ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا
ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا لب ہم نوائے خاطر مغرور ہو گیا بزم خیال یار میں ہے محو آرزو مجھ سے مرا خیال بہت دور ہو گیا مٹنا تھا کب تراوش زخم جگر کا رنگ ہاں رستے رستے زخم سے ناسور ہو گیا تھا جلوہ گاہ یار مرا دامن نگاہ جس ذرہ پر نگاہ پڑی طور ہو گیا بس اے سکون یاس زیادہ ستم نہ ...