خود پر جو اعتماد تھا جھوٹا نکل گیا
خود پر جو اعتماد تھا جھوٹا نکل گیا دریا مرے قیاس سے گہرا نکل گیا شاید بتا دیا تھا کسی نے مرا پتہ میلوں مری تلاش میں رستہ نکل گیا سورج غروب ہوتے ہی تنہا ہوئے شجر جانے کہاں اندھیروں میں سایہ نکل گیا دامن کے چاک سینے کو بیٹھے ہیں جب بھی ہم کیوں بار بار سوئی سے دھاگا نکل گیا کچھ ...