قومی زبان

اتنا بھی نہ ساقی ہوش رہا پی کر یہ ہمیں مے خانہ تھا

اتنا بھی نہ ساقی ہوش رہا پی کر یہ ہمیں مے خانہ تھا گردش میں ہماری قسمت تھی چکر میں ترا پیمانہ تھا محروم تھا سوز الفت سے جل جانے سے بیگانہ تھا فانوس کے اندر شمع رہی باہر باہر پروانہ تھا مے خانہ سے ہم رخصت جو ہوئے تو اور ہی کچھ مے خانہ تھا اک کونے میں خم رکھا تھا اک گوشے میں پیمانہ ...

مزید پڑھیے

آزار و جفائے پیہم سے الفت میں جنہیں آرام نہیں

آزار و جفائے پیہم سے الفت میں جنہیں آرام نہیں وہ جیتے ہیں لیکن ان کو مرنے کے سوا کچھ کام نہیں افلاک کی گردش سے دم بھر دنیا میں ہمیں آرام نہیں وہ دن نہیں وہ اب رات نہیں وہ صبح نہیں وہ شام نہیں کیوں ہم نے محبت کی ان سے دقت میں پھنسے زحمت میں پھنسے آغاز ہی میں دل میں کہتا تھا اچھا اس ...

مزید پڑھیے

ان سے کہہ دو کہ علاج دل شیدا نہ کریں

ان سے کہہ دو کہ علاج دل شیدا نہ کریں یہی اچھا ہے کہ بیمار کو اچھا نہ کریں کیا کہا پھر تو کہو ہم کوئی شکوا نہ کریں چپ رہیں ظلم سہیں ظلم کا چرچا نہ کریں یہ تماشا تو کریں رخ سے اٹھا دیں وہ نقاب ایک عالم کو مگر محو تماشا نہ کریں وقت آخر تو نکل جائے تمنا میری وہ نہ ایسے میں بھی آئیں ...

مزید پڑھیے

یاد آتا ہے سماں مجھ کو خود آرائی کا

یاد آتا ہے سماں مجھ کو خود آرائی کا چاندنی رات میں عالم تری انگڑائی کا آئنہ آئنہ رویوں کو یہ دیتا ہے سبق کچھ سمجھ بوجھ کے دعویٰ کرو یکتائی کا اور بھی جوش بڑھا ہو گئیں موجیں بے تاب عکس دریا میں پڑا جب تری انگڑائی کا میرے دل میں مری آنکھوں میں ہیں تیری شکلیں زیب دیتا نہیں دعویٰ ...

مزید پڑھیے

نہ رہے تم جو ہمارے تو سہارا نہ رہا

نہ رہے تم جو ہمارے تو سہارا نہ رہا کوئی دنیائے محبت میں ہمارا نہ رہا اب کوئی اور زمانے میں سہارا نہ رہا جس کو کہتے تھے ہمارا ہے ہمارا نہ رہا دے دیا حضرت عیسیٰ نے اسے صاف جواب تیرے بیمار کا اب کوئی سہارا نہ رہا کیا کہیں حال زمانے کا خلاصہ یہ ہے تم ہمارے نہ رہے کوئی ہمارا نہ ...

مزید پڑھیے

تم کو یہ ہے اگر یقیں دل میں وہ جلوہ گر نہیں

تم کو یہ ہے اگر یقیں دل میں وہ جلوہ گر نہیں ڈھونڈھا کرو تمام عمر ملنے کا عمر بھر نہیں آئے نہ آئے بے خبر کیا تجھے یہ خبر نہیں سانس کا اعتبار کیا شام ہے تو سحر نہیں دیر ہو کعبہ ہو کہ دل کس میں وہ جلوہ گر نہیں دیکھ سکوں مگر اسے اتنی مری نظر نہیں کنج قفس میں عندلیب مضطر و بیکس و ...

مزید پڑھیے

کسی طرح بھی کسی سے نہ دل لگانا تھا

کسی طرح بھی کسی سے نہ دل لگانا تھا خیال یار میں دنیا کو بھول جانا تھا جو بے رخی تھی یہی رخ نہیں چھپانا تھا مرے خیال میں بھی آپ کو نہ آنا تھا اسی سبب سے وہ پردے میں چھپ کے بیٹھے ہیں کہ پردے پردے میں کچھ ان کو رنگ لانا تھا ازل سے روح جو پھونکی گئی ہے ذروں میں تو یہ سمجھ لو کہ جلوہ ...

مزید پڑھیے

پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھے

پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھے سب راستے کھلے تھے مگر ہم پہ وا نہ تھے یہ اور بات شوق سے ہم کو سنا گیا پھر بھی وہی سنایا سنا اک فسانہ تھے اک آگ سائبان تھا سر پر تنا ہوا پل پل زمیں سرکتی تھی اور ہم روانہ تھے دریا میں رہ کے کوئی نہ بھیگے تو کس طرح ہم بے نیاز تیری طرح اے خدا نہ ...

مزید پڑھیے

ایک عالم ہے یہ حیرانی کا جینا کیسا

ایک عالم ہے یہ حیرانی کا جینا کیسا کچھ نہیں ہونے کو ہے اپنا یہ ہونا کیسا خون جمتا سا رگ و پے میں ہوئے شل احساس دیکھے جاتی ہے نظر ہول تماشا کیسا ریگزاروں میں سرابوں کے سوا کیا ملتا یہ تو معلوم تھا ہے اب یہ اچنبھا کیسا آبلے پاؤں کے سب پھوٹ بہے بے نشتر راس آیا ہمیں ان خاروں پہ چلنا ...

مزید پڑھیے

کانٹے ہوں یا پھول اکیلے چننا ہوگا

کانٹے ہوں یا پھول اکیلے چننا ہوگا ہم جیسا محتاط ہمیشہ تنہا ہوگا فکر و تردد میں ہر دم کیا گھلتے رہنا ہوگا تو بس وہ ہی جو کچھ ہونا ہوگا اس سے کیا کہنا ہے پہلے یہ تو طے ہو پھر سوچیں گے کیا انجام ہمارا ہوگا جن میں کھو کر ہم خود کو بھی بھول گئے ہیں کیا ہم کو بھی ان آنکھوں نے ڈھونڈا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4575 سے 6203