قومی زبان

کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مرا

کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مرا کفر کے سایہ میں بڑھتا رہا اسلام مرا ساقیا میز پہ رہنے دے ابھی جام مرا مست آنکھوں نے تیری کر دیا الٹام مرا کیا کہا تو نے بڑھاپے میں نہ لے نام مرا حسن تھا خام ترا عشق نہیں خام مرا لڑتے ہی پہلی نظر جان تصدق کر دی ہو گیا ساتھ ہی آغاز کے انجام ...

مزید پڑھیے

شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہے

شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہے ادھر ان کی نظر ہے خود بخود شرمائی جاتی ہے ابے سالے رہا ہے رات بھر دشمن کے پہلو میں ترے چہرے سے کچھ شرمندگی سی پائی جاتی ہے دیا کرتے ہیں مجھ کو آتشیں رخسار کا بوسہ سمجھتا ہوں طبیعت اب میری گرمائی جاتی ہے بڑھاپا ہے کہ مجھ پر رات دن وہ آئے ...

مزید پڑھیے

آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوں

آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوں ننگا گلے سے تم کو لگائے ہوئے تو ہوں گو لاکھ میں فراق میں کمزور ہو گیا الفت کا بوجھ سر پر اٹھائے ہوئے تو ہوں پورا پتا نہیں ہے کہ جاتے ہو کس جگہ کچھ کچھ تمہارے بھید کو پائے ہوئے تو ہوں تم پھر بھی کہہ رہے ہو کہ تسکیں نہیں ہوئی حالانکہ سارا زور ...

مزید پڑھیے

اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میں

اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میں کون منہ مارے دہکتے ہوئے انگاروں میں طالب دید کو جب دید کا موقع نہ ملا لاکھوں سوراخ کئے یار کی دیواروں میں آج کیا تو نے عیادت کا کیا ہے وعدہ کھلبلی آج مچی ہے تیرے بیماروں میں سینکڑوں بوتلیں اور بیسیوں ساغر ٹوٹے ہاتھا پائی جو ذرا ہو گئی مے ...

مزید پڑھیے

زیب گلشن نہ بنے رونق ویرانہ بنے

زیب گلشن نہ بنے رونق ویرانہ بنے کتنے ہشیار تھے جو عشق میں دیوانہ بنے جرأت دید اگر میری تماشہ نہ بنے در حقیقت مرا افسانہ پھر افسانہ بنے کچھ پتنگوں ہی پہ موقوف نہیں جان وفا جو بھی آ جائے تری بزم میں پروانہ بنے کتنے دلچسپ ہیں اس شوخ نظر کے انداز کوئی دیوانہ نہ بنتا ہو تو دیوانہ ...

مزید پڑھیے

منسلک ہو کر تمہارے نام سے

منسلک ہو کر تمہارے نام سے مطمئن ہوں گردش ایام سے بن گئے میرے لیے الزام سے جو پیام آئے تمہارے نام سے ہے تصور میں ترے گیسو کی چھاؤں نیند آئی ہے بڑے آرام سے جن کی تحریروں سے پہچانا گیا کچھ خطوط ایسے بھی تھے گمنام سے آج تنہا آپ ہی رسوا نہیں ہو گئے ہیں ہم بھی کچھ بدنام سے تیرے آنے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا

آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا دنیا اجڑ گئی کہ مرا دل اجڑ گیا اللہ کیسا تفرقہ مرنے سے پڑ گیا میں ایک ساتھ سارے جہاں سے بچھڑ گیا اب سوز دل کے ناز اٹھائے نہ جائیں گے آنسو جہاں گرا وہیں ناسور پڑ گیا مرنا پڑا کسے ترے ذوق گناہ سے اے دل خبر بھی ہے کوئی غیرت سے گڑ گیا آنکھوں میں اب ...

مزید پڑھیے

عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیا

عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیا یعنی بنا دیا کبھی گاہے مٹا دیا ہوتی نہ تاب جلوۂ پنہاں کلیم کو کیوں تو نے پردۂ رخ زیبا اٹھا دیا پوچھا جو اس سے ہستئ عالم کے راز کو ظالم نے اپنا نقش کف پا دکھا دیا ہم ابتدائے سوز محبت میں جل بجھے وہ شمع ہیں کہ شام سے مجھ کو بجھا دیا گویا کہ ہم بھی ...

مزید پڑھیے

ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی

ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی ابد کیا صرف اک بدلی ہوئی سرخی فسانے کی تڑپتی بجلیاں پھر خانہ‌ بربادی کے درپئے ہیں قفس کی خیر یا رب ہو چکی خیر آشیانے کی ہماری زندگی بھی ایک فرصت تھی مگر کتنی فقط رنگ تمنا کے چڑھانے یا اڑانے کی قفس اک تار ہے تن ایک مٹی کا گھروندا ہے حقیقت قید ...

مزید پڑھیے

نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہونا

نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہونا حدیث شوق سے حرف و زباں کا بے خبر ہونا محیط دہر کی ہر موج ہے اک لہر بجلی کی مبارک آہ مضطر کو تری برق نظر ہونا شکایت سنج قدرت کیوں نہ ہو مجبوریٔ بلبل قفس ہی میں تھا کیا جوش نمو سے بال و پر ہونا مری آہوں کی ہلچل ہے نظام دہر برہم ہے ندائیں آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4587 سے 6203