قومی زبان

خود پر جو اعتماد تھا جھوٹا نکل گیا

خود پر جو اعتماد تھا جھوٹا نکل گیا دریا مرے قیاس سے گہرا نکل گیا شاید بتا دیا تھا کسی نے مرا پتہ میلوں مری تلاش میں رستہ نکل گیا سورج غروب ہوتے ہی تنہا ہوئے شجر جانے کہاں اندھیروں میں سایہ نکل گیا دامن کے چاک سینے کو بیٹھے ہیں جب بھی ہم کیوں بار بار سوئی سے دھاگا نکل گیا کچھ ...

مزید پڑھیے

خواب جینے نہیں دیں گے تجھے خوابوں سے نکل

خواب جینے نہیں دیں گے تجھے خوابوں سے نکل وقت برباد نہ کر رائیگاں سوچوں سے نکل دشت امکان میں دریا بھی ہے بادل بھی ہیں شرط بس اتنی ہے تو اپنے سرابوں سے نکل ایک بے رنگ سی تصویر بنا لے خود کو رنگ یکساں نہیں رہتے کبھی رنگوں سے نکل ورنہ تو اپنے ہی اندر کہیں بجھ جائے گا کھل کے اب سامنے ...

مزید پڑھیے

وہ چپ تھا دیدۂ نم بولتے تھے

وہ چپ تھا دیدۂ نم بولتے تھے کہ اس کے چہرے سے غم بولتے تھے سبب خاموشیوں کا میں نہیں تھا مرے گھر میں سبھی کم بولتے تھے یہی جو شہر کا ہے آج مرکز یہاں سناٹے پیہم بولتے تھے ترستے ہیں اسی تنہائی کو ہم کوئی سنتا تھا اور ہم بولتے تھے کوئی بھی گھر میں جب ہوتا نہیں تھا در و دیوار باہم ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کے خواب کی تعبیر تھی بالکل الگ

چاہتوں کے خواب کی تعبیر تھی بالکل الگ اور جینا پڑ رہی ہے زندگی بالکل الگ وہ الگ احساس تھا جب کشتیاں موجوں میں تھیں لگ رہی ہے اب کنارے سے ندی بالکل الگ اور کچھ محرومیاں بھی زندگی کے ساتھ ہیں ہر کمی سے ہے مگر تیری کمی بالکل الگ ایک انجانی صدا نے کیا پتہ کیا کہہ دیا روٹھ کر بیٹھی ...

مزید پڑھیے

کب تلک چلنا ہے یوں ہی ہم سفر سے بات کر

کب تلک چلنا ہے یوں ہی ہم سفر سے بات کر منزلیں کب تک ملیں گی رہ گزر سے بات کر تجھ کو مل جائے گا تیرے سب سوالوں کا جواب کشتیاں کیوں ڈوب جاتی ہیں بھنور سے بات کر کب تلک چھپتا رہے گا یوں ہی اپنے آپ سے آئنے کے روبرو آ اپنے ڈر سے بات کر بڑھ چکی ہیں اب تری فکر و نظر کی وسعتیں جگنوؤں کو ...

مزید پڑھیے

ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتا ہوں میں

ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتا ہوں میں قطرہ قطرہ روز پگھل جاتا ہوں میں جب سے وہ اک سورج مجھ میں ڈوبا ہے خود کو بھی چھو لوں تو جل جاتا ہوں میں آئینہ بھی حیرانی میں ڈوبا ہے اتنا کیسے روز بدل جاتا ہوں میں میٹھی میٹھی باتوں میں معلوم نہیں جانے کتنا زہر اگل جاتا ہوں میں اب ٹھوکر کھانے ...

مزید پڑھیے

سب نے ہونٹوں سے لگا کر توڑ ڈالا ہے مجھے

سب نے ہونٹوں سے لگا کر توڑ ڈالا ہے مجھے کوزہ گر نے جانے کس مٹی سے ڈھالا ہے مجھے اس طرح تو اور منظر کی اداسی بڑھ گئی میں کہیں خود میں نہاں تھا کیوں نکالا ہے مجھے شاخ پر رہ کر کہاں ممکن تھا میرا یہ سفر اب ہوا نے اپنے ہاتھوں میں سنبھالا ہے مجھے کیوں سجانا چاہتے ہو اپنی پلکوں پر ...

مزید پڑھیے

قابل شرح مرا حال دل زار نہ تھا

قابل شرح مرا حال دل زار نہ تھا سننے والے تو بہت تھے کوئی غم خوار نہ تھا اب وہ جینے کے لئے سوچ رہا ہے تدبیر اپنے ہاتھوں جسے مرنا کبھی دشوار نہ تھا مجھ سے پوچھو تو قضا اس کی ہے موت اس کی ہے دوش احباب پہ جو مر کے گراں بار نہ تھا چنتے تھے باغ میں آ آ کر انہیں اہل جنوں آشیاں کا مرے ...

مزید پڑھیے

جینے والا یہ سمجھتا نہیں سودائی ہے

جینے والا یہ سمجھتا نہیں سودائی ہے زندگی موت کو بھی ساتھ لگا لائی ہے یہ بھی مشتاق ادا وہ بھی تمنائی ہے کھنچ کے دنیا ترے کوچے میں چلی آئی ہے کھل گئے نزع میں اسرار طلسم ہستی زیست کہتے ہیں جسے موت کی انگڑائی ہے کہہ گئے اہل چمن یہ ترے دیوانوں سے ہوش میں آؤ زمانے میں بہار آئی ...

مزید پڑھیے

جو نہ کرنا تھا کیا جو کچھ نہ ہونا تھا ہوا

جو نہ کرنا تھا کیا جو کچھ نہ ہونا تھا ہوا چار دن کی زندگی میں کیا کہیں کیا کیا ہوا یہ سمجھ کر ہم نہیں کہتے کسی سے راز دل اس طرف نکلا زباں سے اس طرف چرچا ہوا بھر کے ٹھنڈی سانس لیں بیمار نے جب کروٹیں وہ کلیجہ تھام کر کہنے لگے یہ کیا ہوا سنیے سنیے آتش غم سے ہوئے ہم جل کے خاک کہیے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4572 سے 6203