قومی زبان

پھر مرحلۂ خواب بہاراں سے گزر جا

پھر مرحلۂ خواب بہاراں سے گزر جا موسم ہے سہانا تو گریباں سے گزر جا شیشے کے مکاں اور نظر کے متحمل دیوانہ نہ بن شہر نگاراں سے گزر جا سب قتل کے اسباب بہم ہیں سر مقتل ایسے میں پس و پیش نہ کر جاں سے گزر جا پھر دیں گے وہی مشورۂ ترک محبت احباب نما حلقۂ یاراں سے گزر جا کچھ دور نہیں منزل ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں کہ اب خدا کیا ہے

کیا بتاؤں کہ اب خدا کیا ہے آئنے میں یہ دوسرا کیا ہے سر سے پا تک مری نگاہ میں ہو منہ چھپانے سے فائدہ کیا ہے مسکراتا ہے جان لے کر بھی اب خدا جانے چاہتا کیا ہے دعویٔ عشق ہم تو کر بیٹھے تو سنا تیرا فیصلہ کیا ہے ہے بہت کچھ ابھی تو پردے میں دیکھتا جا ابھی ہوا کیا ہے علم بھی اک حجاب ہے ...

مزید پڑھیے

خیر سے اب ہے وہاں آپ کا بیمار کہ بس

خیر سے اب ہے وہاں آپ کا بیمار کہ بس اس قدر دیر لگا دی مرے سرکار کہ بس سیر ہوتا ہی نہیں ذوق تماشا لیکن مجھ سے کہتی ہے مری جرأت دیدار کہ بس ہجر کے نام پہ بھی وصل کے عنوان سے بھی عشق نے اتنے دئے ہیں مجھے آزار کہ بس کس قدر تھی وہ نظر آئنہ کردار نہ پوچھ اس قدر چور ہوا ہے بت پندار کہ ...

مزید پڑھیے

کہاں میں ابھی تک نظر آ سکا ہوں

کہاں میں ابھی تک نظر آ سکا ہوں خدا جانے کتنی تہوں میں چھپا ہوں یہ کس نے صدا دی مجھے زندگی نے مگر میں تو صدیاں ہوئیں مر چکا ہوں یہ کہہ کر تو منزل نے دل توڑ ڈالا جہاں سے چلا تھا وہی مرحلہ ہوں یہ دلچسپ وعدے یہ رنگیں دلاسے عجب سازشیں ہیں کہاں آ گیا ہوں ترا قرب حاصل ہوا بھی تو کیا ...

مزید پڑھیے

سارے نقوش جس پہ ترے آشیاں کے ہیں

سارے نقوش جس پہ ترے آشیاں کے ہیں دیر و حرم غبار اسی کارواں کے ہیں وادی و کوہسار و بیاباں و گلستاں اجزائے رنگ رنگ مری داستاں کے ہیں ہر چند کوئے یار بہت فاصلے پہ ہے بدلے ہوئے ابھی سے مزاج آسماں کے ہیں ہمدم ہنسی اڑا نہ دل داغ داغ کی تحفے دئیے ہوئے یہ کسی مہرباں کے ہیں ہوں ذہن کے ...

مزید پڑھیے

ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے

ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے تکمیل وفا ہے مٹ جانا جینے کی تمنا کون کرے جو غافل تھے ہشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہوئے جس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے ہر صبح کٹی ہر شام کٹی بیداد سہی افتاد سہی انجام محبت جب یہ ہے اس جنس کا سودا کون کرے حیراں ہیں ...

مزید پڑھیے

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی ان کی بدلتے ہی دنیا بدل گئی یہ دور انقلاب ہے خود نوشیوں کا دور ہر میکدے میں گردش مینا بدل گئی ہر پھول ہر کلی پہ برستا ہے اب لہو رنگینیٔ بہار چمن کیا بدل گئی نکھری ہوئی بہار میں چھالے ہیں خونچکاں اپنے قدم سے قسمت صحرا بدل گئی پیہم ٹپک پڑے جو بہ حسرت ...

مزید پڑھیے

جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں

جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں وہ سنتے ہیں ہم ان کو سر گذشت دل سناتے ہیں ادھر حق الیقیں ہے اب وہ آتے اب وہ آتے ہیں ادھر انجم مری اس ذہنیت پر مسکراتے ہیں شب غم اور مہجوری یہ عالم اور مجبوری ٹپک پڑتے ہیں آنسو جب وہ ہم کو یاد آتے ہیں وہیں سے درس حسن و عشق کا آغاز ہوتا ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی منحرف اہل جہاں ہو جائیں گے

کیا خبر تھی منحرف اہل جہاں ہو جائیں گے ہوتے ہوتے مہرباں نا مہرباں ہو جائیں گے مسکرا کر ان کا ملنا اور بچھڑنا روٹھ کر بس یہی دو لفظ اک دن داستاں ہو جائیں گے عشق صادق ہے تو اپنے عزم منزل کی قسم ہر قدم پر ساتھ لاکھوں کارواں ہو جائیں گے یہ مآل عشق ہوگا یہ کسے معلوم تھا دل کے نغمے ...

مزید پڑھیے

ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائے

ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائے بو تعصب کی ہر اک دل سے نکالی جائے اپنے دشمن کو بھی خود بڑھ کے لگا لو سینے بات بگڑی ہوئی اس طرح بنا لی جائے آپ خوش ہو کے اگر ہم کو اجازت دے دیں آپ کے نام سے اک بزم سجا لی جائے ہو کے مجبور یہ بچوں کو سبق دینا ہے اب قلم چھوڑ کے تلوار اٹھا لی جائے سوچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4514 سے 6203