قومی زبان

رنگ اور نور کی تمثیل سے ہوگا کہ نہیں

رنگ اور نور کی تمثیل سے ہوگا کہ نہیں شب کا ماتم مری قندیل سے ہوگا کہ نہیں دیکھنا یہ ہے کہ جنگل کو چلانے کے لئے مشورہ ریچھ سے اور چیل سے ہوگا کہ نہیں آیت تیرہ شبی پڑھتے ہوئے عمر ہوئی سامنا اب بھی عزازیل سے ہوگا کہ نہیں زرد مٹی میں اترتی ہوئی اے قوس قزح خواب پیدا تری ترسیل سے ہوگا ...

مزید پڑھیے

جرس اور ساربانوں تک پہنچنا چاہتا ہے

جرس اور ساربانوں تک پہنچنا چاہتا ہے یہ دل اگلے زمانوں تک پہنچنا چاہتا ہے جنونی ہو گیا ہے میرے دریاؤں کا پانی پہاڑوں کے گھرانوں تک پہنچنا چاہتا ہے گزرنا چاہتی ہے بادلوں سے میری حیرت مرا شک آسمانوں تک پہنچنا چاہتا ہے پتنگا ایک پاگل ہو گیا ہے روشنی میں فرشتوں کی اڑانوں تک ...

مزید پڑھیے

ایک بجھاؤ ایک جلاؤ خواب کا کیا ہے

ایک بجھاؤ ایک جلاؤ خواب کا کیا ہے آنکھوں میں رکھ کر سو جاؤ خواب کا کیا ہے پاؤں تلے ہے روند کے گزرو کچل کے دیکھو پیچھے جاؤ آگے آؤ خواب کا کیا ہے شیلف پہ الٹا کر کے رکھ دو اور بسرا دو گل دانوں میں پھول سجاؤ خواب کا کیا ہے خواب کا کیا ہے رات کے نقش و نگار بناؤ رات کے نقش و نگار بناؤ ...

مزید پڑھیے

گیا کہ سیل رواں کا بہاؤ ایسا تھا

گیا کہ سیل رواں کا بہاؤ ایسا تھا وہ ایک خواب جو کاغذ کی ناؤ ایسا تھا کسی کو بھی نہ تھا آسان سانس کا لینا مری زمیں پہ ہوا کا دباؤ ایسا تھا لہو کی دھار سلامت رہی نہ سانس کا تار مجھے جو کاٹ گیا وہ کٹاؤ ایسا تھا وہ ٹمٹماتا تو اس کی ضیا بھی کم پڑتی کسی دیے سے لہو کا لگاؤ ایسا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

رمز آشنائے فصل بہاراں کوئی نہ تھا

رمز آشنائے فصل بہاراں کوئی نہ تھا سب مدعی تھے چاک گریباں کوئی نہ تھا دیوانے دشت میں بھی نصیب آزما چکے واں بھی سکون قلب کا ساماں کوئی نہ تھا کیا کیا ترے مریض کو تھے ناز درد پر جب بس میں چارہ گر کے بھی درماں کوئی نہ تھا شاید یہ کائنات تھی مے خانہ ان دنوں جب امتیاز گبر و مسلماں ...

مزید پڑھیے

دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے

دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے ہم اگر رقص میں ہیں سارا جہاں رقص میں ہے حیرت آئنہ تنہا نہ یہاں رقص میں ہے جانے کیا دیکھ لیا دل نے کہ جاں رقص میں ہے چشم ساقی میں ہے جس دن سے مرا شیشۂ دل عالم کار گہ شیشہ گراں رقص میں ہے جب سے اس نام کا آیا ہے ادا کر لینا کون جانے یہ حقیقت کہ ...

مزید پڑھیے

نقد دل ہے کہ گریبان کے ہر تار میں ہے

نقد دل ہے کہ گریبان کے ہر تار میں ہے حوصلہ اب بھی بہت تیرے خریدار میں ہے یاں کوئی شعلہ بجاں اور بھی ٹھہرا ہوگا کس قیامت کی تپش سایۂ دیوار میں ہے کتنا ملتا ہے مرے قلب کی کیفیت سے یہ جو ہنگامہ ترے کوچہ و بازار میں ہے زخم احساس کو جو زہر ہرا ہی رکھے تیغ آہن میں نہیں بات کی تلوار میں ...

مزید پڑھیے

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی ہم نے تو جرم محبت کی سزا مانگی تھی کیا خبر تھی کہ اندھیروں کو بھی شرما دیں گے جن اجالوں کے لئے ہم نے دعا مانگی تھی عشق میں راز بقا کیا ہے خبر تھی ہم کو ہم نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی فنا مانگی تھی مانگنے والوں میں شامل تو تھے ہم بھی لیکن ہم نے اس در ...

مزید پڑھیے

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں جنون شوق اسے بھی نہال کر جائیں یہ اور بات کہ ہم کو نظر نہیں آئے مگر وہ ساتھ ہی رہتا ہے ہم جدھر جائیں حیات عشق کا مقصود بن گئی آخر یہ آرزو کہ ترا نام لے کے مر جائیں یہ راہ عشق ہے آخر کوئی مذاق نہیں صعوبتوں سے جو گھبرا گئے ہوں گھر جائیں پہنچ ...

مزید پڑھیے

یادش بخیر ہے وہی چہرہ خیال میں

یادش بخیر ہے وہی چہرہ خیال میں سو جنتیں جوان ہیں گویا خیال میں کس شان سے شریک تری انجمن میں ہیں بیٹھے ہوں جیسے ہم کہیں تنہا خیال میں گزرا ہے عشق ہی میں یہ عالم بھی مدتوں تھی شام ذہن میں نہ سویرا خیال میں دیکھا تھا خواب میں انہیں نادم تو کیا کہیں کیوں اب تک آ رہا ہے پسینہ خیال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4513 سے 6203