قومی زبان

لوگ سارے بھلے نہیں ہوتے

لوگ سارے بھلے نہیں ہوتے ہاں مگر سب برے نہیں ہوتے مدتوں دیکھ بھال ہے لازم پیڑ یوں ہی کھڑے نہیں ہوتے وہ پتنگوں کا پیار کیا جانے جن کے گھر میں دیئے نہیں ہوتے عشق چھپ کر کوئی بھلے کر لے راز ان کے چھپے نہیں ہوتے خواب ان کو حسین لگتا ہے نیند سے جو جگے نہیں ہوتے پھول سمجھا نہ ہوتا ...

مزید پڑھیے

کائنات آرزو میں ہم بسر کرنے لگے

کائنات آرزو میں ہم بسر کرنے لگے سب بہت نفرت سے کیوں ہم پر نظر کرنے لگے تیرے ہر لمحہ کا ہم نے آج تک رکھا حساب یہ الگ ہے بات خود کو بے خبر کرنے لگے زندگی کو الوداع کہہ کر چلا جاؤں گا میں جب مری تنہائی مجھ کو در بدر کرنے لگے ملک کی بربادیاں اس وقت طے ہو جائیں گی جب بری تہذیب بچوں پر ...

مزید پڑھیے

محبت کی گلی سے ہم جہاں ہو کر نکل آئے

محبت کی گلی سے ہم جہاں ہو کر نکل آئے غزل کہنے کے تب سے خود بہ خود منظر نکل آئے ہمارے حال پر کوئی بھی ہوتا جی نہیں پاتا غزل نے ہاتھ جب پکڑا تو ہم بچ کر نکل آئے یہ سرکاری محل بھی کس قدر کچے نکلتے ہے ذرا بارش ہوئی بنیاد کے پتھر نکل آئے سفارش کے بنا جب بھی چلے ہم حسرتیں لے کر ہوئی جب ...

مزید پڑھیے

دونوں کی آرزو میں چمک برقرار ہے

دونوں کی آرزو میں چمک برقرار ہے میں اس طرف ہوں اور وہ دریا کے پار ہے دنیا سمجھ رہی ہے کی اس نے بھلا دیا سچ یہ ہے اس کو اب بھی مرا انتظار ہے شاید مجھے بھی عشق نے شاداب کر دیا میرے دل و دماغ میں ہر پل خمار ہے کیوں میں نے اس کے پیار میں دنیا اجاڑ لی اس بات سے وہ شخص بہت شرمسار ہے تو ...

مزید پڑھیے

جو میری چھت کا رستہ چاند نے دیکھا نہیں ہوتا

جو میری چھت کا رستہ چاند نے دیکھا نہیں ہوتا تو شاید چاندنی لے کر یہاں اترا نہیں ہوتا دعائیں دو تمہیں مشہور ہم نے کر دیا ورنہ نظر انداز کر دیتے تو یہ جلوا نہیں ہوتا ابھی تو اور بھی موسم پڑے ہے میرے سائے میں میں برگد کا شجر ہوں مدتوں بوڑھا نہیں ہوتا حسینوں سے تمنائے وفا کم ظرف ...

مزید پڑھیے

یہ حادثہ مری آنکھوں سے گر نہیں ہوتا

یہ حادثہ مری آنکھوں سے گر نہیں ہوتا تو کوئی غم بھی مرا ہم سفر نہیں ہوتا ہوا کے خوف سے لو تھرتھراتی رہتی ہے بجھے چراغ کو آندھی کا ڈر نہیں ہوتا قدم قدم پہ یہاں غم کی دھوپ بکھری ہے کوئی سفر بھی خوشی کا سفر نہیں ہوتا خدا کی طرح مرے دل میں گر نہ تو بستا تو میرا دل بھی عبادت کا گھر ...

مزید پڑھیے

ترکیب صرفی

نوک مینار پہ اٹکی ہوئی قمری سے بھلا کیا پتہ خاک چلا ''آسماں حد نظر ہے کہ کمیں گاہ رقیب؟'' میں بتاتا ہوں مگر اپنے سخن بیچ میں ہے آسماں ایک کبوتر ہے کہ جس کے خوں کی پیاس میں سیکڑوں عقاب اڑا کرتے ہیں موت بدکار شرابی ہے پڑوسی میرا روز دروازے کے اس پار جو گر جاتا ہے زندگی ایک چھچھوندر ہے ...

مزید پڑھیے

نظم

ابھی کچھ دن مجھے اس شہر میں آوارہ رہنا ہے کہ اب تک دل کو اس بستی کی شامیں یاد آتی ہیں جہاں بیلے کی جھاڑی میں کسی ناگن کی بانبی تھی ابھی تک دل یہ کہتا ہے کہ اس بستی میں پھر جاؤ بھرو دامن کو پھولوں سے بدن ناگن سے ڈسواؤ جہاں اب ہوں وہاں بیلا ہے نہ ناگن کی بانبی ہے اسی کارن یہ ظالم دل ...

مزید پڑھیے

عقل حیران ہے رحمت کا تقاضا کیا ہے

عقل حیران ہے رحمت کا تقاضا کیا ہے دل کو تقصیر کی ترغیب تماشا کیا ہے انہیں جب غور سے دیکھا تو نہ دیکھا ان کو مقصد اس پردے کا اک دیدۂ بینا کیا ہے ہم شہادت کا جنوں سر میں لیے پھرتے ہیں ہم مجاہد ہیں ہمیں موت کا کھٹکا کیا ہے اڑتا پھرتا ہوں میں صحرا میں بگولے کی طرح کچھ نہیں علم مرا ...

مزید پڑھیے

بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئی

بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئی ہم سے بارات فریبوں کی سجائی نہ گئی آج بھی دار کے تختہ سے صدا آتی ہے حق کی آواز ستم گر سے دبائی نہ گئی دوست کرتے ہیں حسد اس لیے تیری تصویر ماسوا دل کے کہیں اور سجائی نہ گئی غم کی تصویر بنانے کو میں جب بھی بیٹھا ان کی مسکان ابھر آئی بنائی نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4537 سے 6203