترا غمزۂ پنہاں ہونا محشر ناز ہیں ذرات فضائے کونین اللہ اللہ کسی کافر کا خراماں ...

مزید پڑھیے

صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کا

صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کا حشر ہے وصل کا دن یا مری رسوائی کا حشر میں کیا تجھے دیکھیں گے ازل کے بچھڑے حسن وہ اور زمانہ یہ خود آرائی کا ابھی حیراں ابھی مضطر ابھی ہشیار ابھی مست حال دیکھا ہی کرے تیرے تماشائی کا اف ترا شوق میں بڑھنا وہ لپٹ جانے کو اف وہ آئینے میں عالم تری ...

مزید پڑھیے

نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھا

نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھا لکھا نہ تھا پڑھا نہ تھا سنا نہ تھا ہوا نہ تھا زمانہ میں جو حادثہ مرے لئے نیا نہ تھا کسی نے بھی سنا نہ تھا کہیں بھی وہ ہوا نہ تھا جو اس گلی میں رہ گئے خوشی کو اپنی دخل کیا قسم کسی کی ناصحا قدم ہی اٹھ سکا نہ تھا غضب میں جان پڑ گئی نہ پوچھ راحت ...

مزید پڑھیے

کب تلک کرچیاں چنوں گی میں

کب تلک کرچیاں چنوں گی میں سنگ دل تجھ سے لڑ پڑوں گی میں میری آنکھیں نہیں رہیں لیکن آئنہ دیکھتی رہوں گی میں ماں کے نقش قدم پہ چلنا ہے صرف گڑیا نہیں رہوں گی میں کھینچ کر اک لکیر اداسی کی رنگ منظر میں کچھ بھروں گی لفظ اب رائیگاں نہ ہوں گے مرے ان سے پھر زخم دل سیوں گی میں

مزید پڑھیے

دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے

دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے اس جیسا روپ اس کو دکھانا مجھے بھی ہے میرے خلاف سازشیں کرتا ہے روز وہ آخر کوئی قدم تو اٹھانا مجھے بھی ہے انگلی اٹھا رہا ہے تو کردار پر مرے تجھ کو ترے مقام پہ لانا مجھے بھی ہے نظریں بدل رہا ہے اگر وہ تو غم نہیں کانٹا اب اپنی رہ سے ہٹانا مجھے بھی ...

مزید پڑھیے

سو صدیوں کا نوحہ ہے

سو صدیوں کا نوحہ ہے تم کہتے ہو نغمہ ہے دھول اڑاتی جھریوں میں تہذیبوں کا ملبہ ہے مٹی کے دو کوزوں میں کچھ خوابوں کا گریہ ہے ریشم ہی سے ادھڑے گا یہ پھولوں کا بخیہ ہے جتنا بھی تم صاف کرو دھبہ آخر دھبہ ہے اس گھر کی ویرانی کا جنگل جیسا حلیہ ہے در آتی ہے چپکے سے یاد پہ کس کا پہرہ ...

مزید پڑھیے

لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں

لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں پرانے دوست نیا روپ دھار سکتے ہیں ہم اپنے لفظوں میں صورت گری کے ماہر ہیں کسی بھی ذہن میں منظر اتار سکتے ہیں بضد نہ ہو کہ تری پیروی ضروری ہے ہم اپنے آپ کو بہتر سدھار سکتے ہیں وہ ایک لمحہ کہ جس میں ملے تھے ہم دونوں اس ایک لمحے میں صدیاں گزار سکتے ...

مزید پڑھیے

دل جو تیشہ زنی پہ مائل ہے

دل جو تیشہ زنی پہ مائل ہے کچھ نہ کچھ راستے میں حائل ہے تو جو حیرت زدہ نہیں ہوتا تو مری گفتگو کا قائل ہے میں مسافر ہوں کہنہ رسموں کی میرے آگے رہ قبائل ہے کیا سناؤں میں حال دل کہ یہ دل تیری کج فہمیوں سے گھائل ہے رقص کرتا ہے حرف حرف مرا میرے لہجے میں کون پائل ہے میرے پیروں کو ڈسنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4590 سے 6203