ان کی گود میں سر رکھ کر جب آنسو آنسو رویا تھا
ان کی گود میں سر رکھ کر جب آنسو آنسو رویا تھا کچھ لمحے گزرے وہ لمحہ میری آنکھوں سے گزرا تھا اے ساٹن کے نیلے پردو تم پر یہ کس کا سایہ ہے کیا مجھ کو کچھ وہم ہوا ہے یا سچ مچ کوئی آیا تھا جیسے دروازہ وا کر کے نکلا ہے کوئی کمرے سے جیسے اک دو لمحے گزرے صوفے پر کوئی بیٹھا تھا سچ سچ کہنا ...