قومی زبان

ان کی گود میں سر رکھ کر جب آنسو آنسو رویا تھا

ان کی گود میں سر رکھ کر جب آنسو آنسو رویا تھا کچھ لمحے گزرے وہ لمحہ میری آنکھوں سے گزرا تھا اے ساٹن کے نیلے پردو تم پر یہ کس کا سایہ ہے کیا مجھ کو کچھ وہم ہوا ہے یا سچ مچ کوئی آیا تھا جیسے دروازہ وا کر کے نکلا ہے کوئی کمرے سے جیسے اک دو لمحے گزرے صوفے پر کوئی بیٹھا تھا سچ سچ کہنا ...

مزید پڑھیے

جسم میں خواہش نہ تھی احساس میں کانٹا نہ تھا

جسم میں خواہش نہ تھی احساس میں کانٹا نہ تھا اس طرح جاگا کہ جیسے رات بھر سویا نہ تھا اب یہی دکھ ہے ہمیں میں تھی کمی اس میں نہ تھی اس کو چاہا تھا مگر اپنی طرح چاہا نہ تھا جانے والے وقت نے دیکھا تھا مڑ کر ایک بار گو ہمیں پہچانتا کم تھا مگر بھولا نہ تھا ہم بہت کافی تھے اپنے واسطے ...

مزید پڑھیے

اگر تجھ سے ہوں تو پھر اور کیا ہوں

اگر تجھ سے ہوں تو پھر اور کیا ہوں میں کس جیسا ہوں کس کس سے جدا ہوں مجھے معلوم ہے کتنا برا ہوں یہ کیا کم ہے کہ اپنا آئنہ ہوں کوئی دیوار سی ٹوٹی ہے شاید میں اندر ہی کہیں گرنے لگا ہوں کبھی تو سامنے آؤں گا اپنے کہ اپنی راہ میں کب سے کھڑا ہوں مجھے احساس نے گھیرا ہوا ہے میں اپنے آپ ...

مزید پڑھیے

نالے میں کبھی اثر نہ آیا

نالے میں کبھی اثر نہ آیا اس نخل میں کچھ ثمر نہ آیا اللہ ری میری بے قراری چین ان کو بھی رات بھر نہ آیا کہتا ہوں کہ آ ہی جائے گا صبر یہ فکر بھی ہے اگر نہ آیا غفلت کے پڑے ہوئے تھے پردے وہ پاس رہا نظر نہ آیا آنکھوں سے ہوا جو کوئی اوجھل بیخودؔ مجھے کچھ نظر نہ آیا

مزید پڑھیے

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں عید ہے اور ہم کو عید نہیں چھیڑ دیکھو کہ خط تو لکھا ہے میرے خط کی مگر رسید نہیں جانتے ہوں امیدوار مجھے ان سے یہ بھی مجھے امید نہیں یوں ترستے ہیں مے کو گویا ہم پیر مے خانہ کے مرید نہیں خون ہو جائیں خاک میں مل جائیں حضرت دل سے کچھ بعید نہیں آؤ میرے مزار ...

مزید پڑھیے

درد دل میں کمی نہ ہو جائے

درد دل میں کمی نہ ہو جائے دوستی دشمنی نہ ہو جائے تم مری دوستی کا دم نہ بھرو آسماں مدعی نہ ہو جائے بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے طالع بد وہاں بھی ساتھ نہ دے موت بھی زندگی نہ ہو جائے اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں عاشقی بندگی نہ ہو جائے کہیں بیخودؔ تمہاری ...

مزید پڑھیے

رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہے

رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہے یہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہے دعا کو نہیں راہ ملتی فلک کی کچھ ایسا ہجوم بلا ہو رہا ہے وہ جو کر رہے ہیں بجا کر رہے ہیں یہ جو ہو رہا ہے بجا ہو رہا ہے وہ نا آشنا بے وفا میری ضد سے زمانے کا اب آشنا ہو رہا ہے چھپائے ہوئے دل کو پھرتے ہیں بیخودؔ کہ ...

مزید پڑھیے

ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں

ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں اللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیں آفت میں پھنسائیں گی دیوانہ بنائیں گی وہ غالیہ سا زلفیں وہ ہوش ربا آنکھیں کیا جانیے کیا کرتا کیا دیکھتا کیا کہتا زاہد کو بھی میری سی دیتا جو خدا آنکھیں رحم ان کو نہ آیا تھا تو شرم ہی آ جاتی بیداد کے شکوے پر ...

مزید پڑھیے

پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا

پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا حسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہوا وہ میری آہ جو شرمندۂ اثر نہ ہوئی وہ میرا درد جو منت کش دوا نہ ہوا خیال میں نہ رہیں صورتیں عزیزوں کی وطن سے چھوٹے ہوئے اس قدر زمانہ ہوا وہ داغ جس کو جگہ دل میں دی تھی جیتے جی چراغ بھی تو ہمارے مزار کا نہ ہوا پری ...

مزید پڑھیے

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا ہزار شکر وہ عاشق تو جانتے ہیں مجھے جو کہتے ہیں کہ ترا دل کہیں ضرور آیا جو با حواس تھا دیکھا اسی نے جلوۂ یار جسے سرور نہ آیا اسے سرور آیا خدا وہ دن بھی دکھائے کہ میں کہوں بیخودؔ جناب داغؔ سے ملنے میں رام پور آیا

مزید پڑھیے
صفحہ 4562 سے 6203