دانستہ جو ہو نہ سکے نادانی سے ہو جاتا ہے
دانستہ جو ہو نہ سکے نادانی سے ہو جاتا ہے آگ کا دریا پار بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے حد نظر تک اک تنہائی خاک اڑاتی پھرتی ہے صحرا بے بس اپنی ہی ویرانی سے ہو جاتا ہے جتنی عمر سرابوں کا پیچھا کرنے میں گزرتی ہے اتنا گہرا پیاس کا رشتہ پانی سے ہو جاتا ہے گھر سے نکلنا بھی مشکل ہے گھر میں ...